کشتواڑ/ڈوڈہ /رام بن // وادی چناب میں مختلف سڑک حادثات میں 5 ۔اشخاص کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، جن میں سے تین سنگین زخمی ہوئے ہیں جن کو گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں اور بونز اینڈ جوائنٹس ہسپتال برزلہ ،سرینگر بہتر محالجہ کے لئے منتقل کیا گیا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق کشتواڑمیںایک تیز رفتار ٹپر کی وجہ سے تحصیل چھاتروکی ایک کمسن زخمی ہو ئی ہے ۔تحصیل چھاترو کے مضافاقی علاقہ مڑھ میں ایک تیز رفتار ٹپر زیر نمبر JK02W-6577 نے ایک کمسن لڑکی روبینہ دُختر قاسم ساکنہ مڑھ کو ٹکر ماری جس سے وہ مضروب ہوئی ۔حادثہ رونما ہوتے ہی مقامی لوگ اور پولیس فوری طور حرکت میں آئی اور زخمی کمسن کو پرائمری ہیلتھ سنٹر چھاترو منتقل کر گئی ،جہاں سے ڈاکٹروں نے اسے فسٹ ایڈ فراہم کرکے بونز اینڈ جوائنٹس ہسپتال برزلہ، سرینگر منتقل کیا۔ پولیس نے اس سلسلہ میں ایک معاملہ درج کرکے مزید کاروائی شروع کر دی ہے۔ایک دوسرے سڑک حادثہ میںڈوڈہ علاقہ میں ایک ڈرائیور اس وقت زخمی ہوا جب جمعرات کے روز ایک پرائیویٹ کار ضلع کے گاگندھار کے مقام پر دریائے نیرو میں جا گری ۔حادثہ پُل ڈوڈہ سے 5 کلو میٹر کی دوری پر گلاب گڑھ علاقہ میں ڈوڈہ۔ بھدرواہ شاہراہ پر رونما ہوا۔پولیس کے مطابق کار زیر نمبر JK06-6825 بھالہ سے ڈوڈہ کی جانب رواں تھی کہ گلاب گڑھ علاقہ میں کار ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوگئی اور سڑک سے لُڑھک کر دریائے نیرو میں جا گری۔راہگیروں نے اسکی اطلاع فوری طور سے پولیس کو دیدی جنھوں نے زخمی ڈرائیور کو ضلع ہسپتال ڈوڈہ منتقل کیا۔ڈرائیور کی پہچان جاوید اقبال ولد عبدل عزیز ساکنہ ڈُگا بھالہ کے بطور کی گئی ہے۔پولیس نے معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہے۔وادی چناب میں رونما ہوئے ایک اورسڑک حادثہ میں اس وقت تین اشخاص زخمی ہوئے جب انکا دو پہیہ (سکوٹی) ضلع کے میتراں علاقہ میںسڑک پر پھسل گئی۔پولیس رپورٹ کے مطابق ایک سکوٹی زیر نمبرJK19-3457 میتراں میں سڑک پر پھسل گئی ،نتیجہ کے طور پر سکوٹی سوار اور اسکے دو ساتھی زخمی ہوئے جنھیں معالجہ کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ۔زخمیوں کی پہچان پنکج سنگھ ولد تیرتھ سنگھ ساکنہ بلوٹ رام بن ، دھیرج سنگھ ولد پریتم سنگھ ساکنہ شوا ڈوڈہ اور فیاض احمد ساکنہ راج گڑھ کے بطور کی گئی ہے۔زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعددو سنگین زخمیوں پنکج اور تیرتھ کو گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں بہتر معالجہ کے لئے منتقل کیا گیا ہے،جبکہ فیاض احمد کا علاج ضلع ہسپتال میں ہو رہا ہے۔پولیس نے اس سلسلہ میں ایک معاملہ درج کرکے مزید کاروائی شروع کر دی ہے۔