اس وقت پورے ملک میں ہاہاکار ہے۔ اسپتال مقتل کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ جو لوگ وینی لیٹر یا آکسیجن پر ہیں سمجھیے پھانسی کا پھندہ ان کے گلے میں پہنا دیا گیا ہے۔ کب جلاد لیور کھینچ کر کس کے قدموں کے نیچے کا تختہ گرا دے کہا نہیں جا سکتا۔ اسپتالوں میں ان کی سانسیں اٹکی ہوئی ہیں تو باہر ان کے اعزا و اقربا کی۔ اندر بھی افراتفری ہے اور باہر بھی۔ باہر والے بھی اندر والوں سے کم اذیت میں مبتلا نہیں ہیں۔ ایسے عالم میں جبکہ اسپتالوں کے ذمہ داران سلنڈر، آکسیجن اور ادویات کے لیے ہاتھ کھڑے کر دیں اور ساری ذمہ داری مریضوں اور ان کے اہل خانہ پر ڈال دیں تو بھلا بتائیے کہ ان لوگوں کا کیا حال ہوگا۔ جب اسپتال ہی سلنڈر، آکسیجن اور ادویات کا انتظام نہ کر سکیں تو وہ لوگ کیسے کر سکتے ہیں جن کا نہ تو اسپتالوں سے کوئی تعلق ہے، نہ ادویات ساز کمپنیوں، نہ آکسیجن تیار والی ایجنسیوں سے اور نہ ہی سلنڈر بنانے والے اداروں سے۔ کیسی بے بسی سی بے بسی ہے۔ بقول مرزا غالب ؎
بے دلی ہائے تماشہ کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق
بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں
جو اسپتالوں کے اندر ہیں وہ بھی دنیا کی بے ثباتی کی کہانی بیان کر رہے ہیں اور جو باہر ہیں وہ بھی۔ سب مجبور ہیں۔ سب لاچار ہیں۔ سب بے بس ہیں۔ فریاد کریں تو کس سے کریں۔ شکایت کریں تو کس سے کریں۔ انسانی جانوں کو بچانے کی ذمہ داری جن افراد اور اداروں پر عاید ہوتی ہے جب وہی بے رحم و بے مروت ہو جائیں تو پھر کوئی کیا کرے، کیا کہے اور کہاں جائے۔ آکسیجن پر ڈاکٹروں سے زیادہ مریضوں کی نظر ہے اور ان سے بھی زیادہ مریضوں کے لواحقین کی ہے۔ کیونکہ آکسیجن اور ادویات کے انتظام کی ذمہ داری اب انھی پر آن پڑی ہے۔ سلنڈروں اور ادویات کی بلیک مارکیٹنگ بھی شروع ہو گئی ہے۔ کالا بازاری اپنے عروج پر ہے۔ جو سلنڈر عام دنوں میں چھ ہزار کا فروخت ہوتا تھا وہ اب چالیس اور پچاس ہزار میں مل رہا ہے۔ پھر بھی لوگ اپنے پیاروں کی زندگی بچانے کے لیے اتنی قیمت بھی ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس قیمت پر بھی سلنڈر نہیں مل رہا ہے۔ اگر مل بھی جاتا ہے تو آکسیجن کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ لوگ اس کمپنی سے اس کمپنی اور اس کمپنی سے اس کمپنی تک بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ کہیں گھنٹوں گھنٹوں قطار میں کھڑے ہونے پر آکسیجن مل جا رہی ہے کہیں وہ بھی نہیں مل رہی ہیں۔ کسی کمپنی کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے حکم دے دیا ہے کہ صرف اسپتالوں کو آکسیجن دی جائے پرائیویٹ افراد کو نہیں۔ کیا پرائیویٹ لوگ انسان نہیں ہیں۔ کیا وہ اس ملک کے شہری نہیں ہیں۔ کیا وہ الیکشن میں حصہ نہیں لیتے۔ ایسے جانے کتنے پرائیویٹ افراد ہوں گے جنھوں نے حکمراں جماعت کو ووٹ دیا ہوگا تو کیا انھیں بھی آکسیجن نہیں ملے گی۔ ووٹ کی بات چھوڑیے، جس نے ووٹ نہیں دیا کیا وہ آکسیجن حاصل کرنے کا مستحق نہیں ہے۔ ہندوستان کے آئین نے ہر شہری کو جینے کا بنیادی حق فراہم کیا ہے اور اس حق کو یقینی بنانے کی ذمہ داری حکومت پر عاید ہوتی ہے۔ ان سیاسی پارٹیوں پر بھی عاید ہوتی ہے جو اگر چہ برسراقتدار نہیں ہیں لیکن ملک کے سیاسی نظام کا حصہ ہیں۔ کیا وہ خود کو اس سیاسی نظام سے الگ کر سکتی ہیں۔ اگر نہیں تو کیا ان کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ عام انسانوں کو جینے کا ان کا بنیادی حق انھیں فراہم کرائیں۔
اس وقت ملک میں جوصورت حال ہے اس پر حکومت کا رویہ بظاہر بہت نامناسب ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے حکمراں محاذ بے حسی کی چادر تان کر سو گیا ہے۔ اسے جگانے کی ضرورت ہے۔ اور اسے جگائیں گے وہی لوگ جو اس وقت سلنڈر، آکسیجن اور دواؤں کے لیے در در بھٹک رہے ہیں۔ مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہیں۔ البتہ ملک کی عدالتیں بیدار ہیں۔ عدالت عظمیٰ ہو یا ہائی ہائی کورٹس، سب نے اپنی بیداری کا مظاہرہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ وہ ان حالات میں خاموش تماشائی بنی نہیں رہ سکتی۔ اس وقت ملک کی گیارہ ہائی کورٹس میں کرونا سے متعلق معاملات کی سماعت چل رہی ہے۔ اس سے پہلے دہلی ہائی کورٹ نے دہلی حکومت کو پھٹکارتے ہوئے کہا کہ اگر اس بحران پر قابو نہیں پایا گیا تو عام انسانوں کے ہاتھ خون سے رنگ اٹھیں گے۔ اب اس نے کہا ہے کہ وہ اگر آکسیجن کا انتظام نہیں کر سکتی تو ہم مرکز سے کہیں گے کہ وہ مداخلت کرے۔ لیکن سب سے سخت تبصرہ مدراس ہائی کورٹ کا آیا ہے۔ اس نے اپنے زبانی ریمارکس میں الیکشن کمیشن کو بری طرح لتاڑا ہے۔ اس نے کہا کہ کرونا کی اس دوسری لہر کے لیے اگر کوئی ذمہ دار ہے تو وہ تنہا الیکشن کمیشن ہے۔ اس نے ان حالات میں جبکہ ملک کرونا کے خوفناک چنگل میں جکڑا ہوا تھا پانچ ریاستوں میں الیکشن کرانے اور انتخابی ریلیاں نکالنے کی اجازت کیوں دی۔ اس نے تو یہاں تک کہا کہ کمیشن کے عہدے داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ چلنا چاہیے۔ یاد رہے کہ ملک میں کرونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بدھ کے روز دو لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔
مدراس ہائی کورٹ کے تبصرے پر جو کہ زبانی ہے الگ الگ رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق اگر زبانی کوئی ریمارکس دیے جائیں خواہ وہ کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ وہ فیصلے کا حصہ نہیں ہوتے۔ ان پر کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ ہاں اگر وہی ریمارکس فیصلے کا حصہ ہوں تو ان پر کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یعنی اگر عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ کہا ہوتا کہ کمیشن کے ذمہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ چلنا چاہیے تو چلانا پڑتا۔ لیکن چونکہ یہ زبانی تبصرہ ہے لہٰذا اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے سوائے اس کے کہ یہ سمجھا جائے کہ عدالت فلاں معاملے پر خوش نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عدالت نے بالکل ٹھیک کہا۔کمیشن نے الیکشن کیوں کرایا۔ کیوں انتخابی ریلیوں کی اجازت دی۔ لیکن ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر کہیں کسی ریاستی اسمبلی کی مدت مکمل ہو گئی ہو تو الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ ہاں اس صورت میں الیکشن ناگزیر نہیں ہوگا کہ یا تو ملک میں ایمرجنسی نافذ ہو گئی ہو یا پھر ریاست میں صدر راج لگا دیا گیا ہو۔ ایسے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مرکزی حکومت الیکشن نہ کرانے کا اعلان کرتی تو کیا اپوزیشن جماعتیں مان جاتیں۔ کیا وہ اس کے لیے حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتیں اور یہ نہیں کہتیں کہ اس نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے الیکشن کو ملتوی کیا ہے۔ البتہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کمیشن کو چاہیے تھا کہ وہ کرونا گائڈ لائن کی پابندی کرواتا۔ انتخابی ریلیوں میں پانچ سو سے زائد افراد کی شرکت پر پابندی لگاتا اور ماسک اور دو گز کی دوری کو یقینی بنانے کا حکم جاری کرتا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ ان ریلیوں میں ہزاروں ہزار افراد شریک ہوتے رہے اور ایک دوسرے سے مل مل کر کھڑے یا بیٹھے ہوتے اور وہ ماسک سے بھی بے نیاز ہوتے۔ لیکن اس کے باوجود کمیشن نے کوئی ہدایت جاری نہیں کی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کمیشن کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کی بھی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے حامیوں کو کہتیں کہ وہ کرونا قوانین کی پابندی کریں۔ ماسک لگائیں اور دو دو گز کے فاصلے پر رہیں۔ لیکن انھوں نے بھی ایسا نہیں کیا۔ بلکہ انھوں نے زیادہ سے زیادہ بھیڑ دیکھ کر ایسی خوشیاں منائیں کہ جیسے ان کی عید اور دیوالی ہو گئی ہو۔
ایک طرف الیکشن کرایے گئے، انتخابی ریلیوں کی اجازت دی گئی اور دوسری طرف کمبھ میلے میں لاکھوں افراد کے اشنان کی اجازت دے دی گئی۔ این ڈی ٹی وی انڈیا نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ جن پانچ ریاستوں میں الیکشن ہوئے ہیں ان میں الیکشن سے پہلے او رالیکشن کے بعد کرونا کیسیز کی کیا صورت حال رہی۔ بعض ریاستو ںمیں کیسیز میں سو تو بعض میں دو سو فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ یہی حال کمبھ میلے میں بھی نظر آیا۔ وہاں بھی ان کیسوں میں زبردست اچھال آیا۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جن سیاست دانوں یا سادھو مہاتماؤں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ کرونا ختم ہو گیا، ریلیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو کچھ نہیں ہوگا، گنگا اشنان کرنے سے کرونا بھاگ جائے گا انھی لوگوں کو کرونا نے پہلے پکڑا۔ اس کے باوجود انھوں نے ابھی تک ہوش کے ناخن نہیں لیے ہیں۔ اب جبکہ مدراس ہائی کورٹ نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر یہی حالت رہی تو دو مئی کو کی جانے والی ووٹوں کی گنتی پر روک لگا دی جائے گی تب جا کر کمیشن نے اعلان کیا کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران یا اس کے بعد کوئی بھی جیت کا جشن نہیں منائے گا۔ لیکن سیاست دانوں کا کیا کیا جائے، بی جے پی کے ایک لیڈر نے بیان دیا ہے کہ ہم بنگال میں جیت رہے ہیں اور ہم جیت کا جشن منائیں گے البتہ آن لائن منائیں گے۔
کچھ لوگوں نے مدرا س ہائی کورٹ کے تبصرے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے کمیشن کو تو ذمہ دار قرار دیا لیکن حکومت کو بچا لیا۔ کسی نے کہا حکومت کو نہیں بلکہ وزیر اعظم کو بچا لیا۔ کیونکہ اگر وزیر اعظم چاہتے تو نہ تو الیکشن ہوتا اور نہ ہی کرونا کیسوں میں اتنا اضافہ ہوتا۔ لیکن ان کے مطابق وزیر اعظم تو ہمیشہ الیکشن کے موڈ ہی میں رہتے ہیں وہ کیسے الیکشن نہ کروانے کا فرمان جاری کرتے۔ انھوں نے تو آخر آخر وقت تک ریلیاں کیں اور خوب کیں۔ بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ الیکشن نے خواہ وہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ہوں یا پھر اترپردیش کے پنچاتی انتخابات، کرونا کی صورت حال کو مزید بھیانک بنا دیا ہے۔ لیکن سوال یہی ہے کہ دو لاکھ انسانوں کے قتل کا ذمہ دار کون ہے، کس کے خلاف مقدمہ چلے اور کسے پھانسی پر لٹکایا جائے؟
���
موبائل نمبر۔9818195929