اقلیتوں کی ہراسانی اور بے گھر کرنا ایجنڈا آف الائنس میں شامل
جاوید رانا کا مخلوط حکومت پرمتعصبانہ سلوک روا رکھنے کا الزام
جا وید اقبال
مےنڈھر//نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور ممبر قانون ساز اسمبلی مینڈھر جاوید احمد رانا نے ریاست کی مخلوط حکومت پر تعصب پرستی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ملک کے اندر فرقہ پرستی ضرور پکڑ رہی ہے اورتعصب پروان چڑ رہا ہے جبکہ علاقہ پرستی،ذات اور جماعت پرستی کے جنون میں غرق سیاست نے ملک کو پستی کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوںنے کہاکہ آئے روز کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جاتا ہے جس سے نفرت اور فرقہ واریت کو تقویت ملنا قدرتی امر ہے ۔ان کاکہناتھاکہ آج ہماری حکومتیں اور جماعتیں متعصب ہوتی جا رہی ہیں ،کھانے پینے اور رہن سہن کو فرقہ پرستی کے رنگ میں رنگا جا رہا ہے،نفرت ثقافتی مراکز اور تعلیمی اداروں میں پروان چڑرہی ہے اورہمارے یہاںمعزز معلم اور مدرس تعصب کے سمندر میں غوطہ زن ہیں۔انہوںنے کہا کہ ملک میں موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جو مستقبل میں مجموعی ملکی مفادات کے منافی ہے،بیجا زیادتیاں اتلافِ حق کا موجب بنتی جا رہی ہیں اور بعد میں ان نفرتوں اور زیادتوں کا انجام پستی کے سیوا کچھ نہیں ہوتا۔انہوںنے کہاکہ آج سیاست اتنی حقیر ہو چکی ہے کہ اقتدار بچانے کیلئے قوموں کی غیرت کو بھی گروی رکھا جا رہا ہے، ان داﺅ پیچ کے ذریعہ ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے کا احتمال ہے ۔جاوید احمد رانا نے کہا کہ ہماری سرکار کو تعصب کی عینک اتار کر ریاست کی مجموعی مساوی ترقی کی فکر کرنی چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ آج ریاست اقتصادی اور تعمیری بحران سے گزر رہی ہے،تعمیر و ترقی کی رفتار اس قدر سست ہو چکی ہے کہ زیر تعمیر تمام منصوبے عرصہ سے التوا میں پڑے ہوئے ہیں جوکہ باعثِ تشویش امر ہے ۔انہوں نے کہا کہ مذہبی اور علاقائی جنون سے نہیں بلکہ تعمیر و ترقی اور خوشحالی سے عوام کے دل جیتے جانے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہی وہ واحد جماعت ہے جو ریاست کے تینوں خطوں کے عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کر سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج پوری ریاست کے عوام یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ نیشنل کانفرنس قیادت ہی ریاست کو داخلی اور خارجی خطرات سے محفوظ رکھ سکتی ۔جاوید احمد رانا نے مخلوط سرکار پر علاقائی تعصب برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرکار ضرورت کی بنیاد پر نہیں تعصب کی بنیاد پر کام کرتی ہے اوراس سرکار کی ترجیحات اپنا اقتدار ہے نہ کہ عوامی مجبوری اور ضروریات۔ان کاکہناہے کہ آج پوری ریاست خشک سالی کی لپیٹ میں ہے اورعوام پریشان حال ہے، اگر صورتحال ایسی ہی رہتی ہے تو یقینا قحط سالی کے امکان واضح ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ دونوں اتحادی جماعتیںاپنے اپنے اسمبلی حلقوں کی طرف توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیںاور حزبِ اختلاف کے حقوق ان کے سامنے ریت کے ذرے کی مانند ہیں، اتنا ہی نہیں مخالفین کی آواز کو بلا جواز دبا یا جا رہا ہے اورمخلوط اتحاد کے دور اقتدار میں پوری ریاست کے اندر عوام میں عدم تحافظ کا رحجان پایا جاتا ہے۔رانا نے کہاکہ اقلیتوں کو حراساں اور خانہ بدر کیا جانا ان کے ایجنڈا آف الائنس میں گویا شامل ہے،قانون نافظ کرنے والے اداروں سے نفرت کی بو آنے لگی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایسے ماحول میں ریاست خصوصاً یہاں کی مظلوم عوام کا خدا ہی حافظ ہے۔
پی جی کالج اکیڈمک ایسوسی ایشن کی میٹنگ
راجوری //گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ راجوری کے اکیڈمک ایسوسی ایشن صدر نے پرنسپل سپیشل سکریٹری ہائر ایجوکیشن کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ عارضی لکچررز کے مطالبے کو مد نظر رکھتے ہوئے تنخواہ میں اضافہ کیا ہے جو قابل ستائش اقدام ہے ۔اس سلسلے میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں تعلیمی نظام بہتر بنانے سمیت دیگر طلباءکے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گےا ۔اس دوران کہاگیاکہ عارضی لکچرز تعلیمی نظام کو بہتر سمت کی طرف رواں رکھنے میں اپنا کلیدی رول نبھارہے ہیں جن کی کاوشوں اور محنت ولگن کے پیش نظر آج انہیں ملنے والے مشاہرے میں اضافہ کیا گےا ہے جو قابل سائش ہے ۔ عرفان بٹ نے کہا کہ اساتذہ تعلیمی نظام کو مزید مستحکم بنانے میں اپنا بہترین کردار نبھائیں۔میٹنگ میں ڈاکٹر طاہر حسین ، ڈاکٹر پشپندر کمار، ڈاکٹر اطہر عزیز رینہ ، پریتما بھوشن، ڈاکٹر نصیر احمد ،دیویا مہاجن وغیرہ بھی موجو دتھے۔
دوداسن بالا میں ہینڈ پمپ تنصیب
آپسی لڑائی میںدو افراد زخمی
طارق شال
تھنہ منڈی // تھنہ منڈی کے دداسن بالا علاقے میں ہینڈ پمپ کی تنصیب کے معاملے پر دو گروپوں میں تصادم آرائی ہوگئی جس کے نتیجہ میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں ضلع ہسپتال راجوری منتقل کیاگیا۔یہ واقعہ دوداسن بالا موہڑا باساں میں پیش آیاہے جہاں ہینڈ پمپ نصب کرنے کے معاملہ میں دو گروپوں کے درمیان جھگڑاہوگیا جس کی وجہ سے دو افراد زخمی ہوئے جنہیں مضروب حالت میں ضلع ہسپتال راجوری منتقل کیاگیاجہاں وہ زیر علاج ہیں ۔واضح رہے کہ سب سے بڑا علاقہ دوداسن بالا میں ضلع انتظامیہ کی طرف سے پانی کی قلت کو دور کرنے کے لئے ضلع انتظامیہ نے ہینڈ پمپ نصب کرنے کا فیصلہ لیا ہے جس پر کام شروع کیا گیا۔ دوداسن بالا تین پنچائتوں پر مشتمل ہے جس کی آبادی پندرہ ہزار سے زیادہ ہے۔ ماہ جنوری میں ڈی سی راجوری کی طرف سے عوامی دربار منعقد کیا گیا جس میں مقامی لوگوں نے کہا کہ ان تینوں پنچائتوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے جسکو مد نظر رکھتے ھوئے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری نے عوام کی دیرینہ مانگ کو پورا کرتے ہوئے اس علاقے میں ہینڈ پمپ نصب کرنے کا فیصلہ کیا جس پر کام جاری ہے ۔
محمد زمان صدر بار ایسوسی ایشن پونچھ منتخب
حسین محتشم
پونچھ//پونچھ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات عمل میں لائے گئے ۔اس دوران سب سے زیادہ 37 ووٹ حاصل کر کے ایڈووکیٹ محمد زمان نے شاندار جیت حاصل کی اور وہ بار کے صدر منتخب ہوئے ۔ واضح رہے کہ اس چناﺅ میں صدرکے عہدے کیلئے تین امیدواروںنے انتخابی عمل میں حصہ لیا جن میں سابق صدر ایڈووکیٹ محمد امین بھٹی نے 24اور ایڈووکیٹ چوہدری نذیر حسین نے 10 ووٹ حاصل کئے۔ ایڈووکیٹ اسحق نائب صدر، ایڈووکیٹ سجاد جنرل سکریٹری، ایڈووکیٹ الیاس جوائنٹ سیکریٹری اور ایڈووکیٹ رب نواز خزانچی منتخب ہوئے۔ اس دوران سیول سوسائٹی اور سماجی تنظیموں کی جانب سے سے تمام نو منتخب عہدیداروں کو مبارک باد پیش کی گئی ہے۔
سجاد حسین ساتھر ہ سول سوسائٹی کے صدرمقرر
حسین محتشم
پونچھ// ساتھرہ میں ایک اجلاس زیر صدارت حفیظ اللہ خان بلاک صدر بیوپار منڈل ساتھرہ منعقد ہو۔اس موقعہ پر علاقہ کے کئی مسائل پر غور و خوض کیا گیا جس کے بعد اس بات کی ضرورت پر زور دیا گیا کہ ساتھرہ بلاک کے مسائل کو اعلیٰ حکام تک پہنچانے کیلئے بلاک سطح کی سول سوسائٹی کے قیام کی ضرورت ہے جس کے بعد تمام شرکاءنے با اتفاق رائے فیصلہ کرکے سول سوسائٹی کے صدر سجاد حسین شاہ (کاکا) کو منتخب کیا جبکہ ممتاز ریشی نائب صدر، شاہ حسین شاہ جنرل سیکریٹری، خورشید حسین سرپنچ سیکریٹری، حاجی محمد اسلم کو خزانچی جبکہ سرپنچ فضل حسین، سرپنچ سائیں محمد، عبدالغنی انقلابی، شوکت حسین کرمانی، خادم حسین شاہ، حاجی محمد اقبال کو با اتفاق رائے صلح کار منتخب کیا گیا۔ اس موقعہ پر سبھی عہدیداران سے حلف برادری لی گئی کہ کوئی بھی کسی ذاتی مفاد یا ذاتی رنجش کیلئے سوسائٹی کو بدنام نہیں کرے گا بلکہ ایسا کرنے والے کو سوسائٹی سے برخواست کرنے کا فیصلہ بھی لیا جائے گا۔ منتخبہ عہدیداران نے یقین دلایا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیں گے۔اس موقعہ پرجاوید ریشی نے سوسائٹی کے عہدیداران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ سوسائٹی کے مقصد کو پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سوسائٹی کا مقصد بلاک کی عوام کو درپیش مختلف مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔اس موقعہ پر سجاد حسین، نواز شریف، حاجی محمد اکرم، حاجی ضیاءالدین، صابر حسین کرمانی وغیرہ بھی موجو دتھے۔
ٹریکٹر روڈ تنازعہ
ایس ڈی ایم تھنہ منڈی نے موقعہ کا جائزہ لیا
طارق شال
تھنہ منڈی // تھنہ منڈی کے وارڈ نمبر 11 میں ایک ٹریکٹر روڈ کے تنازعہ کو حل کروانے کیلئے سب ڈیویژنل مجسٹریٹ تھنہ منڈی موقعہ پر پہنچے۔ وارڈ نمبر 11 کے مقامی لوگ پرانہ تھنہ سے الال کو جانے والی بندو بستی گہل کو ٹریکٹر روڈ میں منتقل کرنا چاہتے ہیں تاکہ عام زمینداروں کو کھیتی باڑی میں ٹریکٹر کی مدد مل سکے تاہم اس میں کچھ لوگ اعتراض بھی کرتے ہیں جنہوںنے اس حوالے سے انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کی ۔ جمعہ کے روز ایس ڈی ایم تھنہ منڈی محمد افضل مرزا نے موقعہ ملاحظہ کر کے دونوں فریقین سے باہمی طور پر ٹریکٹر روڈ تنازعہ کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ مال کے ریکارڈ کو دیکھ کر عوام کی بہتری کے لئے باہمی فیصلہ کیا جائے گا۔
بدھل میں چوتھے روز بھی دھرنا جاری
علاقے کے ساتھ گہری سازش کا الزام
نیوز ڈیسک
بدھل //2014میں بدھل کو دیئے گئے تحصیل درجہ کے حکمنامہ پر عمل درآمد کے مطالبے پر مقامی لوگوںنے چوتھے رو زبھی احتجاج جاری رکھا ۔ذرائع کے مطابق مسلسل چوتھے روز بھی ڈاک بنگلہ بدھل میں دھرنا جاری رہا جس دوران بدھل کو تحصیل کادرجہ دینے والے حکمنامے کو عملانے کی مانگ کی گئی ۔مظاہرین نے حکومت سے اپیل کی کہ بدھل کو دیئے گئے تحصیل درجے پر عمل درآمد کیاجائے ۔ انہوںنے کہاکہ بدھل کو پہلے سے ہی تحصیل کا درجہ حاصل تھا تاہم کچھ دہائیاں قبل اس درجے کو کوٹرنکہ منتقل کردیاگیا۔ان کاکہناتھاکہ چار سال قبل سابق حکومت نے ایک حکمنامہ جاری کرکے بدھل کو تحصیل کادرجہ دیاتھاتاہم ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت اس پر عمل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ دھرنے دینے پر مجبور ہوئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ بدھل کے خلاف ایک گہری سازش رچی جارہی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ وہ تحصیل درجہ کیلئے جاری ہوئے حکمنامے پر عمل درآمد ہونے تک دھرنا جاری رکھیںگے ۔
بالاکوٹ میں پینے کے پانی کا بحران
جاوید اقبال
مینڈھر //سرحدی تحصیل بالاکوٹ میں جہاں لوگوں کو ہندوپاک کشیدگی کی وجہ سے مشکلات کاسامناہے وہیں انہیں پینے کے پانی کی بھی شدید قلت درپیش ہے ۔ مقامی لوگ کئی عرصہ سے مانگ کررہے ہیں کہ پانی کی سپلائی کا کوئی بندوبست کیاجائے مگر ابھی تک کوئی اقدام نہیں کیاگیا ۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بالاکوٹ یوتھ کلب کے چیئرمین ماجد کسانہ نے کہاکہ بالاکوٹ میں پی ایچ ای کی تمام سکیمیں ناکارہ بنی ہوئی ہیں اور متعلقہ محکمہ ناکام ثابت ہورہاہے ۔انہوںنے کہاکہ کوئی ایک بھی سکیم کام نہیں کررہی اور لوگ پانی کی وجہ سے شدید پریشان ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اس سال خشک سالی کاسامناہے اور اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر پانی کا کوئی بندوبست نہیں کیاگیاتو لوگ اور ان کے مویشی بھکمری کاشکار ہوسکتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ فوری طور پر اقدامات کرکے پانی کا بندوبست کیاجائے نہیں تو وہ محکمہ کے خلاف سڑکوں پر اتر آئیںگے جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔