بانہال // گزشتہ کئی روز سے سے ریاستی ملازمین کا کلرک طبقہ اپنے ساتھ ہورہی نا انصافی کے خلاف ریاست کے اطراف و اکناف میں صدائے احتجاج بلند کئے ہوئے ہیں اور ابھی تک سرکار کی طرف سے اْن کا مسئلہ حل کرنے کیلئے کوئی مثبت اور ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ مختلف محکموں میں کام کرنے والے کلرکوں کا کہنا ہے کہ پانچویں تنخواہ کمیشن سے چلی آرہی تنخواہوں میں موجود تفاوت اور عدم مساوات کو ساتویں تنخواہ کمیشن سے پہلے دور کرنے کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے کے بجائے اس اہم مسئلے کو ٹھنڈے بستہ کی نظر کرنے کے خلاف مجبور کلرک بردادی سرکار کے خلاف ریاست گیر احتجاج کرنے پر مجبور کی گئی ہے۔ تنخواہوں میں تفاوت اور عدم مساوات اور حق تلفی کی اس زیادتی کے خلاف گذشتہ بیس برس سے وقفے وقفے سے متاثر کلرک طبقہ وقت کے حکمرانوں کے سامنے اپنے جائز مطالبات پیش کرتے چلے آئے ہیں مگر ہر بار حکمرانوں نے نظر ثانی کے دائو پیچ سے اس طبقے کی مسلسل حق تلفی کے رویے کو دوام بخش رہے ہیں اور اس طویل مدتی مانگ کو دھراتے دھراتے ملازمین کی ایک کثیر تعداد اپنے عہدوں سے اب تک سبکدوش ہو گئی ہے اور تنخواہوں کی تفاوت کا شکار کچھ ملازمین تو اس دنیا سے بھی چلے گئے ہیں مگر معاملہ ابھی حل طلب ہے۔ محمد اختر ملک ، جنرل سیکرٹری کلریکل ایسو سی ایشن ضلع رام بن کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں تفاوت نے جہاں کلرکوں کے طبقے میں احساس کمتری کو جنم دیا ہے تو وہیں یہ ملازمین اپنے بچوں کے معیار تعلیم کو بلند کرنے اور مقابلہ جاتی دور کا سامنا کرنے کیلئے اپنے بچوں کو اس اہل اس لئے نہیں بنا سکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کے پاس کبھی بھی اس طبقے کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی پروگرام ہی نہیں رہا ہے جبکہ امور سلطنت کی صحت اور کامیابی کا راز اسی طبقہ کی مہارت اور ہمہ وقتی ذمہ داری کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر محکمہ جات کے منصوبے اور پروگراموں کو مرتب کرنا اور نو آموز آفیسروں کو شرائط و آداب فرائض کی مشق کرانا بھی اسی طبقے کی بلا اجرت مگر اضافی ذمہ داری ہے۔ مگر جب اس طبقے کی مناسب اجرت اور جائز مقام کی بات آتی ہے تو حکام سرد مہر۔ ملک نے بتایا کہ جب کلرک کی خالی آسامیوں کو پر کرنے کی نوبت آتی ہے تو بنیادی لیاقت گریجویشن، کمپیوٹر ڈپلومہ اور فی منٹ 35 الفاظ کی رفتار کو ضروری قرار دیا جاتا ہے اور کلرکوں کا گریڈ 1900 کا دیا گیا ہے جبکہ درجہ چہارم کی آسامی کو پر کرنے کے لئے بنیادی تعلیم میٹرک اور گریڈ 1800 کا رکھا گیا ہے اور انکے اوقات کار بھی صبح دس سے شام چار بجے تک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حیرت ہے کہ درجہ چہارم اور کلرک کے گریڈ میں محض ایک سو کی تفاوت اور ایسے اقدام واقعی جمہوری اقدار اور آئینی حقوق کی پشت میں خنجر گھوپنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا کلرک طبقہ خاص کر وادی کشمیر میں ہرتال اور نامصاعد حالات کے باوجود اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر دفاتر پہنچتے ہیں اور لوگوں کے کام اور مشکلات کا ازالہ کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتے رہے اور کام کا یومیہ دورانیہ دس گھنٹے سے بھی تجاوز کر جاتا ہے جبکہ سرکاری تعطیلات کا دورانیہ بھی پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کی نظر ہو جاتا ہے اور اس ہمہ وقتی ذمہ داری کے باوجود بھی کلرکوں کے لئے ڈھائی دن کی ماہانہ اضافی تنخواہ کی گنجائش بھی نہیں رکھی گئی ہے۔انہوں نے جموں کشمیر اور لداخ کلرکل ایسوسی ایشن کی طرف سے وزیر اعلی محبوبہ مفتی سے دردمندانہ اپیل کہ ہے کہ وہ اس طویل مدتی زیادتی اور تفاوت کو ختم کروانے کے لئے ذاتی طور مداخلت کریں تاکہ کلرکوں کے اندر عدم اعتماد کو ختم کیا جاسکے۔