گول//گول کے ڈھیڈہ علاقہ میں محکمہ ایریگیشن کی جانب سے ایک نہر تعمیر کی گئی لیکن بل نکلتے ہی یہ نہر زمین بوس ہو گئی اور کئی جگہوں پر ٹوٹ پھوٹ گئی جس وجہ سے یہ پوری نہر نا قابل استعمال ہے اس طرح سے لاکھوں روپے میں تعمیر ہوئی یہ نہر صرف خزانہ عامرہ سے موٹی موٹی رقم نکالنے تک ہی محدود تھی جس مقصدکے لئے اس کو تعمیر کیا گیا وہ پور نہیں ہوا کیونکہ نہر میں تعمیر کے دوران ناقص میٹریل کا استعمال ہوا ہے ۔ محکمہ ایریگیشن کی جانب سے اگر چہ تعمیری کاموں پر ملازمین بھی تعینات ہوتے ہیں لیکن اس کے با وجود بھی اس طرح سے ناقص میٹریل کا استعمال ہوتا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ محکمہ کے ان ملازمین اور ٹھیکیداروں کے بیچ ملی بھگت سے اس طرح کے ناقص کام ہوتے ہیں ۔ یہ علاقہ ڈھیڈہ میں مالی سال17-18کے دوران ایک نہر تعمیر ہوئی جس پر لاکھوں کی رقم خرچ ہوئی لیکن بل نکلتے ہی یہ نہر ڈھہ گئی اور کئی جگہوں پر اس میں دو دو انچ کی دراڑیں پڑیں جس وجہ سے یہ پوری نہر مکمل طور پر ناقابل استعمال ہے ۔ مقامی لوگوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس پوری نہر میں ناقص میٹریل کا استعمال ہوا ہے جس وجہ سے اس نہر ڈھیر ہو گئی ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر چہ نہر کی تعمیر کے دوران بھی محکمہ سے التجاءکی گئی تھی کہ ا س میں بہتر میٹریل کا استعمال کیا جائے لیکن اس کے با وجود اس میں غیر معیاری میٹریل کا استعمال ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس میں ٹھیکیدار اور محکمہ کے جے ای اور دوسرے ملازمین کی ملی بھگت ہے جس وجہ سے ان کو تعمیر کے دوران بھی کسی نے نہیں پوچھا ۔ مقامی لوگوں نے اس نہر پر سی بی آئی کی جانچ کا مطالبہ کیا کیونکہ یہ نہر تقریباً تیس لاکھ سے زائد رقم خرچ ہوئی ہے جو خزانہ عامرہ سے بھی نکالی گئی ہے ۔