راجوری+ پونچھ//راجوری اورپونچھ اضلاع کے مختلف مقامات پر کٹھوعہ سانحہ کولے کر احتجاجی مظاہرے اورکینڈل مارچ نکالے گئے اورملزمان کے حمایتیوں کے خلاف نعرے بازی کرکے لوگوں نے غم وغصے کااظہارکرتے ہوئے ملوثین کوپھانسی کے تختے پرلٹکانے کاپرزورمطالبہ کیا۔
بی جی ایس بی یونیورسٹی طلباء
راجوری // باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے طلباءنے آج یونیورسٹی کیمپس میں احتجاجی ریلی نکالی اس دوران طلباءنے ہاتھو ں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر آصفہ کے قاتلوں کو سزائے موت دو ، آصفہ کو انصاف دو کے نعرے لکھئے ہوئے تھے ۔ یونیورسٹی طلباءنے ریاستی سرکار پر زور دےتے ہوئے کہا کہ کٹھوعہ سانحہ میں ملوث افراد کو جلد از جلد سخت سزاسنائی جائے بلکہ فارسٹ ٹریک ٹرائل چلاکر ملوثین کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ واضح رہے کہ پورے عالم میں آصفہ کے عصمت دری اور قتل کے خلاف احتجاجی سلسلہ جاری ہے جس کی ایک کڑی آج باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں بھی دیکھنے کو ملی ہے ۔ طلباءنے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فرد جر م عائد کراتے وقت جن وکلاءنے کٹھوعہ عدالت میں ہنگامہ آرائی جن کے لائسنس رد کئے جائے اور ان کے خلاف ملک مخالف مہم چلانے کا کیس درج کر کے کاروائی کی جائے ۔ انہوں نے بتایاکہ معصوم بچی کو مذہب کے ساتھ جوڑ کر سیاسی مفاد حاصل کرنے کی مکروہ کوشش کی جارہی ہے جو انسانیت کا سرشرمسارکررہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بھاجپا کے لیڈران ریاستی سرکار کا حصہ ہونے کے باوجود کرائم برانچ پر تنقید کررہے ہیں ۔حالانکہ کرائم برانچ نے جتنا جلد ملزمان کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے کیا ہے قابل ستائش ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ریاستی سرکار کو چاہئے کہ وہ معاملے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے کیس کو جموں ہائی کورٹ یاپھر سرینگر ہائی کورٹ منتقل کرکے فارسٹ ٹریک ٹرائل چلاکر ملوثین کو سزائے موت سنائی جائے ۔ احتجاجی ریلی کیمپس میں ہی اختتام پزیر ہوگئی ۔
آنگن واڑی کارکنان
پونچھ//راجوری اورپونچھ میں آنگن واڑی کارکنوں اور ہیلپروں کا احتجاج جاری ہے۔منگل وار کو دونوں اضلاع میں تمام ورکروں نے اپنے مطالبات کی آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ آٹھ سالہ معصوم بچی کے وحشیانہ ریپ اور قتل میں ملوث افراد کو سزائے موت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ورکروں کی جانب سے 49ویں روز ایک زبردست ریلی نکالی گئی جس میں انہوں نے صرف معصوم بچی کے قاتلوں کو سزائے موت دینے کے نعرے بلند کئے جبکہ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس معصوم بچی کو انصاف دلانے کے لئے عوام بلا لحاظ مذہب و ملت مطالبہ کرے تاکہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کو شرمسار کر دینے والے اس واقعے نے ہر صاحب دل انسان کو جنجھوڑ دیا ہے۔انہوں نے ان وکیلوں کی سخت مذمت کی جنہوں نے فردِ جرم عائد کرنے کے لیے پولیس کو عدالت میں داخل ہونے سے روکا تھا اور ان وزراءکے خلاف بھی مردہ باد کے نعرے بلند کئے جنہوں نے معصوم بچی کے قاتلوں کی حمایت میں نکالے گئے جلوسوں میں شرکت کر کے مجرموں کا ساتھ دیا ۔انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر اور ملک کے وزیر اعظم ایک طرف بیٹی بچاﺅ کے نعرے لگا رہے ہیں تو دوسری جانب ان کے لیڈر ایک آٹھ سالہ بچی کے ساتھ بے حرمتی کر کے اسے وحشیانہ طریقہ سے قتل کر دیتے ہیں اور ستم در ستم کہ ان قاتلوں کو بچانے کے لئے بھی اسی پارٹی کے لیڈران میدان میں کود پڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام تنظیموں اور لوگوں کی مذمت کرتے ہیں جن کو ایک معصوم بچی کے قاتلوں کے ساتھ ہمدردی ہے ۔ ملازموں کی یہ ریلی فوارہ گارڈن پونچھ سے بر آمد ہوئی جو پونچھ کے صدر بازار سے گزرتے ہوئے دوبارہ فوارہ گارڈن میں اختتام پذیر ہوئی۔
مینڈھر
مینڈھر//گورنمنٹ ڈگری کالج مینڈھرکے طلبہ اورمعززشہریوں نے کٹھوعہ سانحہ کے خلاف گذشتہ شام بس اڈہ مینڈھرسے احتجاجی ریلی وکینڈل مارچ نکالاجوبازارسے ہوتے ہوئے مین چوک مینڈھرپہنچ کراختتام پذیرہوا۔اس دوران مظاہرین ہیرانگرکٹھوعہ کے رسانہ کی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانوکی عصمت دری اورقتل معاملے کے ملزمان کوکیفرکردارتک پہنچانے کے مطالبے کولے کراحتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بارایسوسی ایشن جموں،ہندوایکتامنچ اوردیگرحمایتیوں اوربی جے پی اوروزیراعظم نریندرمودی کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔اس دوران مقررین نے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے آصفہ عصمت ریزی وقتل معاملہ کی تحقیقات کی چارج شیٹ درج کرانے میں کرائم برانچ کاراستہ روک کرروڑے اٹکانے والے اورملزمان کی حمایت کرنے والے کٹھوعہ اورجموں کے وکلاءکے خلاف سخت کارروائی اورملزمان کوسزائے موت دینے کی مانگ کی۔مقررین نے کہاکہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ آٹھ سالہ معصوم بچی کی عصمت ریزی اورقتل کیس میں وکلاءملزمان کی حمایت کرکے جموں بندکرواتے ہیں ۔دیگرمقررین نے کہاکہ بارایسوسی ایشن جموں کی ہڑتال ہندوستان کی تاریخ کاسیاہ ترین دن تھا۔انہوں نے کہاکہ وکلاءکوکم ازکم یہ خیال رکھناچاہیئے تھاکہ اس کیس کی تحقیقات کی نگرانی عدالت عالیہ کررہی ہے لیکن اس کے باوجودمعاملہ کوفرقہ وارانہ بنیادپردیکھ کرتحقیقات کے عمل میں اڑچنیں پیداکرنے کی کوششیں کیں۔ انہوں نے حکومت کوکسی دباﺅمیں نہیں آناچاہیئے اورمعصوم بچی عصمت دری اورقتل سانحے کے ماسٹرمائنڈاوردیگرملزمان کوسزادلانے کےلئے سنجیدگی سے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ انہوں نے پی ڈی پی۔بی جے پی مخلوط حکومت کی عوام کے تئیں پالیسیوں کوبھی تنقیدکانشانہ بنایا۔مقررین نے متاثرہ کی وکیل کوبارایسوسی ایشن کے صدرکی دھمکیوں پربھی تشویش کااظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ انسانیت سوزواقعے کوسیاسی اورفرقہ وارانہ رنگ دینے کےلئے ہندوایکتامنچ کاقیام عمل کرکے ملزمان کوبچانے کےلئے ترنگاجھنڈااُٹھاکر ریلیاں نکالنے والوںکے خلاف جھنڈے کی توہین کامعاملہ درج ہوناچاہیئے۔انہوں نے کہاکہ متاثرہ کوانصاف دلانے کی بجائے ملزمان کوبچانے کےلئے بارایسوسی ایشن اوردیگرفرقہ پرستوں کی انسانیت مخالف مہم موجودہ سماج کےلئے لمحہ فکریہ ہے۔اس دوران احتجاجی مظاہرے اورکینڈل مارچ میں شامل معززشہریوں میںچوہدری ظفراللہ آزاد، لیبریونین صدرعبدالمجیدچوہدری ودیگردکانداروغیرہ شامل تھے۔واضح رہے کہ متاثرہ بچی کی نعش گذشتہ 17جنوری کورسانہ گاﺅں کے جنگلوں سے ملی تھی ،اس سے قبل متاثرہ کو10جنوری کواغواکیاگیاتھا۔بتایاجاتاہے کہ متاثرہ کے جسم پرتشددکے نشانات تھے اورقتل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ جنسی زیادتی جیساگھناﺅناکھیل کھیلاگیا۔اس معاملے کی تحقیقات کے لیے پہلے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی مگربعدمیں یہ کیس ریاستی پولیس کی کرائم برانچ کومنتقل کردیاگیاتھا ،کرائم برانچ کی تحقیقات کی نگرانی جموں کشمیرہائی کورٹ کررہی ہے اورسی جے ایم کٹھوعہ میں تمام آٹھ ملزمان کے خلاف فردجرم داخل کردی گئی تھی۔
سرنکوٹ
سرنکوٹ//سرنکوٹ میں نوجوانوں کی جانب سے کٹھوعہ سانحہ کے خلاف زور دار احتجاج کیا جس کی قیادت یوتھ لیڈر طارق اشرف کر رہے تھے جبکہ اس احتجاج میں بارایسوسیشن سرنکوٹ ،طلبہ ،بیوپار منڈل سرنکوٹ سیول سوسائٹی پیش پیش رہے۔ تاہم احتجاج میں مقررین نے کہا کہ ملزمان کو پھانسی کی سزا دیئے جانے کی مانگ بھی کی۔سرنکوٹ میں سینکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں نے جمع ہو کر فلک شگاف نعرے بلند کئے اور جس میں جموں بار ایسوسی ایشن اور موجودہ حکمومت کے خلاف نعرے بلند کئے گئے اورمعصوم بچی کے لئے جلد سے جلد انصاف کی مانگ بھی کی۔مظاہرین نے کھٹوعہ بار ایسوسیشن اور جموں بار ایسوسیشن کے خلاف جم کر نعری بازی کی اور کہا کہ وکلاءجنہیں قانون کا پاسدار مانا جاتا ہے اور وکلاءکا کام مظلوموں کو انصاف دلانے کا ہوتا ہے لیکن جموں بار کے کچھ وکلاء نے اس کے برعکس رویہ دکھایا اور ملزمان کی پشت پناہی کی گئی جو کہ سماج میں بد نما داغ کی مانند ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کرائم برانچ نے بہت ہی اچھے طریقے سے کیس کی جانچ کی ہے اور ملزمان کو بے نقاب کیا ہے۔انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ موجودہ سرکار کے منسٹر اور ایم ایل اے بھی ملزمان کو بچانے کی ہر مکمن کوشش کر رہیں ہیں جو قابل مزمت ہے۔مظاہرین اس موقعہ پربس اڈے سے لے کر ہاڑی محلہ سرنکوٹ تک جلوس نکالا گیا اس دوران الگ بھگ چار گھنٹے ٹریفک نظام معطل رہا اور دوکانداروں خودبخود دکانوں کے شٹر بند کر دیے۔ مظاہرین نے زبردست نعرے لگائے سرنکوٹ کی وادی گونج رہی تھے۔ معصوم بچی کو انصاف انصاف دو اور قاتلوں کو پھانسی دئے جانے کی مانگ بھی کی۔نوجوانوں نے اپنے تاثرات کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ معصوم بچی کو انصاف دلانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے معصوم بچی کی عصمت دری اور ناحق قتل کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے جو ناقابل برداشت ہے اور اس معصوم کے ناحق قتل پر سیاست بالکل بھی نا قابل قبول ہے۔انہوں نے معصوم بچی کے قاتلوں کو جلد سے جلد کیفر کردار تک پہنچانے کی مانگ کی ہے۔
تھنہ منڈی
تھنہ منڈی/ / تھنہ منڈی میں بیوپار منڈل اراکین، سول سو سائٹی تھنہ منڈی، وکلائ، دینی ادبی سیاسی اور سماجی کارکنان نے آٹھ سالہ ننھی آصفہ کے قاتلوں کو سزائے موت دینے کے ساتھ ساتھ مجرموں کی پشت پناہی کرنے والی بار جموں اور بار کٹھوعہ کے لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ امام مرکزی جامع مسجد تھنہ منڈی، مفتی عبدالرحیم قاسمی ضیائی کی سربراہی میں ایک احتجاجی جلوس نکالا جو خضر پل تھنہ منڈی سے شروع ہوا اور مین مارکیٹ۔،اقبال چوک۔ با با لطیف شال مارکیٹ سے ھوتا ھوا غزالی شاہدرا موڑپہنچ کراختتام پذیرہوا۔ جلوس کے دوران فرزندان توحید نے جم کر معصوم بچی کی آبرو ریزی اور، قتل میں ملوث مجرموں کے خلاف اور ہندو ایکتا منچ اور بار ایسو سیایشن جموں اور بار ایسو سیایشن کٹھوعہ کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی۔ فرزندان توحید نے کہا کہ جموں کے علاقہ کٹھوعہ سے تعلق رکھنے والی ننھی بچی کی آبرو ریزی اور قتل معاملہ میں ملوث افراد کے خلاف عبرت ناک سزا کا تعین کر کے سزائے موت دی جائے انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جن وکلائ نے چاہے بار جموں ھو یا بار کٹھوعہ چالان پیش کرنے میں رخنہ اندازی کی ھے انکے لائسنس منسوخ کئے جائیں۔ انہوں نے کرائم برانچ پولیس کی سرہنا کی ہے جس نے مختصر وقت میں ملزمان کی نشاندھی کر کے عدالت میں چالان پیش کیا۔مفتی عبدالرحیم خان قاسمی ضیائی نے سانحہ کے بارے میں مفصل روشنی ڈالتے بوئے کہا کہ خاتون وزیر اعلی کو۔مجرمان کے خلاف سخت کاروائی کرتے ھوئے پشت پنائی کرنے والے وکلاءکے لائسینس منسوخ کر نے چاہیئں۔ احتجاج کے دوران تمام کاروباری ادارے بند رہے جبکہ ٹریفک متاثر رہی۔ اس احتجاج سے مغل روڈ پر سفر کرنے والے مسافر پریشان نظر آئے۔ وہیں تھنہ منڈی کے نجی ادارہ یاسین انگلش پبلک اسکول کے طلبہءنے احتجاجی ریلی نکالی جو اسکول کے احاطہ سے شروع ھوئی اور خان مارکیٹ۔ مین بازار۔ اقبال چوک۔ اور با با لطیف شال مارکیٹ سے گذرتی ہوئی شاہدہ پل تک گئی بعد،ازاں سرکولر روڈ، سے واپس اسکول میں اختتام پزیر ہوگئی۔ اس دوران طلبہ نے بچیوں کے تحفظ اور کٹھوعہ اور ملک کی دیگر ریاستوں میں بچیوں کے ساتھ زیادتیوں کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی۔ اسکول کے پرنسپل منجو راجن نے کہا کہ اس ریلی کا مقصد عام لوگوں کو با خبر کرناہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک ہندوستان میں بچیوں کا باہر نکلنا مشکل ھو گیا ہے۔ جبکہ ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے۔