گول کے اسکولوں میں مہنگے اور غیر معیاری سامان کی سپلائی کا الزام
زاہد بشیر
گول//جہاں ایک طرف سے ریاستی سرکار محکمہ تعلیم کو فعال بنانے ، سرکاری سکولوں میں بہتر تعلیم اور بہتر سا ز وسامان کی خاطر ہر مالی سال کے موقعہ پر کروڑوں روپے سکولوں کے لئے واگزار کرنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن زمینی سطح پر ان دعوئوں کی قلعی کھل جاتی ہے ۔ زون گول کے سرکاری اسکولوں میں سپلائی کیا جانے والا سامان غیر معیاری ہے جس میں بچوں کے بیٹھنے کیلئے ٹاٹ ، کرسیاں وغیرہ شامل ہیں ۔سکولوں میں ابھی تک بچوں کو وردی تک نہیں دی ۔جموں سے جس ٹریڈر نے سکولوں کے لئے سامان بھیجا ہے ان کی قیمتوں میں بہت فرق ہے ، دو دو ، تین تین گنا اضافی ریٹ پر یہ سامان یہاں پربھیجا گیا ہے جو غیر معیاری ہے۔اساتذہ کا کہنا ہے کہ جو ٹاٹ یہاں ستر اسی روپے میٹر ملتا ہے وہ ایک سو بیس روپے کے حساب سے بھیجا گیا ہے جو کافی زیادہ ہے ۔دو ماہ قبل ایم ایل اے گول ارناس اعجاز احمد خان نے محکمہ تعلیم کے افسران کوعمدہ وردی کی سپلائی اور اس کا نمونہ پیش کرنے کو کہا تھا لیکن ابھی تک سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو وردی تک نہیں دی گئی ۔ سرکاری سکولوں کی عمارتوں کی تعمیر میں بھی معیارکو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا ہے ۔ ایک سال قبل عمارت تعمیر جو ہوئی ہو گی وہ ایسی لگتی ہے کہ اسے پچاس سال قبل تعمیر کیا گیا ہے ۔ سرکاری سکولوں میں غیر معیاری میٹریل کے دئے جانے پرزیڈ ای او گول نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہاں پر سکولوں میں جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے اُسی کے مطابق ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن کو لکھا جاتا ہے اوروہیں’ راجیش ٹریڈر پکا ڈنگا جموں‘نامی فرم کو سپلائی آرڈر دیاجاتا ہے جنہوں نے یہاں پر یہ سامان بھیجا ہے ۔ زیڈ ای او گول نے خود اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ جو میٹریل یہاں پر آیا ہے وہ غیر معیاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس میں زیڈ ای او کا کوئی اہم رول نہیں ہوتا ہے اور مجھے بھی شکایت آئی ہے کہ انہوں نے وہاں سے من مرضی کا سامان ڈالا ہے جو غیر معیاری ہے ۔زیڈ ای او نے کہا کہ جو ریٹ مقرر ہوا ہے اس میں ہم کچھ نہیں کریں گے البتہ جو کم چیزیں ہیں وہ ہم ٹریڈرس سے لے لیں گے اور اس سلسلے میں ہم اعلیٰ حکام سے بات کریں گے ۔
روتی پدرنہ گذشتہ10 یوم سے بجلی سے محروم
ڈوڈہ//ڈوڈہ کا گاؤں روتی پدرنہ گزشتہ دس یوم سے گھپ اندھیر ے میں ہے۔10 دن قبل علاقہ کو بجلی سپلائی کر نے والا ٹرانسفارمر جل گیا تھا ۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ 10دن گزرنے کے باوجود بھی محکمہ بجلی کے کسی بھی آفیسر نے اس جانب کوئی توجہ نہ دی ۔محکمہ کے متعلقہ AEEسے اس بارے میں کئی بار اس بارے میں کہا گیا کہ علاقہ میں بجلی سپلائی کو بحال کیا جائے لیکن متعلقہ AEEکو ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ مقامی لوگوں نے محکمہ کے متعلقہ AEEکے تئیں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہر محکمہ میں ایسے آفیسران تعینا ت ہو جوعوامی مسائل کو لیکر اس قدر غیر سنجیدہ ہوں تو وہ محکمہ زوال کا شکار ہو گا۔مقامی لوگوں نے محکمہ بجلی کے اعلیٰ آفیسران اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقہ روتی پدرنہ میں بند پڑی بجلی سپلائی کو فوری طور بحال کیا جائے اور متعلقہ اے ای۔ای کا یہاں سے فوری طور تبادلہ کیا جائے تا کہ انہیں اس بات کا احساس ہوکہ انہیں سرکار جو تنخواہیں دیتی ہیں وہ اس لئے نہیں دیتی ہے ۔
پی ایم جی ایس وائی سڑک کی تعمیر پر تنازعہ
مقامی آبادی کا محکمہ مال پر نجی مفادات کیلئے الائنمنٹ بدلنے کا الزام
زاہدبشیر
گول//چند روز قبل علاقہ بھیمداسہ میں پی ایم جی ایس وائی سڑک کی الائنمنٹ کے حوالہ سے پیدا شدہ تنازعہ کو حل کرنے کے لئے ایس ڈی ایم گول سے ایک وفد ملا اور حق و انصاف کی مانگ کی ۔ اس دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے بھیمداسہ کے لوگوں نے تحصیلدار گول اور پٹواری پر سنگین الزامات لگائے کہ تحصیلدار گول نے ناشائستہ زبان استعمال کی جب کہ پٹواری پر نجی مفادات کے لئے سڑک کی الائمنٹ کو تبدیل کر نے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پورا گائوں یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے جو نا قابل قبول ہے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں سے یہ سڑک تعمیر کر رہے ہیں وہ کافی خطر ناک جگہ ہے اور جس وجہ سے مندر اور قبرستان کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔مقامی لوگوں نے کہا کہ اگر اس سے قبل کئی جگہوں پر خود انہوں نے الائمنٹ تبدیل کی تو یہاں پر یہ لوگ صرف اپنوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے کیا جا رہا ہے ۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمارا ایک وفد ڈویژنل کمشنر جموں کے پاس بھی ایک وفد گیا جنہوں نے ایک خط ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن کو بھیجا لیکن ابھی تک اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی لیکن اس کے برعکس ہمارے اوپر کیس درج کئے گئے اور ہمارے ساتھ انتظامیہ نا انصافی کر رہی ہے۔ دریں اثنا ء تحصیلدار گول نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں ۔ واضح رہے کہ لوگوں نے گائوں کے بیچ سے سڑک کی تعمیرکا مطالبہ کیا تھا لیکن محکمہ مال نے یہاں پر کچھ کہنے سے انکار کر دیا اور لوگوں سے ایک ریزولیشن مانگا لیکن اسی بیچ لوگوں کے ساتھ ہاتھا پائی شروع ہوئی تھی ۔ہاتھا پائی کے دوران پٹواری اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا اور پولیس نے اس سلسلے میں کئی لوگوں کو بھی گرفتار کیا تھا اور ایف آئی آر بھی درج کی ۔ بھیمداسہ میں تب سے لے کر آج تک لوگوں کا دھرنا جاری ہے جس میں خواتین نے تحصیلدار گول پر سنگین الزامات لگائے اور سوشل میڈیا کے ذریعے سرکار ، انتظامیہ تک اپنی آواز پہنچائی ۔
اندروال میں بنیادی سہولیات کا فقدان:چودھری سلام دین
ڈوڈہ//نیشنل کانفرنس کے حلقہ اندروال کے سینئر لیڈر چودھری سلام دین نے حلقہ کے سڑکوںکی خستہ حالی، بڑھتے آبپاشی کے مسائل، بجلی اور پانی کے بحران کے لئے متعلقہ ممبر اسمبلی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ایک پریس بیان کے مطابق بونجواہ میں ایک عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حلقہ میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔اس دوران لوگوں نے پی ایم جی ایس وائی سڑکوں پر معاوضہ ،محکمہ آر ڈی ڈی میں جاب کارڈ ہولڈروں کی ادائیگی وغیرہ کے مسائل اُٹھائے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ حلقہ کے بعض علاقوں میںٹرانسفارمر کی معمولی خرابی سے مہینوںاندھیرا رہتاہے۔بونجواہ کے لوگوں نے شکایت کی کہ انہوں نے کئی بار یہ مسئلہ متعلقہ ایم ایل اے کے ساتھ اُٹھایااور اسے حل کرنے کی درخواست کی لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مقامی ایم ایل اے حلقہ اندروال میںایم جی نریگا پروگرام لاگو کرنے میں ناکام رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایم جی نریگا کے تحت کوئی کام ہوتا بھی ہے تو اس میں غیر معیاری میٹیریل استعمال کیا جاتا ہے،جو کہ حلقہ میں تعمیر کی ہوئی گلیوں ، نالیوں اور بنڈوں کی حالت سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی حالت خستہ ہوئی ہے،جو اس بات سے عیاں ہے کہ ان سڑکوں پر گُذشتہ40 برسوں سے میکڈم بھی نہیں بچھایا گیا ہے،جسکے لئے متعلقہ ایم ایل اے ذمہ وار ہیں۔انہوں نے سڑک حادثات کیلئے بھی سڑکوں کی تعمیر میں غیر معیاری میٹیریل استعمال کرنے کو وجہ بتایا ۔انہوں نے محکمہ تعمیرات عامہ سے ان سڑکوں یک فوری مرمت کا مطالبہ کیاہے۔
وومن ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب
سے بیداری پروگرام
کشتواڑ// کشتواڑ کے دربشالہ لاس سروڑ علاقہ میں وومن ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے ایک بیداری پروگرام کا انعقادکیا گیا جس میں علاقہ کی تعلیم یافتہ، انپڑھ خواتین کی کافی تعداد نے شرکت کی۔کیمپ میں علاقہ کی معزز شخصیات و رضاکاروں نے شرکت کی،جن میں عاشق حُسین،رہنازا بیگم ،بد ر دین و دیگران بھی شامل تھے۔اس موقعہ پر ضلع منجیر محمد اقبال نے خواتین کو روزگار دلانے کے لئے چلائے جا رہے مختلف سکیموں کی جانکاری دی،جن میں NHFDC, NMDC, NBCFDC, WEP سکیمیں شامل ہیں۔انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ ان سکیموں کی جانکاری حاصل کرکے انکا استفادہ حاصل کریں۔
راشن ڈیلران کو اپنا ریکارڈ 2یوم
کے اندر جمع کرنے کی اپیل
ڈوڈہ//صوبائی صدر جموں کشمیر فیئرپرائز یونین عنایت اللہ ملک نے تمام راشن ڈیلران سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد از جلد ضلع و تحصیل دفاتر محکمہ خوراک شہری رسدات و امور صارفین FSCSA+ca سے رابطہ قائم کرکے اپنے کاغذات جمع کرائیں ۔ عنایت اللہ ملک کے ہمراہ عبدالجبار نثار احمد محمد شریف دالی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت سے امید کرتے ہیں کہ حکومت تمام وعدوں ، عدالتی احکامات اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ لے گی۔ اْنہوں نے راشن ڈیلران کو اپنا تمام ریکارڈ اپنے اپنے دفتر میں دو یوم کے اندر جمع کرنے کی اپیل کی ہے۔