بانہال // آل ٹرائیبل کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیئرمین ایڈوکیٹ طالب حسین نے منگل کے روز بانہال پارک میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کیا جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقعہ پر چودھری طالب حسین نے رسانہ ،کٹھوعہ واقع میں اہل بانہال کی طرف سے اس ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے کیلئے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آصفہ بانو کے قتل اور عصمت ریزی میں ملوث افراد کو سزائے موت دیئے جانے تک یہ تحریک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں قانون کی بالا دستی پر پورا یقین ہے اور پورے ملک اور اقوام عالم نے اس بیہمانہ قتل پر اپنی آواز بلند کی ہے اور بعد میں زانیوں کی حمایت میں نکلے سنگھ پریوار کے لیڈروں کو پوری دنیا اور پورے ملک میں سخت ہزیمت اور رسوائی اٹھانا پڑی ہے۔ ننگے پیر اپنا سفر کرنے والے ایڈوکیٹ طالب حسین نے کہا کہ اس واقع نے انسانیت کو دہلاکر رکھ دیا ہے اور مجرموں اور اْن کے حواریوں کو اب منہ کی کھانا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے ریاست میں جنگلات ایکٹ 2006 کی طرز پر جنگلات ایکٹ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کی مدد سے گوجر بکروال ، گدی اور سپی سمیت بارہ درجہ فہرست ذاتوں اور قبیلوں کے لوگوں کو فائدہ ملے گا اور کچھ شرپسند عناصر جنگلات کے ساتھ صرف گوجر اور بکروال طبقے کو جوڑ کر تقسیم اور فرقہ پرستی کی سیاست کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلوں اور اس کے اس پاس رہنے والوں کو مال مویشیوں کی چرائی ، سڑک ، بجلی ، پانی فراہم کرنے کا بل اسمبلی میں میں موجود ہے اور اسے جلد از جلد لاگو کیا جائے تاکہ ان ٹرائبل لوگوں کو اپنے حقوق اور انصاف مل سکے جو پچھلے 75 سالوں سے جنگلات میں رہ رہے ہیں۔ اس موقع پر بانہال کے معززین اور سول سوسائٹی کے ممبران نے ایڈوکیٹ طالب حسین کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں بانہال کے لوگوں کی طرف سے ہمیشہ ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ بعد میں طالب حسین نے چملواس اور پیر کے روز سنگلدان کے علاقے میں عوامی جلسوں سے خطاب کیا اور کٹھوعہ واقع میں ملوث مجرموں کو پھانسی کے تختے پر چڑھانے کے اپنے موقف کو دھرایا۔ اس وقع پر مزید کئی نوجوانوں نے ننگے پیر طلاب حسین کے قافلے میں شرکت کی۔