آصفہ کے قاتلوں کو سزائے موت دینے کی مانگ
نمائندہ عظمیٰ
رام بن //بلاک کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رامسو صدر مجیب الرحمن نے ننھی آصفہ کو انصاف دلانے کی مانگ کرتے ہوئے گنہگاروںکو عبرت ناک سزا دلائے جانے کی مانگ کی ۔وہیں سب ڈویژن رام سو کے مختلف سوشل تنظیموںکے نمائندوں،سیاسی پارٹیوںکے ورکران و لیڈران ،مذہبی لیڈران ،تاجروںو طلاب نے کٹھوعہ کی ننھی آصفہ کے ساتھ ہوئی گھناونی حرکت کی بھر پور مذمت کی ۔مجیب الرحمن نے اس بربریت کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سرکار عوام کے جان و مال کی حفاظت کرنے میںناکام رہی ہے ۔انہوںنے کہا کہ کچھ برسوںسے ملک میں ریپ اور قتل کی وارداتوںمیں بھاری اضافہ ہوا ہے۔انہوںنے آصفہ کیس کی سماعت کٹھوعہ سے باہر کئے جانے کی مانگ کی ۔کیونکہ اس وقت کچھ وکلاء کے رویہ کو دیکھتے ہوئے صاف و شفاف ٹرائل ممکن ہونا مشکل ہے ْان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو کا نعرہ بھی جملہ ثابت ہو گیا ہے ۔مودی سرکار میںریپ کے کیس کافی بڑھ گئے ہیں۔مجیب الرحمن نے مانگ کی کہ ان لوگوں کے خلاف بھی کیس درج کیا جائے جنہوںنے معصوم کی بجائے ظالم کے حق میںکھڑا ہونے کو ترجیح دے کر اپنے مذموم عزائم کا اظہار کیا۔انہوںے کہا کہ آصفہ کے ساتھ ہوئے گھناونے جرائم جیسی وارداتیںملک میںبڑھ رہی ہیں۔انہوںنے مانگ کی کہ گنہگاروںکو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔
بھدرواہ میں زین لعابدین کا سالانہ عرس منایا گیا
طاہر ندیم خان
بھدرواہ//حضرت زین لعابدین سالانہ عرس منانے کیلئے اتوار کو قلعہ محلہ بھدرواہ میں درگاہ شریف پر زائرین کی ایک بڑی تعداد نے حاضری دی۔عرس کی کارروائی قران کریم کی آیات اور نعت خوانی سے شروع ہوئی۔لوگوں نے حضرت کی انسانیت،اسلامی تعلیمات کو فروغ اور غریبوں اور محتاجوں کی روحانی رہنمائی پر خراج تحسین پیش کیا۔عرس کے دوران مذہبی رہنماء اور دیگر شرکاء نے خصوصی دعائوں کا اہتمام کیا۔انہوں نے معاشرے کیلئے امن اور ہم آنگی کے لئے دعائیں مانگیں۔شرکاء نے بھدرواہ میں اسلام پھیلانے کیلئے حضرت زین العبدین کی شراکت کو یاد کیا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ سچائی اور ایمانداری کی تعلیم دی۔اس موقعہ پر محمد شفیع اخون نے کہا کہ ان بزرگوں نے لوگوں کو بنیادی اصول سکھائے اور انہیں اندھرے سے اجالے کی جانب جانے کی تلقین کی۔انہوں نے شرکاء سے قرآنی تعلیم اور حدیث پر عمل کرنے کی درخواست کی۔اس موقعہ پر عرس میں محمد شفیع اخون،عنایت اللہ،محمد شفیع ،محمد ایوب خان اور دیگر موجود تھے۔
سروڑی کااظہار تعزیت
کشتواڑ// جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدروایم ایل اے اندروال غلام محمد سروڑی نے غلام محمدحجام)دارا( ساکنہ کشتواڑ کی وفات پر گہرے دُکھ کااظہار کیا ہے۔غلام محمدحجام جوکہ سروڑی کے پڑوسی بھی ہے ۔یہاں جاری ایک تعزیتی پیغام میں سروڑی نے سوگوار خاندان کیساتھ ہمدردی کااظہار کرتے ہوئے مرحوم کو نیک سیرت انسان قرار دیتے ہوئے مرحوم کے لئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور غمزدگان کو یہ صدمہ عظیم برداشت کرنے کے لئے صبر جمیل عطا کرنے کی دُعا کی ہے ۔اُنہوں نے مرحوم کوجنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطاکرنے کی بارگاہِ الٰہی سے دعاکی۔
معصوم آصفہ کی آہ …اور سازش کا قلعہ مسمار
پچھلے تین ماہ سے معصوم شہید آصفہ بانو معاملہ کو لیکر درندہ صفت شیطانوں نے ریاست میں جو کشمکش قائم کر رکھی تھی آخر کار اس گھناؤنی سازش کا راز ریاستی پولیس کی کرائم برانچ نے افشاء کردیا واقعی کرائم برانچ کی کارکردگی لائق تحسین ہے، اس سازش کے تار بیرون ریاست تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے اپنی ریاست میں مالکانہ حقوق رکھنے والے مسلمان گوجروں کو ضلع بدر کرکے اُن زمینوں کا سودا غیر ریاستی لوگوں سے کرنے کا الزام مقامی لوگ لگارہے ہیں ۔ جگہ کیسے خالی ہو اس کے لئے ایک منصوبہ بند طریقے سے پہلے آبادی کے تناسب بگاڑنے کی افواہ پھیلائی جاتی رہی اور مسلم آبادی کو ہراساں کیا جاتا رہا ۔ ساتھ ہی مذہبی منافرت پھیلا کرجموں کے عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے بی جے پی سے ظاہری طور عداوت ظاہر کرنے والی ایک اورسیاسی جماعت جواب اقتدا میں نہیں۔ بی جے پی کی اندرون خانہ ٹیم بی کے طورپر لوگوں کو بنگلہ دیشی اورروہنگیائی مسلمانوں کا رونا روتی رہی اور دھمکیاں دیتی رہی ۔ اب اگر یہ رونا مرکزی وزارت داخلہ کے آگے روتی تو انہیں قانونی طورپر زبردست جھٹکا لگتا کیونکہ مرکزی سرکار سپریم کورٹ میں ان شرپسندوں کی مانگوں کے برعکس حلف نامہ دائر کرچکی ہے۔ اسی طرح جموں خطے کے مختلف انڈسٹریل پلاٹ غیر ریاستی باشندوں کوLeaseپر دیدیئے گئے اورفرضی کارخانے رجسٹرڈ کرکے نا صرف ان سے کروڑوں روپے اینٹھے گئے بلکہ کارخانہ داروں کے نام سے مرکزی سرکار سے سبسڈی Incentiyeبھی حاصل کرکے ہضم کرلی گئی اور جموں کے حقدار عوام کو ٹھینگا دکھا دیا گیا اور اسی طرح کی ہیرا پھیری پوشیدہ رکھنے کے لئے لوگوں کی توجہ دوسری طرف مبذول کردی گئی۔کٹھوعہ کے مجرم سانجھی رام اوراس کے ساتھی درندوں کااستعمال ایک موٹی رقم دے کر تو کرلیا اورجرم کو چھپانے کے لئے سڑکوں پر ننگا ناچ بھی کرنے لگے مگر قانون کی گرفت میں آتے ہی بوکھلاگئے اورانہیں خوف ہے کہ اگر قاتل درندے انکا نام ظاہر کردیں گے اورسازش بے نقاب ہوجاتی ہے تو کیا ہوگا اسی لئے CBIکی رٹ لگانے لگے ۔کیوں کہ انہیں یہ بھی اطمینان رہا کہ ریاست سے تعلق رکھنے والے ایک لیڈر کیCBI تک پہنچ ہے اور وہ سی بی آئی پر دباؤ بنا سکتاہے ، لیکن اب یہ بات بھی غور کرنے والی ہے کہ اس لیڈر نے اتنے ہنگامے اورتناؤ کے باوجود ایک بھی بیان نہیں دیا اورابھی حاشیے سے غائب ہے لیکن اب بِلّی تھیلے کے باہر آچکی ہے اور دونوں وزیروں کو کابینہ سے باہر کا راستہ دکھادیا گیا ہے ، بی جے پی کے دو انتہا پسند وزیر اب عوام کو بہکا کر اپنی ساکھ بچانے کے لئے متضاد بیان بازی کررہے ہیں مگر خون سرچڑھ کر بولتا ہے ، یہ کہتے ہیں کہ میڈیا نے انہیں بدنام کیا اورفرقہ وارانہ رنگ دیا ، جبکہ میڈیا اس وقت RSSکے کنٹرول میں ہے لیکن ان میں بھی تھوڑا سا ضمیر باقی ہے ، بی جے پی کہہ رہی ہے کہ ہماری جماعت فرقہ پرست نہیں لیکن بی جے پی فرقہ پرستی سے ہی وجود میں آئی ہے اورالیکشن جیتنے کے لئے ملک کے ہرکونے میں فرقہ وارانہ ماحول تیار کیا جارہاہے ، ہم اپنی ریاست کو دیکھیں تو کتنے ہی بے ضمیر لوگ صرف اپنے ذاتی مفاد کے لئے اس فرقہ پرست جماعت کا دامن تھامے ہوئے ہیں اوراپنے ہی مسلمان بھائیوں کوگمراہ کررہے ہیں کٹھوعہ معاملہ میں راشٹریہ مسلم منچ کی مجرمانہ خاموشی اس کی مثال ہے ۔ جہاں تک بار ایسو سی ایشن جموں کا تعلق ہے تو یہ کہنا مناسب ہوگا کہ وہ’’ مکڑّجال ‘‘میں پھنس گئی ہے اور ریاست کی تمام بار ایسوسی ایشنوں نے ان پر عدم اعتماد ظاہرکردیاہے ، جو ان کے لئے حقارت اور ذلالت ہے ، میرا مشورہ ہے کہ وہ دو غلی باتیں ناکریں اور اپنا رخ واضح کریں ۔بہرحال اب کرائم برانچ نے ابھی صرف شہید آصفہ کا معمہ حل کرکے چارج شیٹ داخل کردی ہے لیکن امید کی جاسکتی ہے کہ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے تحقیقاتی ایجنسیاں اس راز سے بھی پردہ اٹھائیں کہ یہ سازش کتنی گہری تھی اور اس کی جڑ یں بیرون ریاست میں کہاں تک ہیں ، یہاں کے لوگ امن ، بھائی چارہ ، رواداری قائم رکھنا چاہتے ہیں اور پر ُامن ماحول میں رخنہ ڈالنے والوں کے خلاف متحد ہیں۔ ہمارا مطالبہ جائز ہے کہ غلیظ حرکتیں کرنے اور منافرت پھیلانے کے لئے فرقہ پرست جماعتیں قومی جھنڈے کااستعمال ہرگز ناکریں اور جھنڈے تقدس کا خیال رکھیں اوراگر ایسا کوئی کرتاہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہئے ۔ یہ شرارتی لوگ جھنڈے کو جرائم کرنے کا لائسنس سمجھتے ہیں۔ اس لئے ایسی حرکتوں سے باز رہیں ہم BJP کے سنیل سیٹھی کے بیان کو نفسیاتی دباؤ والا بیان مان سکتے ہیں انہیں یہ غلط فہمی کیسے ہوئی کہ مسلمان خوفزدہ ہے ، سیٹھی صاحب مسلمان اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا بلکہ وہ اپنے غیر مسلم بھائیوں کی حفاظت کے لئے شانہ بشانہ رہتاہے ہمارے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی حماقت نا کریں۔
محمد اسلام خان دلپتیاں جموں
7051106355
آصفہ قتل کیس اوروکلاء کی شرمناک حرکت
آصفہ قتل اورعصمت ریزی کیس نے پوری انسانیت کواس وقت شرمسارکیاجب کرائم برانچ کی ایک خصوصی ٹیم نے پورے کیس کی تحقیقات مکمل کرنے کے بعدکٹھوعہ کی عدالت میں پیش کردی ۔جس وقت کرائم برانچ کی ٹیم عدالت میں چارج شیٹ پیش کرنے جارہی تھی ۔ٹھیک اُسی وقت مقامی وکیلوں کی ایک ٹولی نمودار ہوئی اورکرائم برانچ کی ٹیم کوعدالت میں چارج شیٹ داخل کرنے سے روکنے کی کوشش کرنے لگی۔ انصاف دلانے والے ان نام نہاد وکلاء نے کرائم برانچ کے خلاف نعرہ بازی بھی کی اوراس کیس کو سی بی آئی کے حوالہ کرنے کی پرزورمانگ بھی۔ وُکلاکاپیشہ ہمارے سماج میں بڑامدبرپیشہ ماناجاتاہے ۔عوام کواس پیشے سے کافی اُمیدیں وابستہ ہوتی ہیں ۔وکلاء کاشماردانش ورطبقے میں ہوتاہے ۔بڑے بڑے مسائل کوسلجھانے میں وکلاء اہم کرداراداکرتے ہیں لیکن آصفہ قتل کیس کے سلسلے میں اس پیشے پربہت سارے سوالات کھڑے ہوجاتے ہیں۔ رسانہ گائوں کی آصفہ کو جس بے دردی سے قتل کیاگیا اُس سے ہم سب واقف ہیں۔ گجرطبقہ سے تعلق رکھنے والی معصوم آصفہ کی عزت محض اس لیے تارتارکی گئی تاکہ اس علاقے کی اقلیتوں میں خوف وہراس پیداکرکے انہیں علاقہ چھوڑنے پرمجبور کیاجاسکے۔ عصمت ریزی کے بعد آصفہ کابے رحمانہ قتل انسان کے رونگھٹے کھڑے کردیتاہے۔ وزیراعلیٰ نے جب اس کیس کی تفتیش کرائم برانچ کے سپرد کی تومقامی ہندوتنظیم ’’ہندوایکتامنچ‘‘ کاقیام آناً فاناً عمل میں لایاگیا۔فرقہ پرستوں نے اس کیس کوسی بی آئی کے حوالے کرنے کے لیے مختلف جلوسوں اورجلسوں کاانعقاد کیا۔یہی نہیں پی ڈی پی بھاجپاسرکارمیں شامل دوفرقہ پرست وزراء نے ان جلسوں میں فرقہ وارانہ تقاریرکے ذریعے سے پوری ریاست میں ایک عجیب طرح کاماحول پیداکرنے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجودکرائم برانچ کی تحقیقاتی ٹیم بڑی دلیرانہ طریقے سے اس سنسنی خیزکیس کی تفتیش کوآگے بڑھاتی رہی ۔وہ صحیح سمت میں تفتیش کوآگے بڑھاتے رہے اور کسی کے دبائو میں آئے بغیردیانت داری سے کیس کی تفتیش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے دن رات محنت کرتے رہے اورآخرکار ان وحشیوں کے گریبانوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے جنھوں نے یہ ناپاک حرکت انجام دی تھی ۔اُدھرفرقہ پرست ملزموں کوبچانے کی بھرپورکوشش میں مختلف حربے استعمال کرنے میں عمل پیرا رہے۔ ہندوستانی جھنڈے کے سائے میں نکالے گئے جلوسوں کاجب کوئی اثرنہیں ہوا توفرقہ پرستوں نے خواتین کاحربہ استعمال کیا اورانہیں دھرنے پربٹھادیا۔ ظلم کی حمایت کرنے والے یہ فرقہ پرست جب پوری طرح ناکامیاب ہوئے توسماج کاسب سے بڑامعتبرپیشہ یعنی وکلاء میدان میں اُترااورچارج شیٹ دائرکرتے وقت کرائم برانچ کے اہلکاروں کے سامنے احتجاج اورانہیں چارج شیٹ دائرنہ کرنے کی کوشش کرکے پوری انسانیت کوشرمسارکردیا۔ اس بات سے صاف ظاہرہوتاہے کہ انصاف دلانے والے یہ نام نہاد متبرک وکلا کس قدراپنے پیشے کوبدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس واقعہ سے ان معتبروکلاء کی بھی شبیہ خراب ہوئی ہے جوایمانداری سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ہوناتویہ چاہیئے تھاکہ سماج کایہ معتبرشعبہ آگے آکر آصفہ قتل اورعصمت ریزی کیس کی مذمت کرکے ملزموں کوکیفرکردارتک پہنچانے میں اپنامثبت رول اداکرتالیکن ہوااس کے برعکس۔ چندوکلاء کی ٹولی نے یہ گھنائونی حرکت کرکے اس پیشے سے وابستہ سب ہی افرادکوداغ داربناڈالا۔ حددیکھئیے جموں بارایسوسی ایشن نے 11 اپریل کو جموں بندکی کال دی ہے اس میں بھی آصفہ عصمت ریزی کیس پہلامدعا ہے ۔حالانکہ بارایسوسی ایشن کی جموں بندکی کال کوپونچھ راجوری اورچناب ویلی کی بارایسوسی ایشنوں نے یکسرمستردکردیاہے لیکن جموں بارایسوسی ایشن کی فرقہ پرست ذہنیت کابخوبی علم ہوجاتاہے ۔یہاں جموں بارایسوسی ایشن بھی آصفہ قتل کیس کوسی بی آئی کے حوالے کرنے کے حق میں اپنی آوازبلندکررہی ہے۔بارایسوسی ایشن کی اس حرکت سے ایسوسی ایشن کی شبیہ عوام میں بری طرح سے خراب ہوئی ہے۔ہوناتویہ چاہیئے تھاکہ جموں بارایسوسی ایشن خطہ پیرپنچال اورخطہ چناب میں ہوئی سیاسی زیادتیوں کے خلاف آوازبلندکرتی کیونکہ آزادی کے بعدریاست کے یہی دوخطے ہیں جوزندگی کے ہرشعبے میں پچھڑکررہ گئے ہیں ورنہ اگردیکھاجائے توجموں کے ساتھ آزادی کے بعدکسی بھی حکومت نے کسی قسم کی زیادتی کبھی کی ہی نہیں۔ اس کی مثال ہم یہاں ہوئے ترقیاتی کاموں سے دے سکتے ہیں لیکن آصفہ قتل کیس کے مجرموں کی حمایت میں کھل کر سامنے آنا اس بات کاثبوت پیش کرتی ہے کہ بارایسوسی ایشن بھی فرقہ پرستی کو ہی ہوادے رہی ہے ۔بارایسوسی ایشن آصفہ قتل کیس پرسیاست کرکے سماج کوبانٹنے کاکام خوش اسلوبی سے انجام دے رہی ہے ۔جموں کے سیکولر سوچ رکھنے والے ذی حس عوام بارکی اس حرکت سے حیران وپریشان ہیں۔ان کاماننا ہے کہ وکلاء کی اس طرح کی گھنائونی سیاست دوفرقوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کاسبب بن سکتی ہے۔بارکوچاہیئے تھاکہ وہ سرحدوں پرہورہے پاکستان کی طرف سے ظلم وتشددکے خلاف احتجاج کرتی اورامن کی خاطرحکومت کوپاکستان پربات چیت کرنے پرمجبورکرتی۔ بے روزگاری کے خلاف آواز بلندکرتی لیکن آصفہ کوانصاف دلانے کے بجائے ایسوسی ایشن جس طرح ملزموں کی حمایت میں کھڑی ہوئی ہے اس سے حالات مزیدخراب ہونے کااندیشہ ہے ۔جموں کے امن پسند شہریوں اورتجارت پیشہ طبقہ کایہ بھی کہناہے کہ جموں بارایسوسی ایشن کی اس بیہودہ حرکت سے دوفرقوں کے درمیان دوریاں بھی پیداہوسکتی ہیں جس کاخمیازہ جموں کے تجارت سے وابستہ طبقے کوہی بھگتناپڑے گا کیونکہ ان کاکاروباربراہ راست کشمیرسے جڑاہواہے اورکشمیریوں کیلئے آصفہ قتل کیس ان کے جذبات سے جڑا ہواہے جس کی مثال کشمیرکے ان علیحدگی پسنداورمین اسٹریم لیڈروں کے ان بیانات سے دی جاسکتی ہے جن میں انہوں نے اس شرمناک واقعے کوکڑے الفاظ میں تنقیدکانشانہ بنایاہے ۔یہی نہیں عوام میں اس واقعہ کولے کرزبردست غصہ پایاجارہاہے ۔بارکی اس حرکت سے جموں اورکشمیرکے درمیان دوریاں بھی بڑھاسکتی ہیں اوریہ دوریاں جموں کے مفادمیں کسی طرح بھی ٹھیک نہیں ہیں۔وکلاء کااحتجاج کرنااورجموں بندکی کال دیناتب صحیح قراردیاجاتا اگراس کیس کوکرائم برانچ حل کرنے میں ناکامیاب رہتی۔ اب چوں کہ ملزم قانون کے شکنجے میں پھنس چکے ہیں اورانہوں نے اقرارجرم بھی کردیاہے اس لیے وکلاء کااحتجاج بے سودہوکر رہ جاتاہے ۔بہترہوتااگریہ وکلاء ریاست اورخاص کرکشمیرمیں پھیلی ہوئی بدامنی کے خلاف احتجاج کرتے ۔ایساکرنے پرشاید کسی کولگتاکہ کوئی توہے جوظالموں کے خلاف احتجاج بلندکررہاہے لیکن آصفہ عصمت ریزی کے مجرموں کے حق میں احتجاج کرنے کاکوئی جوازہی نہیں بنتا۔
پروفیسرشہاب عنایت ملک
94191-81351