عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// جموں و کشمیر میں آیوشمان بھارت-صحت خدمات کے مستقبل پر بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان، وزیر صحت سکینہ ایتو نے پیر کو کہا کہ حکومت پرائیویٹ ہسپتالوں کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کی سرگرمی سے جانچ کر رہی ہے اور اس معاملے کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے کام کرے گی تاکہ استفادہ کرنے والوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔وزیر کا یہ تبصرہ ایک اہم وقت پر آیا ہے، جس میں جموں و کشمیر کے نجی ہسپتالوں اور ڈائیلاسز سینٹرز نے انتباہ دیا ہے کہ وہ دعوں کی ادائیگی اور زیر التوا ادائیگیوں میں تاخیر پر یکم جولائی سے آیوشمان بھارت-صحت سکیم سے دستبردار ہوسکتے ہیں۔
رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ متعدد فہرست میں شامل ہسپتالوں نے واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے شدید مالی دبا ئوکی شکایت کی ہے۔ایتو نے تسلیم کیا کہ پرائیویٹ ہسپتالوں نے سکیم کے تحت ادائیگیوں کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ خدشات کو جلد دور کیا جائے گا۔آیوشمان بھارت-صحت کو صحت کی دیکھ بھال کی ایک اہم پہل قرار دیتے ہوئے، وزیر نے کہا کہ اس سکیم نے خاندانوں پر مالی بوجھ ڈالے بغیر سرجریوں، خصوصی علاج اور ہسپتال میں داخلے تک رسائی کو قابل بنا کر معاشی طور پر کمزور طبقات کو اہم مدد فراہم کی ہے۔سکینہ ایتو نے کہا کہ حکومت اس مسئلے سے واقف ہے اور ایک حل کے لیے کام کر رہی ہے، اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ یہ سکیم جموں و کشمیر بھر میں غریب اور کمزور مریضوں کے لیے اہم ہے۔