حکومت عوامی توقعات پر پورااترنے میں ناکام:کانگریس سیوا دل
عظمیٰ نیوز
عظمیٰ نیوز
ڈوڈہ//کانگریس سیوادل نے کہاہے کہ حکومت عوام کی امنگوں میں کھرااُترنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔یہاں جاری پریس بیان میں دل کے خطہ چناب کے انچارج سنجے منہاس نے کہاکہ اقتدارمیں شامل دونوں سیاسی جماعتوں پی ڈی پی اوربی جے پی نے اسمبلی انتخابات 2014 کی انتخابی مہم کے دوران خطہ چناب کی عوام کے ساتھ بڑے بڑے وعدے کیے تھے جنھیں آج تک پورانہیں کیاگیاہے جس کی وجہ سے مخلوط حکومت کے تئیں عوام میں ناراضگی پائی جارہی ہے اوریہ دونوں جماعتیں عوام کااعتمادکھوبیٹھی ہیں۔ منہاس نے کہاکہ موجودہ پی ڈی پی ۔بی جے پی مخلوط حکومت اتحاد اقتدارکے نشے میں مست ہے اورعوام کودردرکی ٹھوکریں کھانی پڑرہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ وادی چناب کے تمام اضلاع میں بے روزگاروں کی پریشانیاں بڑھتی جارہی ہیں،مقامی پروجیکٹوں میں انہیں روزگاردینے کی طرف حکومت کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی اوربی جے پی کے آپسی اختلافات کے سبب ریاست کی تعمیروترقی ٹھپ ہوکررہ گئی ہے اورعوام کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی خطرے میں پڑگئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت عام لوگوں کی مشکلات کودورکرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھارہی ہے جوکہ باعث افسوس ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کیلئے آوازبلندکریں اورہندوستان کی سیکولراقدارکی بحالی کیلئے جدوجہدکریں ۔انہوں نے لوگوں سے فرقہ ورانہ بھائی چارے کوہرصورت میں قائم رکھنے پرزوردیا۔
کلیریکل ملازمین کے احتجاج کی حمایت
عظمیٰ نیوز
عظمیٰ نیوز
ڈوڈہ//کلیریکل ملازمین کی حقیقی اور طویل زیر التواء مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے این ایچ ایم ایمپلائز ایسوسی ایشن نے کلیریکل کیڈر کے مطالبات کو حل کرنے کے لئے ریاستی حکومت پر زور دیا۔پریس کے نام جاری ایک بیان میںتنظیم نے کہا کہ کلیریکل ملازمین کے ساتھ بار بار وعدے کرنے کے بائوجود حکومت ملازمین کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔انہوںنے کہا کہ جموں وکشمیرکے ملازمین ورک کلچر امن اور ہم آہنگی کے حق میں ہیں اور وہ حکومت سے کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتے لیکن حکومت کی غلط پالیسیوں ،متعصب نقطہ نظر اور منفی رویہ سے ملازموں کو حکومت سے ٹکرائو کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کیلئے مجبور کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کلریکل ایمپلائز سرکاری محکوں کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ہڑتال کی وجہ سے سرکاری دفاتر میں کام متاثر ہو رہا ہے اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کلریکل کیڈر کی شکایات کے ابتدائی ازالے کیلئے ترمبو نے وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ سے اس معاملہ کو تر جیح بنیادوں پر حل کرنے کی اپیل کی ۔
نالے
یہ رنگ بدلتے گرگٹ!
تاریخ میں دستور رہا ہے کہ سیاستدانوں نے اپنی مراعات، جائیداد اور سیاسی حیثیت کو برقرار رکھنے اور اس کے دفاع اورتحفظ کے لئے جنگ کی صورت میں مختلف نعروں کا استعمال کیاہے، کہیں مذہب کے نام پر عوام کواپنے مخالف کے خلاف جنگ کرنے پر اُکسایا جاتا رہا تو کہیں قومیت اور دیش بھگتی کے نام پر تخریبی کاروائیاں کرکے عوام کو اپنا ہمنوا، ہم خیال بناکر حمایت عاصل کرکے اپنے ذاتی مفادات کو تحفظ کی ضمانت بنایا گیا جمہوریت کو بالائے طاق رکھ کرراجاؤں، مہاراجاؤں کے طر عوامی طاقت کا غلط استعمال کرکے اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کے لئے طرح طرح کے حربے بروئے کارلائے جاتے رہے ہیںاورمعاشرے کی پاکیزگی کو ختم کیا گیا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں دھوکہ اور فریب عام ہو ، جہاں مقصد کے حصول کے لئے سازشیں کی جاتی ہوں، جہاں کامیابی کے لئے ہر ذریعہ استعمال کیا جاتا ہو۔ ایسے معاشرے میں باہمی اعتماد کی فضا ناپید ہوجاتی ہے۔انسان کس اچھے عمل کی توقع نہیں کرسکتا ۔ انسان کی مصروفیات اس قدر بڑھ گئیں ہیں کہ وہ اس طرف توجہ ہی نہیں دیتا کہ اس کا استحصال ہورہا ہے۔ جو اس کے لئے ہی نہیں بلکہ اس کی آنے والی نسلوں کے لئے کتنا مہلک ثابت ہوسکتا ے ۔ اپنے چھوٹے سے فائدے کے لئے جی حضور ی کرنے والے یہ باتیں تب سمجھتے ہیں جب دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ بر سراقتدار لوگ عام کے خادم ہوتے ہیں ناکہ حاکم۔5/6سال تک حکومت کرنے کے لئے الیکشن سے پہلے ہی یہ فرقہ بندی اور پرُ امن فضا کو پراگندہ کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ انکا پہلا ہتھیار یہ ہوتا ہے کہ مذہب کے نام پراگندہ کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ان کا پہلا ہتھیار یہ ہوتاہے کہ مذہب کے نام پر لوگوںکو اُکسایا جائے کہ تمہارا مذہب خطرے میں، تمہاری حق تلفی ہورہی ہے ۔ دوسرے مذہب کے بچے تمہارے بچوں کا حق چھین رہے ہیں۔ دوسرا ہتھیار کہ تمہاری آبادی کا تناسب بگاڑا جارہاہے۔ یہ مذہبی اورعلاقائی جنون لوگوں کے دماغوں کو پرغمال کرکے بٹھا دیا جاتاہے۔ کہیں لوگ ان حاکموں کی لوٹ کھسوٹ کا حساب نا مانگ لیں۔ ان کی توجہ فرقہ پرستی کی طرف مائل کردی جاتی ہے۔ اورپھر رسانہ کٹھوعہ جیسے واقعات رونما ہوجاتے ہی۔ آج یہ معاملہ پوری دنیا کو معلوم ہے اورہرطرف سے ناراضگی ، لعنت وملامت کی جارہی ہے ۔ اس کے باوجود ملزمین اوران کی پشت پناہی کرنے والے بے ضمیر ۔ شیطان صفت کچھ لوگ اپنی سازشوں اورگناہوں کی پردہ پوشی کے لئے ، عوام ہر نفسیاتی دباؤ بناکر غلط بیانی کرکے ، جھوٹے پروپگنڈوں کے ذریعے سوشل میڈیا کو استعمال کررہے ہیں ۔ اپنے زہریلے بیانوں، گہری سازشوں کے لئے مشہور ایک متعصب تنظیم سے وابستہ یہ شرپسند افراد اتنے بوکھلا گئے کہ ریاستی پولیس کی تحقیقات کو جھوٹا قرار دے کر ۔ ایک ایسی تحقیقاتی ایجنسی کی مانگ کررہے ہیں جوان جیسے مجرموں کو طوالت دے کر کلین چٹ دیدیتی ہے۔ جموں وکشمیر کی پولیس جواپنی جان جوکھم میں ڈال کر یہاں کے عوام کو تحفظ کی ضمانت دیتے ہوئے ہر صورتحال سے نپٹنے کے لئے تیار رہی ہے ۔ بڑے بڑے پیچیدہ جرائم کی گتھی سلجھانے میں پورے ملک میں اپنا نام روشن کررہی ہے ۔ اورجس پولیس کو یہ لیڈرکان اور بہروپئے اپنی حفاظت کے لئے قابل اعتماد سمجھتے ہوئے ان کی خدمات لیتے ہیں۔ اس کی قابلیت اورایماندرانہ جذبے کو محض اپنی گھناؤنی سازش چھپانے کے لئے چیلنج کرتے نظرآرہے ہیں ۔ کسی ناگہانی صورتحال میں یہی پولیس اپنی جانیں گنواکر انکو تحفظ فراہم کرتی ہے ۔ اگرایسے لوگوں کو اس پولیس کی قابلیت ، ایمانداری ہرشک ہے تو اپنی سیکورٹی پر ماموران کو ہٹادیں۔ عوام دوست ہیں تو کیا خطرہ ۔ بغیر سیکورٹی کے باہر نکلیں ۔ یہ سب فضول کی بکواس ہے ۔ قانون اپنے تقاضوں کے مطابق کام کررہاہے اس پر نہ تو ریلیوں کا اثر ہوگا اورنہ ہی جھوٹے پروپگنڈوں کا ۔ اور نہ ہی سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی افواہوں کا،ہاں معزز عدالت اس بات کا سنجیدگی سے نوٹس ضرور لے سکتی ہے کہ سوشل میڈیا پر جو زہریلا مواد بدامنی کے لئے پھیلا یا جارہاہے وہ کہیں کوئی نیا فتنہ ناپید کرادے ۔ عدالتوں پر عدم اعتماد ظاہر کرنا ارو جھوٹے حلف نامے داخل کرنا سخت ترین جرم ہے اور اس پر بھی قانونی کارروائیاں ہوسکتی ہی CBI کی مانگ کو لیکر جعلی ناموں کی سرفہرست سپریم کورٹ میں دینا۔ پچھلے دنوں جموں کی مختلف تنظیموں کاجھوٹا نام لیکر بندکروایا گیا جوتقریباً ناکام ہی تھا کیوں کہ ان تنظیموں نے بند سے کنارہ کشی کا اعلان کردیا۔ مگر کاروباری ادارے شکایت کرتے ہیں کہ اگر یہ شرپسند بند کی کال دیتے ہیں تو ہمیں تحفظ فراہم ہوناچاہئے ہم صرف لوٹ مار غنڈہ گردی کے خوف سے بند کرنے پر مجبور ہوجاتے ہی ۔ اوریہ شرارتی عناصر قانون پر بالادستی قائم کردیتے ہیں۔ جموں کی چیمبر آف کامرس نے بند کی خلاف سخت رویہ اپنایا ہے ۔ یہاں ہرطبقہ فکر کا ذی ہوش انسان چاہتا ہے کہ اب یہ شیطانی خرکتیں بند ہونا چاہئیں انا کامطالبہ ہے کہ جو سیاستدان ۔عوام اورسرکاری خزانوں کو لوٹ کر راجہ مہاراجہ بن گئے ہیں ان کااحتساب ہو ۔ ان کی جائیدادیں قانونی طورپر ضبط کی جائیں۔ جموں میں بار بار بے چینی پھیلانے والے یہ شیطان پس پردہ کون ہیں اور کیوں ہیں اس کی تحقیقات کرکے ان کے چہرے بے نقاب کئے جائیں اورآپسی بھائی چارہ، رواداری میں رخنہ ڈالنے والوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے ۔ غیر ریاستی فنڈنگ سے چلنے والنے انگریزی، ہندی اخبارات کو تنبیہ کیا جائے کہ وہ من گھڑت کہانیاں ناچھاپیں ۔ تبھی لوگوں میں اعتماد کی فضا بحال ہوگی اورامن وامان بھائی چارہ قائم رہ پائے گا ۔ پچھلے 2مہینے سے ہم دیکھتے آرہے ہیں کہ یہاں کی فضا کو خراب کرنے کے لئے وہ لوگ جو درپرہ اس گھناؤنی سازش کے (ماسٹر مائنڈ) کلیدی کردار ہیں بوکھلاہٹ میں ایسے ایسے بیان دیتے جارہے ہیں جوریاست کے علاوہ پورے ملک میں مذاق کا موضوع بن گئے ہیں۔ مثلاً فتنہ پرور انکورشرما نے وزیراعلیٰ مفتی محبوبہ کو جہادی اوراسلامی بنیاد پرست کہہ ڈالا ۔ وہی جہادی جس کے سرپر وزیراعظم شری نریندر مودی ہاتھ رکھ کر آشیروار دیتے ہیں ۔ کہیں اس کانشانہ وزیر اعظم اور دورسے مرکزی وزیر تو نہیں؟ یہی شخص اپنی دو غلی زبان سے گوجر بکروال برادری کو حریت اور پاکستان سے بھی جوڑ تا ہے تو دوسری طرف اس برادری کو غریب اوروفادار بتاتا ہے۔ یہ کہتاہے کہ مسلمانوں سے کاروباری تعلقات منقطع کئے جائیں اورتمام ہندو انکا بائیکاٹ کریں اس کے مضر اثرات زیادہ تر جموں پر ہوتے ہیں 2008کا تجربہ یہی تھا۔ یہی شخص پچھلے تین سال سے جموں کی آبادی کے تناسب کے بگڑنے کا واویلا مچاکر گوجر بکروال۔ بنگلہ دیشی اور روہنگیا ئی کی باتیں جگہ جگہ کرکے زہر اُگلتا آرہا ہے۔ اوراس نے کٹھوعہ علاقے میں ایسا ماحول تیار کیا کہ رسانہ کا واقعہ ہوگیا ۔ اب لوگ خود ہی سمجھیں کہ اصلی مجرم کون لوگ ہیں۔ یہ گروپ جس میں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر کچھ صنعت کار ، کچھ غیر ریاستی فنڈ پر چلنے والے انگریزی ، ہندی اخبارات ، محکمہ جنگلات کے کچھ اہلکار اور پولیس کے وہ اہلکار جو بعد میں گرفتار بھی ہوئے شامل بتائے جاتے ہیں۔مجرموں نے اپنی کھال بچانے کے لئے پولیس کے اہلکاروں کو رشوت دی ۔ اوران کی تفتیش کو صحیح مانا اورجب اسی پولیس کی کرائم برانچ نے تحقیقات کرکے پردہ فاش کرکے مجرمین کو گرفتار کرکے اقبال جرم کروالیا تو ان کے کلیجے پھٹ گئے ۔حالانکہ یہ تحقیقات ریاستی ہائی کورٹ کے حکم سے ہوئی۔اب حال یہ ہے کہ کلیدی کردار والا ایک فتنہ پرور مجرموں کا وکیل بن کر اپنے آپ کو بچانے کے لئے ہرطرح کا حربہ آزماتے ہوئے لوگوں میں انتشار پھیلانخے میں مصروف ہے تو دوسرے کردار جگہ جگہ کھلے عام اپنے بچاؤ کے لئے لوگوں کو گمراہ کنا بیان بازیا کرکے شش وپنج میں ڈالنے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں ۔ ان کادماغی توازن اتنا خراب ہوچکاہے کہ یہ کہتے ہیں کہ جموں کٹھوعہ سانبہ اودھم پورا ہندو اکثریتی علاقہ ہے او ر یہاں دوسرے فرقے کے لوگ نہیں بسائے جاسکتے ۔ جموں صوبہ کے باقی اضلاع ہندو لفظ کااستعمال کرنے والے ہندوؤں کو بدنام کررہے ہیں، جس کا اشارہ بی جے پی کے ایک مرکزی وزیر ناے بیان جاری کرکے دیا دوسرے وزیر نے تو یہ تک کہہ ڈالا کہ یہ لوگ جو شور شرابہ کررہے ہیں اورCBIکی رٹ لگارہے ہیںدراصل غیر ملکی اشاروں پر چل رہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ سچ کیا ہے ہماری خفیہ ایجنسیاں کیاکررہی ہیں ۔ شہر شہر بدامنی پھیلانے والوں کے ساتھ نرمی برتنے کی وجہ کیا ہے جبکہ وادیٔ کشمیر میں دوسرے طریقے سے نپٹا جاتاہے ان کے ساتھ بھی وہی پالیسی اختیار کی جائے تو بہتر ہوگا ۔، لیکن انصاف کے تقاضے ہر حال میں پورے کئے جائیں ۔
ایم اسلم خان…9419130635
محلہ دلپتیاں، جموں
انصاف کا تقاضہ
جیسا کہ ہم جانتے ہیں آٹھ سال کی ننھی بچی جو کٹھوعہ کے رسانا گائوں میں اپنے موشیوں کے ساتھ دس جنوری2018کو جنگل میں کچھ ارمان لئے زندگی کا سفر طے کر رہی تھی۔اس کو یہ علم نہ تھا کہ آنے والے لمحات اس کی زندگی میں کیا رول ادا کریں گے اس کھلتی ہوئی کلی کی دل دہلا دینے والی کہانی نہ صرف ہندوستان تک بلکہ اقوام متحدہ تک روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ درندہ صفت انسانوں نے معصوم ننھی منی آٹھ سالہ بچی کے ساتھ وہ حرکت کی جو تا عمر دنیا یاد رکھے گی۔اف وہ منحوس لمحہ جس میں اسے ایک سازش کے تحت انسانیت کے نام کلنک ،اشرف المخلوقات خلقت سے تعلق رکھنے والے چند غلاظت خباثت خیالوں سے بھرے ہوئے عناصر نے اغوا کیا اور وہ ستھان جسے عبادت کیلئے تعمیر کیا گیا تھا، جہاں ہندو بھائی بہن اپنے رب کو یاد کر کے دل کو تسلی اور سکون بخشتے ہیں اسی مندر کی عزت عظمت کو دل سے نکال کر معصوم بچی کو لے جایا گیا جسکا تعلق عورت جنس سے ہے اور اسی مندر میں عورت کو دیوی سے منسوب کر کے پاٹھ پڑھایا جاتا ہے۔مگر افسوس صدافسوس کہ وحشی درندے اس کی عظمت کو ایک ہفتہ تار تار کرتے رہے۔وہ آہ و فغاں کرتی رہی مگر اس کی آواز کسی نے نہ سنی چونکہ ان خبیثوں نے اس کو نشیلی ادویات کے زیر اثر رکھا ہوا تھا۔وہ پولیس اہلکار جسے جموں و کشمیر محکمہ پولیس نے بھرتی کر کے وردی پہنا کر قسم پرسی اس لئے کروائی تھی کہ وہ جرم کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائے مگر اس نے وردی،مندر اور عورت ذات آٹھ سالہ بچی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس گناہ ِعظیم کو انجام دیا۔جیسے متعلقہ پولیس تھانہ سے آصفہ کو تلاش کرنے کے لئے بھیجا تھا۔یہ نہایت شرم ناک بات ہے۔ہائے یہ آٹھ سال کی کلی جو عمر سوچنے کی نہیں بلکہ کھیلنے کی ہوتی ہے جب بہیمانہ جنسی زیادتی اور بھوک کی وجہ سے نیم مردہ ہوگئی تو ان درندہ صفت انسانوں نے بڑی بے رحمی سے پہلے گلا گھونٹ کر اور پھر پتھر مار مار کے موت کی نیند سلا دیا اور پھر اسے جنگل میں لے جا کر پھینک دیا۔17جنوری 2018کو ایک مقامی باشندہ جگدیش راج نے جنگل میں نعش دیکھ کر مقامی پولیس تھانہ و اطلاع دی۔پولیس حرکت میں آجاتی ہے اور افسوس یہ کہ ملزموں کو حراست میں لے کر جب سوالات کئے جاتے ہیں تو دوسری طرف ان کو رہا کرانے کے لئے جلے جلوس کئے جاتے ہیں اور ہڑتال کر کے بازار کو بند کروایا جاتا ہے اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ حکومت وقت کے دو منتری بھی ملزموں کا ساتھ دینے لگ جاتے ہیں۔چند وکلا نے بار ایسوسی ایشن ہائی کورٹ جموںنے یہ صاف ظاہر کر دیا کہ ہم نے انصاف کا چولہ نہیں بلکہ نہ انصافی کو عام کرنے کا پہن رکھا ہے۔ان کو میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ فیصلے زمین پر نہیں بلکہ عرش عظیم سے ہوتے ہیں جہاں تک آپ جیسے نام نہاد انسانی شکل کے آئینہ میں چھپے ہوئے حیوانوں کی رسائی ہر گیز نہیں ہو سکتی۔شیخ سعدی شیرازی نے کیا خوب کہا ہے کہ سب سے اول میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور بعد اللہ تبارک و تعالیٰ میں اس انسان سے ڈرتا ہوں جو اللہ سے نہ ڈرے یقیناً ان لوگوں کا شمار اللہ سے نہ ڈرنے والوں میں ہوتا ہے میں یہ کہہ سکتا ہوں ہندوستان کی ان تمام جماعتوں اور افراد کو جو آصفہ جیسی کمسن بچی کے ساتھ قیامت برپا کرنے والے ظالموں کی طرف داری کر رہے ہیں۔کہ انشاللہ وہ دن دور نہیں کہ ہم اور آپ ان ظالموں کو اپنی آنکھوں کے سامنے پھانسی کے تختہ دار پر لٹکتے دیکھیں گے چونکہ اس دنیاہستی میں نہ صرف آپ جیسے لوگ ہیں بلکہ انصاف کی بات کرنے بولنے اور لکھنے والوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔میں مبارک بعد پیش کرتا ہوں دپیکا راجوت ایک خاتون وکیل کو جنہوں نے بہت ساری رکاوٹوں کے باوجود انصاف کی درخواست دائر کی جو کہ ان کی ہم جنس تھی۔مبارک بعد ہے۔سپیشل انوسٹٹیگیشن ٹیم کرائم برانچ جموں کی پوری ٹیم کو کہ جنہوں نے آئی جی پی الوک پوری کی قیادت میں روٹ لیول جا کر کے بہت رکاوٹوں کے باوجود کامیابی حاصل کی اور ملزموں کے خلاف چارج شیٹ سائن کر کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کو سونپ دی۔مجھے یقین ہے جس طرح دامنی کے مجرموں کو پھانسی کے تختے کے علاوہ نصیب میں کچھ نہیں ہوا اسی طرح اس بچی کے مجرموں کو بھی نصیب ہوگا۔میں پیغام دینا چاہتا ہوں سب کو کہ اس انسانیت شرمسار گھڑی میں سیاست سے اوپر اٹھ کر مذہبی جنون کو بلائے طاق رکھ کر انسانی جنون اپنے دل میں لئے ہوئے ہر ممکن کوشش کر کے ان مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔چونکہ متاثرہ ایک انسان کی بچی تھی جب اللہ کی باقی ماندہ مخلوق کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تب بھی اس کے انصاف کی بات حضرت انسان ہی کرتا ہے۔میں باور کرا دینا چاہتا ہوںاس بچی کے ظالموں کو اور ان کی طرف داری کرنے والوں کو کہ آپ لوگ انسانیت کے نام کلنک ہیں اگر چہ صورت سے آپ کو انسان کہا جا رہا ہے لیکن عمل و سیرت کے لحاظ سے آپ جانور سے بدترین ہیں۔چاہے آپ بہیمانہ طور عصمت دری کر کے ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سلا دینے والے ہوں اور چاہے ان کی طرف داری کرنے والے سیاست دان وکلا یا پھر بیوروکریٹ کیوں نہ ہوں۔بچی کے انصاف کی بات صرف انسان ہی کر سکتے ہیں آپ ہرگز نہیں۔آخر میں انصاف کے قلم سے میں یہ درخواست کرتا ہوں کہ جلد از جلد آصفہ کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنبچایا جائے۔
ڈاکٹر شمیم احمد …9469714240
جموں و کشمیر