وہ ماضی جوہے اک مجموعہ اشکوں اور آہو ں کا
نہ جانے مجھ کو اس ماضی سے کیوں اتنی محبت ہے
( اختر انصاری )
کئی ناآشنا چہرے حجابوں سے نکل آئے
نئے کردار ماضی کی کتابوں سے نکل آئے
(خو ش بیر سنگھ شاد)
وہ جب بھی مانگتا ہے مجھ سے میرے ماضی کا حساب تو خاموشی سے کہہ دیتا ہوں ٹٹولو اس کتاب کو جس کے ہر صفحے پر میرا ماضی عیاں ہے اور یہ اظہار ان حالات ،ان واقعات اور تجربات کا ہے جن کا تعلق میری نو عمری اور لڑکپن سے ہے جس کا ہر لمحہ ساتھ ہے آورگی کا ،اس آورگی کا جس نے ٹھوکریں دیکر زندگی کا پختہ سفر عطا کیا ،جس نے دوستی کرائی تلخ یادوں سے، جس نے گاؤں کی ہر گلی سے واقف کرایا، جس نے دوستوں سے غمگساری کرنے کا سبق سکھایا، جس نے راتوں کو جاگنے کا ہنر عطا کیا، جس نے شام سانجھ سے اداس رہنے کا فن عطا کیا، جس نے تپتی دھوپ میںچلنے کا ارادہ قائم کرایا، جس نے برستی بارش میں بھیگنا سکھایا، جس نے بتایا شوق کو جان سے پالا کرو کیونکہ یہ عظیم نعمت ہے ۔ آوارگی زندگی کا حسین ترین دور کہلاتا ہے جس میں حضرت انسان آوارہ ہونے کے لئے جی جان لگاتا ہے تاکہ شرف آوارگی حاصل ہو سکے۔ عام معنوں میں آوارگی کو بد چلنی، عیاشی بدمعاشی سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن متعدد سطحوں پر آوارگی کو ان ہی معنوں میں مقید رکھنا نہ صرف سراسر نا انصافی ہے بلکہ جہالت بھی ہے کیونکہ آوارگی کو غلط تصور کرنا بذات خود ایک غلط خیال ہے ۔اگر کہا جائے آوارگی کوچہ گردی ہے ، ہرزہ گردی ہے ، بے سرو سامانی ہے ، خیالات کی پراگندگی ہے ، دل اور دماغ کی آپسی کشمکش ہے جس میں تپ کر آوارہ گرد پختہ خیالی کی اور سفر کر ناہے تو بے جانہ ہو گا حالانکہ آوارگی کا عمل love objectکی بنیاد پر اظہار انکار کی صورت میں جنم لیتا ہے جس میں آدمی کا دل و دماغ اور حیاتیاتی نظام برابر کا شریک رہتا ہے جس پر ہزار ہا علوم اور کتابیں موجود ہیں ۔
آوارگی وہ کوچہ گردی ہے جس سے اگر وقت پر صحیح سمت نہ دی گئی تو کوچہ ہی خراب ہو جائے گا بقول شاعر ؎
یہ اعجاز ہے حسنِ آوارگی کا
جہاں بھی گئے داستان چھوڑ آئے
آوارگی بعض اوقات دشت گردی پر مجبور کرتی ہے جس کی لاکھوں مثال آج بھی دنیا میں موجود ہیں مجنون نے دشت گردی میں عروج کمال حاصل کیا جہاں ان کا بدن لہولہان بھی ہوا لیکن مجنونی کا جنون اس قدر پختہ تھا کہ درد و کرب کی اذیّت سے بھی وہ پاک تھے جنھیں بس فکر اگر تھی تو لیلا کو پانے کی یعنی یہاں آوارگی کا حسن نکھر جاتا ے اوربالآخر دشت گردی کے سفر کی ہی جیت ہوتی ہے لیکن اس جیت کے کمال کو پہنچنا معمولی بات نہیں ہے بلکہ یہ ہنر مانگتی ہے صحرا نوردی کا شہیدپن کا ، گمراہی کا ، پراگندی کا ، جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے اسی لئے نامرادی کے عالم میں مایوس ہو کر کچھ عاشق سفرِ آوارگی سے آدھا راستہ ہی طے کر کے واپس لوٹ جاتے ہیں جن کے لئے بعض موقعوں پر زندگی انہیں ’’ناکام ‘‘ کا خطاب عطا کرتی ہے جو سماجی رویوّں کا مقابلہ کرنے میںبھی ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں ۔ عاشق تو وہ کہلاتے ہیںجو آوارگی میں بھی زندگی کے نازک کناروں پر ڈٹے رہتے ہیں جس میں جگر کاوی کا حوصلہ چائیے جو حالات پر ہنر آزما بھی ہوتے ہیں اور سماج کے اصولوں کو توڑ کر سینہ ٹھونک کر نئی راہیں قائم کرتے ہیں جنہیں سماج بھی آسانی سے قبول کرنے کے لئے مجبور ہو جاتا ہے ۔گویا یہاں آوارگی کا زمانہ اپنی ایک قوی سند رکھتا ہے یہ دوسری بات ہے کہ آدمی صحرا نوری اور بے آرامی کا شکار بھی ہو چکا ہوتا ہے ۔
شاعر اس کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے ؎
سدا آوارگی صحرا نووردی
نہ دے آرام شوق دشت گردی
آوارگی کا حسن یہ بھی ہے کہ بہت بدنامِ زمانہ آوارہ گرد اچانک بہت زیادہ نیک انسان بن جاتا ہے جس کے دامن کو مُصلح سے تعبیر کیا جاتا ہے اور وہ شخص زندگی کی نئی کتاب لکھنا چاہتا ہے جس کی شروعات یقیناً لفظ آوارگی سے کی جانی چاہئے تاکہ زندگی کی نئی شرح کو ماضی کی تفسیر سے یکسر رد نہ کیا جا سکے۔ زمانۂ آوارگی کی یادیں کوئی بھی شخص مٹانا نہیں چاہتا ہے چاہئے ذہن میں ہزار طوفانی لہریں بھی آئیں لیکن ماضی کی یادیں سالم انداز میں نہ صحیح غیر سا لمیت کے انداز میں اکثر یاد آتی ہیں اور آدمی عجیب سنسناہٹ ولذت سے محظوظ ہوجاتا ہے جس کا ظاہری سطح پر ہلکی سی شبنم کا لبوں کو غیر یقینیت کے عالم میں چھو کر کسی کے اب بھی یادوں میں محفوظ ہونے کا پتہ دیتی ہے ۔
ٹھہر گئے مگر آوارگی نہیں چھوڑی
زمانہ چھوڑدیا وہ گلی نہیں چھوڑی
(راحیل فاروق)
زمانہ آوارگی میں جو شخص آپ سے دوستی کرتا ہے یا جس سے آپ اپنا دوست سمجھتے ہیں وہ اپنے عزیزوں سے بھی عزیز لگتا ہے جو آپ کے دکھ درد کو اپنی نبض سے محسوس کرتا ہے جو آپ کے لئے مرنے کو بھی تیار ہے اور جس کے لئے آپ سب کچھ قربان کرنا چاہتے ہیں خواہ وہ آپ کے خونی رشتے ہی کیوں نہ ہوں ۔ زمانۂ آوارگی غمگساری اور چارہ سازی مانگتی ہیں جو صرف آپ کے قریبی دوست ہی آپ کو عطا کر سکتے ہیں غمگساری ایسی کہ کوئی غم ہی نہ آپ کو ستائے اور چارہ جوئی اس قدر کہ آپ زندگی بھر اس پل کو بھول نہیں پاتے کبھی لبِ بام ، کبھی گھر کی چھت پر ، ندی کے کنارے کنارے ، کبھی مہکتی ہواؤں میں، کبھی پکے فصل میں ، کبھی لالۂ زاروں میں ، کبھی دامانِ پہاڑ پر ، کبھی سمندر کی موجوں میں ، کبھی کالج کے کنٹین میں ، کبھی چنار کے چھاؤں میں ، کبھی لہلہاتے کھیتوں میں ، کبھی گلی اور کوچے ، کبھی مکتب کے پائین میں اور کبھی چلتی گاڑی میں غرض کہی بھی جہاں آپ کی آوارگی کو راحت محسوس ہو جائے۔ کچھ لوگوں کی آوارگی بالکل وقت کا زیاں ہوتا ہے جنھیں نہ ہی آوارگی قبول کرتی ہے نہ ہی انہیں عاشق کا درجہ ملتا ہے نہ ہی انہیں محبوب کا اتہ پتہ ہوتا ہے حالانکہ یہ افراد اس خبر سے بھی بے خبر رہتے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں وہ کیا کرنا چاہتے ہیں وہ کیوں آوارہ ہیں کیوں آوارہ ہوتے ہیں اور آوارگی سے ان کا رشتہ کون سا ہے ۔ ان جیسے لوگوں کی زندگی کا راز ڈھونڈ نکالنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن عمل ہے یہ جہاں و دنیا میںلاتعلقی کے عالم میں اپنے پیچھے حسین تفسیریں چھوڑ جاتے ہیں جو کسی بھی شخص کے لیے پڑھنے والی نہیں ہوتی ہے نیز ان کی پر اسراریت ہی بعضے انہیں لے ڈوبتی ہے جو ان کے لیے فنا اور بقا دونوں کا سامان رکھتی ہے ۔ ان کے متعلق لوگ سوچنا چھوڑ دیتے ہیں ویسے بھی اب کے دور میں لوگوں کے متعلق سوچنا یا ان کی خبر رکھنے کا فن کس کو آتا ہے ہاں یہ بات اپنی جگہ مقرر ہے کہ ماضی میں ہر کوئی ہر کسے کے مسلے میں بلا وجہ ٹانگ اڑانے کا فن جانتا تھا یہاں تک کہ محلے والی پڑوسی خالہ ، پھوپھی ،موسی اور چچی کو تو ایک نوالہ بھی تب تک حلق سے نہ اترتا جب تک پورے محلے کی بستی کو اپنی میٹھی شمشیر سے تیز نہایت پر اثر زبان کی خوبصورت باتوں سے جلا کر نہ رکھتی اور جب بستی کا سکون خاک ہوجاتا تب خود ہی واویلا کرتی پھرتی۔بہرحال بات ہورہی تھی ان عشاق کی جن کی داستانیں پر اسرار ہوا کرتی تھی وہ بھی عوام کے لیے ان حضرات کے لیے تھوڑی ہی ،ان کے لیے تو یہ طریقہ کار ایک انوکھی ریسرچ متھا ڈالوجی ثابت ہوتی تھی اور عوام الناس انہیں پاگل یا بے وقوف عاشق سمجھتی تھی لیکن ان کے لیے یہ عمل سودمند ثابت ہوتا تھا ۔جس کو شاعر نے یوں کہا ہے ؎
جوانی کی دوشیرگی کا تبسم
گلزار کے وہ کھلانے کی راتیں
پر اسرار سی میری عرض تمنا
وہ کچھ زیر لب مسکرانے کی راتیں
(فراق)
آپ کی ملاقات ان دوستوں سے بھی کرانا چاہوں گا جو اپنی نوجوانی ، جوانی ، ادھیڑپن یہاں تک کہ بوڑھاپا اپنے اس محبوب کے نام کرتے ہیں جس کے کان تک یہ خبر کبھی پہنچتی ہی نہیں ہے کہ فلاں نام کا شخص میرا عاشق ہے لیکن اُن عاشقوں کے جگر کاوائے کا کیا کیجئے جو محبوب کا دیا ہوا ہر غم اور ان کی ہر بات مقدس پیغام کی مانند قبول فرماتے ہیں۔ اچانک جب بھی کبھی اس عاشق کا سامنا اس محبوب سے ہوتا ہے جس کے لئے اُس نے اپنی عمر گنوا دی تو وہ محبوب اس سے علیک سلیک دریافت کر کے دفعتاً پوچھ بیٹھتا ہے کہ ابھی تک تم نے شادی کیوں نہیں کی؟ اور عاشق بے چارہ بغیر کچھ بولے ہونٹوں پر مصنوعی ہلکی سی تبسم لا کر کہتا ہے یہ بچی بہت خوبصورت ہے تو جواب ملتا ہے میری’’ تیسری لڑکی ہے ’ بیٹا ماما کو سلام کرو‘‘ ۔مختصر ملاقات ختم ہوئی دونوں اپنی اپنی راہ لیتے ہیں تو عاشق بے چارہ گنگناتا چلا جاتا ہے ۔ ؎
ہائے میری دیوانگی تم نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا
جن بچوں کا بننا تھاباپ ان کا ماما بنا ڈالا
بچوں کے ساتھ آج اسے دیکھا تو دُکھ ہوا
ان میں سے کوئی ایک بھی ماں پر نہیں گیا
(حسن عباس رضا )
���
(مقالہ نگار ڈگری کالج حاجن میں اسسٹنٹ پروفیسرہیں)