دوبئی/انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اپنے چیف ایگزیکیوٹیو افسر (سی ای او) منو ساہنی کو اچانک چھٹی پر بھیج دیا ہے ۔ آئی سی سی نے آڈٹ فرم پرائس وارٹر ہاوس کوپرس (پی ڈبلیو سی) کی طرف سے ساہنی کی طریقہ کار پر جانچ کے بعد یہ قدم اٹھایا ہے ۔رپورٹوں کے مطابق ساہی مبینہ طورپر اپنے ساتھ ملازمین کے ساتھ سخت سلوک کی وجہ سے جانچ کے دائر ے میں ہیں۔ سنگاپور میں اپنی گزشتہ مدت کار کے دوران ان پر کچھ ایسے ہی الزامات لگے تھے ۔ رپورٹ میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ آئی سی سی کے دوبئی دفتر میں کام کرنے والے 90فیصد سے زیادہ ملازمین نے مبینہ طورپر پوچھ گچھ میں ان کے خلاف بیان دیئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ساہنی کا آمرانہ انداز ان سے پہلے کے افسران سے بہت مختلف ہے جو غالباً ملازمین کے لئے اچھا نہیں ہے ۔ 56سالہ ساہنی گزشتہ کچھ وقت سے دفتر بھی نہیں آرہے ہیں اور ایسے میں منگل کو انہیں چھٹی پر جانے کے لئے کہا گیا ہے ۔ساہنی کو آئی سی سی عالمی کپ 2019 کے بعد ڈیو رچرڈسن کی جگہ سی ای او بنایا گیا تھا اور اس وقت ششانک منوہر آئی سی سی کے صدر تھے۔ ساہنی کی موجودہ مدت کار کا فی الحال ایک سال اور باقی ہے ۔ اس سے پہلے وہ سنگاپور اسپورٹس ہب کے ساتھ جڑے ہوئے تھے ۔ انہوں نے سنگاپور میں ہی 17سال تک ای ایس پی این اسٹار اسپورٹس کے سربراہ کے طورپر بھی کام کیا ہے ۔