ڈوڈہ //امام و خطیب مرکزی جامع مسجد ڈوڈہ و سابق وزیر خالد نجیب سہروردی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا وائرس سے اپنے آپ کو محفوظ بنانے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ٹیکے لگوائیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے دہشت پھیلانے کے بجائے لوگوں سمجھانے کی کوشش کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کچھ محکمہ جات عوام میں خوف وہراس کا ماحول پیدا کررہے ہیں۔ اپنی رہائش گاہ پر منعقد ایک پریس کانفرنس سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی و ملکی سطح پر اس مہلک وباء نے شدت اختیار کی ہے اور ابھی تک ہزاروں افراد اس کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے ضلع و خطہ کی عوام سے اپیل کی کہ وہ ماسک کا استعمال کریں اور اس کے ساتھ سماجی دوری و صحت و صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ابتدا میں ہی تمام تیاریاں مکمل کریں اور دہلی و دیگر ریاستوں میں پیدا صورتحال سے سبق حاصل کریں۔ سہروردی نے کہا کہ لوگ گذشتہ سال کی طرح امسال بھی تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ باہر سے آنے والے لوگوں کی طبی جانچ کرنا لازمی ہے ۔ سابق وزیر نے کہا کہ وباء باہر سے ہی آسکتی ہے چونکہ جموں و کشمیر و باالخصوص خطہ چناب پہاڑوں کے درمیان واقع ہے یہاں وباء پیدا نہیں ہو سکتی ہے۔ سہروردی نے کہا کہ وبائی امراض سے بچنے کیلئے آج سے چودہ سو سال پہلے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام تر احتیاطی اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیہاتی لوگوں میں قوت مدافعت شہروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود احتیاط برتنے کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ اپنے آس پاس کے بزرگوں و بچوں کو گھروں میں رکھیں اور ایک ذمہ دار شہری کا فرض ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈؤن سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ لہٰذا ایک دوسرے کی مدد کریں اور اپنے عطیات، صدقات و زکوٰت زیادہ سے زیادہ ادا کریں۔ انہوں نے سماج کے ہر طبقہ سے اپیل کی کہ وہ اس وباء کو سنجیدگی سے لیں اور حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔سابق وزیر نے انتظامیہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کرفیو لگا کر عوام کو دبانے سے کچھ نہیں ہو گا بلکہ بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آکسیجن مشین آئی اور واپس بھی چلی گئی لیکن انتظامیہ کو اس کی خبر تک نہیں رہی۔ انہوں نے انتظامیہ پر ہنگامی بنیادوں پر تیار رہنے اور وباء پھیلنے سے پہلے ضلع و خطہ کے تمام ہسپتالوں میں آکسیجن، ونٹی لیٹر، ادویات و دیگر بنیادی سہولیات دستیاب رکھیں۔