پونچھ//وادی کشمیر میں روز بروز بڑھ رہی انسانی ہلاکتوں اور رسانہ کٹھوعہ کے بہیمانہ ہلاکت کو ناقابل قبول قراردیتے ہوئے تنظیم علماء اہل سنت والجماعت پونچھ کے صدر مولانا سعید احمد حبیبؔ نے ان واقعات کی شدید مذمت کی اور ایسے واقعات کے رونما ہونے پر ان کو بدقسمتی اور شرمندگی سے تعمیر کیا ہے۔یہاں جاری ایک بیان کے مطابق مولانا نے ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وادی کشمیر کی صورت حال کو نہ سمجھا گیا او رظلم وجبر کا یہ سلسلہ جاری رکھا گیا تو یہ کسی بھی طرح ملک اور سماج کے مفاد میں نہیں ہے اور اس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں اس لئے حکومت اپنی آئینی ذمہ داری اداکرتے ہوئے بحالی امن کے لئے مؤثر حکمت عملی کا آغاز کرے اور سخت گیر پالیسی سے باز رہے چونکہ گذشتہ چارسال کی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے صرف ہلاکتوں اور خون خرابہ میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ مولانا نے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے مذہب کے استعمال کی مذمت کی اور سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ ملک اور سماج کی فکر کریں اقتدار آنے جانے والی چیز ہے ،عارضی مفاد کی خاطر ملک کے مستقبل کو داؤ پر نہ لگائیں ۔ان کاکہناتھاکہ 8سالہ معصوم بچی کے بہیمانہ قتل کی تفصیلات کے سامنے آنے پر غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو اس معصوم 8سالہ بچی جس کو شائد یہ بھی علم نہ تھا کہ وہ کس مذہب سے ہے جس طرح اس ننھی منھی جان کے ساتھ بربریت کی گئی ،اس بدترین سانحہ کی مثال نہیں ملتی ۔مولانا نے اس بچی کے قاتلوں کا دفاع کرنے والوں کو جنگلی وحشی اور جاہل قراردیا ایسے لوگ انسانیت کو شرمناک کرتے ہیں ایسے لوگوں کو انسانی بستیوں میں رہنے کا کوئی حق نہیں حکومت فوری اقدامات کرتے ہوئے ایسے خونخوار اورسنگ دل قاتلوں کو عبرتناک سزادے اور سرعام پھانسی دے تاکہ عوام کو اس بات کا احساس ہو کہ ان کی بچیاں اس سماج میں محفوظ رہ سکتی ہیں۔ مولانا نے تمام مذاہب کے سربراہان سے گذارش کی کہ وہ بلاامتیاز مذہب رنگ ونسل بچی کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں تاکہ سماج کے ان درندوں کو ننگا کیا جاسکے۔مولانا نے حکومت میں شامل ان وزراء کے کردار کی بھی مذمت کی جنہوں نے قاتلوں اور حیوانوں کی حمایت کی ۔مولانا نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ ان دووزراء کو حکومت سے علیحدہ کریں تاکہ قانون کی بالادستی باقی رہ سکے۔ مولانا نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ ذاتی مداخلت کرکے اس واقعہ کی تحقیقات کو جلد مکمل کریں اور مرکزی حکومت سے مل کر وادی میں جاری خون خرابہ کو بند کرائیں۔