مینڈھر//اتوار کو بالاکوٹ میں گولہ باری کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں ۔مقامی لوگ اس قدر سہمے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے گھروںسے باہر نہیں نکلتے اور انہیں ہر قدم پھونک پھونک کر رہناپڑتاہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکار کی طرف سے بینکر تو بنائے جا رہے ہیں لیکن یہ بہت ہی کم تعداد میں بن رہے ہیں جن سے سبھی کو تحفظ نہیںمل سکے گا۔انہوںنے کہاکہ یہ بینکر ان کے گھروں کے نزدیک بنائے جانے چاہئے تھے لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا اور تیس سے چالیس لوگوں کے رہنے کے لئے بینکر تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ ماسٹر عنایت اللہ خان ،محفوظ خان ،فاضل خان اورمحمد مجید خا ن کاکہناہے کہ فائرنگ اور گولہ باری اچانک شروع ہو جاتی ہے جس کے بعد لوگ گھر سے دور بنکروں تک نہیں پہنچ سکتے جیسا کے دیوتا کے گائوں میں ہوااور پل بھر میں ایک ہی پورا خاندان اجڑ گیا ۔انہوںنے کہاکہ کمیونٹی بینکروں تک پہنچنے کیلئے کسی کو موقعہ بھی نہیں ملے گا اس لئے حکومت کو ہر گھر کے نزدیک بینکر تعمیر کرنے چاہئیں ۔ساتھ ہی انہوںنے دونوں ممالک سے اپیل کی کہ وہ گولہ باری اور فائرنگ کے سلسلے پر روک لگائیں اور بات چیت سے مسائل حل کئے جائیں ۔ انہوںنے کہاکہ انہیں اس لڑائی میں بطور ہتھیار استعمال نہ کیاجائے اور اگر ایسے ہی جنگ و جدل کا ماحول برقرار رکھناہے تو اس سے قبل انہیں محفوظ مقامات پر زمین الاٹ کر مکانات تعمیر کرکے دیئے جائیں تاکہ وہ خود بھی وہاں رہ سکیں اور ساتھ میں بچوں کی تعلیم بھی جاری رکھ سکیں ۔ انہوںنے کہاکہ بچوں کی تعلیم بری طرح سے متاثر ہورہی ہے۔ مقامی لوگوں کاکہناہے کہ ان کیلئے جینے کا کوئی راستہ ہی نہیں اور دوممالک کی کشیدگی نے ان کا امن و چین لوٹ لیاہے ۔ان کاکہناہے کہ خا ص طور پر پانچ افراد کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد بچے گھروں میں قید ہیں اور وہ سکول جانے سے خوف کھاتے ہیں جبکہ لوگ اپنی زمین تک بھی نہیں جارپارہے ۔
سرحدی کشیدگی ختم کی جائے :شہزاد ملک
جاوید اقبال
مینڈھر//سائیں ناتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد ملک نے بالاکوٹ کے گائوں دیوتا میں گولہ باری سے ایک ہی کنبہ کے پانچ افراد کے مارے جانے اور دو لڑکیوںکے زخمی ہونے پر دکھ کااظہا رکرتے ہوئے کہاکہ متاثرہ کنبے کی امداد کیلئے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیاہے ۔اپنے ایک بیان میں انہوںنے کہاکہ بالاکوٹ میں سرحدی کشیدگی ختم ہونے کانام نہیں لے رہی جس کے نتیجہ میں لوگوں کو بڑے پیمانے پر نقصان ہورہاہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی کنبہ کے پانچ لوگ مارے گئے جبکہ دو بچیاں شدید زخمی ہوئیںجو زندگی اور موت کی کشمکش میں جموں میڈکل کالج میں زیر علاج ہیں۔انہوںنے دونوں حکومتوں سے اپیل کی کہ فائرنگ اور گولہ باری کے سلسلہ کو فوری طور بند کروایا جائے تاکہ سرحدی علاقہ میں بسنے والے لوگوں کا مزید جانی و مالی نقصان نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے جبکہ اس وقت تک ریاستی حکومت کے لیڈران کے علاوہ کسی نے بھی بالاکوٹ کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ نہیں لیا ۔شہزاد ملک نے ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بالاکوٹ کا دورہ کرکے مارے جانے والے پانچ افراد کے لواحقین کو امداد فراہم کی اور ساتھ ہی ہندوپاک حکومتوںسے کشیدگی ختم کرنے کی اپیل کی ۔