قیصر محمود عراقی
دورِ حاضر میںبے روز گاری ،مہنگائی ،بد امنی ،سیاسی انتشار، بن بیاہی بیٹیاں اور کہیں نہ کہیں خودکشی، کسی بھی انسان کے لئے حوصلہ شکن ہوجاتی ہےاور وہ یہی سوچتا رہتا ہے کہ’’اب میں کیا کروں‘‘؟بے شک یہ سوال بجا بھی ہے عوام کے مایوس کن بھی۔ کوئی ہمت کر کے نوکری کی تلاش کے لیے نکلتا ہے تو بیروزگاری ہر موڑ پراُس کا منہ چڑھاتی ہے پھر جب وہ تھکا ہوا گھر آتا ہے، تو گھر کے مسئلوں کو دیکھ کر اُلجھ جاتا ہے کہ آخر وہ کرے بھی تو کیا کرے؟جب یہی سوال اپنوں سے کرتا ہے، تو اُسے بجائے حوصلہ اور ہمت دینے کے، مایوسی کی ہی راہ دکھا دیتے ہیں اور تسلی و تشفی دینے کے بجائے لڑنے جھگڑنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں کہ تم سارا دن باہر کیا کرتے رہو؟ ساری دنیا کام کرتی ہے، کیا بس تمہارے لیے کام ختم ہو گئے ہیں؟ اس طرح کے بہت سے سوالات اُس کی ذہن کو ماؤف کر دیتے ہیں۔ ذہن کا ماؤف ہونا ہی مایوسی کی طرف بڑھتا ہوا پہلا قدم ہے، جہاں ہر حوصلہ کی بجائے تنقید سامنے کیا جاتا ہو اور ایسی تنقید جس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔چنانچہ انسان کو مایوسی تب ہی زیادہ ہوتی ہے، جب وہ کسی دوسرے پر انحصار کرتے ہیںاورپھر وہی سوال اُس کے ذہن میں اُبھر آتا ہےکہ’’اب میں کیا کروں؟‘‘ اگر یہ سوال وہ کسی دوسرے سے کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر غور کرتے ہوئے خود سے کریں تو یقیناً مایوسی اُسے چھو کے بھی نہیں گزرے گی۔ انسان اپنا سب سے بڑا دشمن خود ہی تو ہے، کیونکہ اُسے جو کچھ بننا چاہیے، وہ کچھ بننے کے لیے وہ تیار نہیں۔ وہ ہمیشہ دوسروں کو دیکھتا رہتا ہے،اور اُن کے مقابلے میں اپنے آپ کمتر محسوس کرتا ہے۔جبکہ ہر انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ دوسروں کی طرف دیکھنے کی بجائےخود اپنی طرف دیکھے، کیونکہ انسان آپ ہی اپنا دوست بھی ہے اور آپ ہی اپنا دشمن بھی۔ انسان اپنی امکانیات کو استعمال کر کے کامیابی حاصل کرتا ہے اور جب وہ اپنی امکانیات کو استعمال نہ کرے تو اسی کا دوسرا نام ناکامی ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ کوششوں کا استعمال صحیح رُخ پر ہو۔ پانی کے قطرے قطرے سے پہاڑ میں بھی سوراخ ہو جاتا ہے تو پھر انسان اگر کوشش کرتا رہے تو کیا وہ کبھی کامیاب نہ ہو گا؟ ہم ایسا کرتے نہیں ہیں، ہم دوسروں پر انحصار کر کے خود کو مایوسی کے کنارے تک لے جاتے ہیں اور پھر یہ سوال سراپا اذیت بن کر اُٹھتا ہے کہ ’اب میں کیا کروں‘۔چنانچہ جس ملک کے لوگ اجتماعی طور پر علم سے باقاعدہ نفرت اور جہالت سے مجنونانہ عشق کرتے ہوں، وہاں اس قسم کے سوال کا پیدا ہونا اور لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھ جانا ایک منفی بات ہے۔ یہ سوال اگر اجتماعی نوعیت اختیار کر لے تو یہ ایک نہ صرف انہونی بات ہو گی بلکہ انتہائی خطرناک بات بھی ہو گی، سارے لوگ جب کم و بیش یکساں ہو کر سوچنا شروع کر دیں تو ان کی سوچ اپنی گہرائی اور گیرائی کے بنا پر جس بھی طرح کی عملی صورت کو جنم دے، وہ نہایت بھیانک ہو گی۔
ہمارے معاشرے میں بھی یہ سوچ بے چینی اور اضطرابی کی کروٹیں لے رہا ہے۔ بے چینی اور ذہنی خلفشار کی بے شمار پگڈنڈیوں میں سے ایک سیدھا راستہ دکھائی نہ دینے کے باعث بڑھتا جا رہا ہے اور اس قدر تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے کہ ڈر لگتا ہے کہ کہیں پھٹ نہ جائے، اگر پھٹ گیا تو سب کو لے ڈوبے گا۔بہر حال، ’اب میں کیا کروں‘کا اصل جواب یہ ہے کہ آپ اپنے خوف پر قابو رکھیں، منصوبہ بندی کریں اور عمل شروع کر دیں۔ اگر پچھلے تمام راستے بند نظر آئیں تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے ایک نئی راہ کا انتخاب کریں، کیونکہ انسان کی کوشش اور محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ ہر رات کے بعد ایک روشن صبح ضرور ہوتی ہے، ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے، اس لیے ناکام ہونے پر ہمت ہارنے کے بجائے نئی شروعات کریں،پُرسکون رہیں اور صبر سے کام لیں،جلد بازی میں لیاجانے والاکوئی بھی فیصلہ اکثر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
رابطہ۔6291697668