ڈوڈہ //ضلع کے برتنڈ علاقہ میں لوگوں نے گورنمنٹ ہائی سکول برتُنڈ میں سٹاف کی کمی کو لیکر ایک زور دار احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔یہاں جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق مظاہرین کا الزام ہے کہ سٹاف کی کمی کی وجہ سے سکول میں زیر تعلیم 400 طلاب کا مستقبل دائو پر لگا ہے۔یہ سکول ضلع کے صدر مقام سے فقط 80 کلو میٹر کی دوری پر تعلیمی زون بھاگواہ اور تحصیل راج گڑھ میں واقع ہے۔ مظاہرین کا مبینہ الزام ہے کہ سکول ہذا کے لئے اگرچہ معقول سٹاف منظور کیا گیا ہے،تاہم منظور شدہ ماسٹرس کی6۔اسامیوں ،2۔اساتذہ ،ایک جونیئر اسسٹنٹ ۔ایک کلاس فورتھ کی اسامیاں خالی ہیں جبکہ سکول کا سٹاف فقط 8سٹاف ممبران پر مشتمل ہے جن میں ایک ہیڈ ماسٹر ، دو ماسٹر ،چار اساتذہ اور ایک کلاس فورتھ کام کر رہے ہیں۔علاقہ کے ایک شہری ڈاکٹر اقبال وانی نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو لیکر کافی پریشان ہیں،کیونکہ محکمہ ان کے ساتھ انصاف نہیں کر رہا ہے۔انہوں نے سرکار سے بذریعہ میڈیا اپیل کی ہے کہ وہ ہائی سکول برتنڈ کی خالی اسامیوں کو ایک ہفتہ تک پُر کیا جائے، تاکہ ہمارے بچوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے تنبہیہ کی ہے کہ اگر محکمہ نے ان کے مطلابہ پر غور نہیںکیا تو وہ طلاب کے ہمراہ سڑکوں پر آئیں گے اور اپنے مطالبات حل ہونے تک ضلع ہہیڈ کوارٹر ڈوڈہ میں دھرنا پر بیٹھیں گے۔علاقہ کے ایک اور باشندے عبدالسبحان زرگر نے کہا کہ نہ صرف ہائی سکول برتنڈ میں سٹاف کی قلت ہے بلکہ ضلع کے تمام مڈل سکولوں سے لیکر ہائر سیکنڈری سکول میں تدریسی عملہ کی کمی ہے۔انہوں نے محکمہ پر ضلع کے ساتھ سوتیلی ماں کا جیسا سلوک کرنے کا مبینہ الزام لگایا ہے۔مظاہرین میں لمبردار رمیس کمار، حاجی عبدالغنی پڈر، ریاض احمد، مینتھ سنگھ، سرپنچ غلام حسن ڈار، روشن دین، چوکیدار مان چند، رُستم علی، شیخ محمد، ریاض احمد راتھر ،و سیم راجہ زرگر، کرنیل سنگھ بھی شامل تھے۔