فرقہ پرستوں کا ننگا ناچ
آخر کار ملک کی عدالت عظمی نے رسانہ کٹھوعہ کی معصوم بچی کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے عرضی منظور کرکے کیس کو پنجاب کے پٹھانکوٹ عدالت میں منتقل کیا ہے۔ اور شرپسندوں ، تخریبکاروں کے طرف سے CBI کی مانگ کو خارج کردیا ہے۔ اس سے نہ صرف مہلوکین بلکہ تمام ریاست کے لوگوں نے اطمینان کااظہار کیا ہے۔راقم الحروف نے اپنی تحریروں میں جن حالات اور واقعات کو قلمبند کیا اور جن خدشات کا اظہار کرتا رہا وہ بالکل درست اور صحیح ثابت ہوئے مجرموں کو سازش کرنے اور فرقہ واریت کے لئے اُکسانے والے بوکھلاہٹ اور ضد میں اپنے بچھائے جال میں خود پھنستے چلے گئے۔ الگ الگ ناموں سے گروپ بنا کر عدالتوں اور حکومت پر CBIکے لئے دباؤ بنانے والوں کا پردہ فاش ہوگیا۔یہ دھوکے باز ، فریبی لوگ جہاں ایک طرف عدالتوں میں فرضی عرضداشتیں اور حلف نامے دیتے رہے تو دوسری طرف سڑکوں پر ننگا ناچ کرکے عوام کو متعصبانہ زہرافشائی کرکے گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے رہے ۔تمام غیر ریاستی اخبارات جو جموں سے شائع ہوتے ہیں اپنے مفاد کے لئے من گھڑت کہانیاں چھاپتے رہے ۔ حد تو یہ رہی کہ برقی میڈیا کااستعمال بھی جھوٹے پروپگنڈوں کے لئے ہوتا رہا ۔ اورRSS Mediaنے تو اپنی روش برقرار رکھتے ہوئے ویسا گھناؤنا کردار ادا کیا جو وہ کرتا آرہا ہے اور کرتا رہے گا۔
اپنی دوغلی زبان سے ایک طرف بچی کو انصاف دلانے کی بات کرنے والے یہ سازشی لوگ انصاف کے راستے میں روڑے اٹکاتے آرہے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ مجرم سانجھی رام نے کٹھوعہ عدالت میں پیشی کے دوران یہ مطالبہ کیا تھا کہ اس کا Narco Testکروایا جائے ۔اس مطالبہ سے سازشی افراد گھبراگئے کہ کہیں ان کے راز افشا نہ ہوجائیں۔تو ملزم کو یہ کہہ کر ڈرایا گیا کہ اس عمرمیں اس کی صحت متاثر ہوگی۔اس کویقین دلادیا گیا کہ تمام سازشی کردار تمہیں ہرحال میں بچالیں گے اوراس طرحCBIکی رٹ لگا کر ان لوگوں نے اس معروف ایجنسی کونہ صرف مشکوک بنا دیا بلکہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ یہ ایجنسی ان کے اشاروں پر کام کرے گی۔اسی لئے الگ الگ گروپوں کی شکل میں نئی دہلی پرائم منسٹر آفس جاکر فرضی ناموں کے دستخطوں کی یادداشت پیش کرتے رہے جبکہ ان تمام گروپوں کی ڈور ایک ہی ہاتھ میں ہے ۔سوشل میڈیا کا بھی غلط استعمال ہوتا رہا ہے۔ریاست کے عوام خصوصی طورپر جموں کے لوگ ان کی ڈرامے بازی دیکھتے رہے اور وقت کاا نتظار کرتے رہے سپریم کورٹ کے آرڈر آنے کے بعد سبھی نے راحت محسوس کی ۔ باشعور طبقہ یہ مانتا ہے کہ انہیں بچی کے ساتھ انصاف کا دور دور تک واسطہ نہیں ہے بلکہ اب یہ اپنی سازشوں پر پردہ ڈالنے اوراپنے آپ کو بچانے کے لئے ڈرامے بازی کررہے ہیں۔ کچھ لوگ سنجیدگی سے خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ کہیں یہ شیطان صفت درندے دوران پیشی مجرمان کو ہی کوئی نقصان نہ پہنچادیں تاکہ معاملہ ہی اُلٹ دیا جائے جو کہ ان کا پرانا طریقہ کار ہے۔ سیاسی اورسماجی طورپر بری طرح ناکام ہونے کے بعد ان میں جنون پیدا ہوتا جارہاہ ے ریاستی حکومت اس وقت نامساعد حالات سے مقابلہ آراء ہے وادی ٔ کشمیر میں نوجوانوں کی اموت میں اضافہ ہوا ہے تجارتی سرگرمیاں معدوم ہورہی ہیں۔ تعلیم یافتہ بیروزگاروں کی تعداد بتدریج بڑھتی جارہی ہے۔ مختلف محکموں کی انجمنیں سڑکوں پر اپنے مطالبات لیکر سراپا احتجاج ہیں۔ ترقیاتی کاموں کی رفتار ڈھیلی ہوگئی ہے۔ ان حالات میں ایسے شرپسند عوام کو گمراہ کن پروپیگنڈوں سے پریشان اور ہراساں کررہے ہیں۔ ایسے میں مخلوط سرکار کو چاہئے کہ آپسی اتفاق کرکے لام بند ہوکر ان بے لگام شیطانوں کو قابو کیا جائے ۔ان کی بلیک میلنگ کے آگے حکومت ٹھوس اقدامات اُٹھائے ۔ یہاں کی فضا کو پراگندہ کرنے اور فرقہ واریت کو نقصان پہنچانے والوں کو قانون کے مطابق تہس نہس کیا جائے اسی ہفتے ماہ مبارک کی ابتداء ہورہی ہے ۔عبادتوں اور خیرسلگالی کا مہینہ ہے ۔ ہمارے غیر مسلم بھائی بھی اس مہینے میں پرہیزگاری قائم کرتے ہوئے پاسداری نبھاتے ہیں۔ اگلے ماہ شری امرناتھ جی کی یاترا بھی شروع ہوجائے گی اور وادیٔ کشمیر کے مسلمان نہایت ادب واحترام سے یاتریوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کی ضرورتوں اورعقیدے کا خیال رکھتے ہیں اورہر طرح کی سہولیات بہم پہنچاتے ہیں۔ یعنی کل ملاکر یہی کہاجاسکتا ہے کہ اس ریاست میں کوئی فرقہ ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ سب آپس میں جڑے ہوئے ہیں ان کی محبت، میل ملاپ اوربھائی چارے رخنہ ڈالنے والوں کے خلاف صف آراء ہوکر ان شیطان صف درندوں کاقلع قمع کرنا ہر ذی ہوش کا فرض بن جاتا ہے ۔جموں کو اپنی جاگیر اورجموں کے لوگوں کو اپنا غلام سمجھنے والوں کو اب یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اپنے گھناؤنے ایجنڈے کے لئے جموں کے لوگوں کے نام کا استعمال نہ کریں۔ تمہارا شورشرابہ صرف تم تک ہی محدود ہے یہ ’’جموں کی جنتا کی آواز نہیں ہوتی جو تم کہتے ہوبلکہ جموں کی جنتا کی آوعاز یہ ہے کہ امن وسکون سے کام کرنے دیا ۔ان کے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ انہیں اس قابل بننے دیا جائے کہ آگے چل کر یہ ریاست اورملک کی ترقی میں اہم رول ادا کرسکیں۔ آنے والے چند ہفتوں میں ہر طرح کے مقابلہ جاتی امتحانات بھی ہونے والے ہیں ۔ ان طلباء کو اس کی تیار کرنے دیں۔ایک محاورہ ہے کہ برسات کا پانی وہاں ہی جمع ہوجاتاہے جہاں گڑھے ہوتے ہیں۔ حالانکہ پورے ملک میں عصمت دری اور بعد میں قتل کردینا اب روز مرّہ کا معمول بنتا جارہاہے ۔ لیکن مجرموں کی پشت پناہی کے لئے نہ تو کسی جگہ فرضی طورپر مذہبی تنظیم بنائی جاتی ہے اور نہ ہی سڑکوں پر ننگے ناچ ہوتے ہیں۔ اترپردیش میں بی جے پی کے ایک ایم ایل اے پر اُن ہی دِنوں اسی طرح کے الزامات لگے ۔اسے بچانے کے لئے وہاں کی پولیس نے بھی رسانہ کٹھوعہ کی طرح ہیرا پھیری کی۔جب لڑکی کے والد نے ہنگامہ کیا تو اسے ہی تھانے میں بند کر کے مار دیا گیا ۔چاروں طرف ہنگامہ ہوا اور یوگی سرکار کو ذلیل وخوار ہونا پڑا تو معاملہ CBIکو سونپا گیا۔ اور کچھ ہی دنوں میںCBIنے ایم ایل اے کو قصوور وار مجرم ثابت کردیا ۔ وہاں بھی مجرم اورا سکے ساتھیوں نے ترنگاہاتھ میں لیکر اپنے بچاؤ کے لئے سڑکوں پر ہنگامے کئے ۔ نتیجہ صفر ہی رہا ۔ بوکھلاہٹ میں مظلوم لڑکی کے والد کو مار کر وہ ایم ایل اے ایک نہ ایک دن سزایاب ہوہی جائے گا۔ ریاست جموں وکشمیر کی پولیس پر ہندوستان کی کوئی بھی تحقیقاتی ایجنسی سوال کھڑے نہیں کرسکتی ۔ تو پھر یہ سازشی لوگ کسی زمرے میں نہیں آتے ہیں۔ حکومت کو سنجیدگی سے غور کرکے ایسے شرپسندوں کی حفاظت پر مامور سیکورٹی ہٹادیں۔ کیوں کہ ان لوگوں کو یہاں کی پولیس پر بھروسہ نہیں ہے۔ غورطلب بات ہے کہ روز بروز مجرموں کی سازشوں اوران پر پردہ پوشی طرح طرح کے ہتھکنڈوں کے راز کھلتے جارہے ہیں مگر جموں کے عوام کو بے وقوف بنا نے کے لئے یہ بے غیرت لوگ جلسے اورریلیاں نکال رہے ہیں۔ دراصل اب بات صاف ہے کہ وزارت سے باہر کردیئے جانے کے بعد دوبارہ اپنی ساکھ بحال کرنے کے لئے سرکاری خزانوں سے لوٹا گیا خزانہ جو کہ عوام کی ملکیت ہوتاہے اس جمع خزانے کو ریلیوں پر خرچ کیاجارہاہے ۔ورنہ اس گرمی میں کسے غرض ہے کہ وہ اپنی دہاڑی چھوڑ کر ایسے واہیات پروگراموں میں شرکت کرے ۔ انہیں تو معاوضہ فی کس 500روپے مل ہی جاتا ہے ۔ اس معصوم بچی کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا سازش کے تحت ہوا، لیکن تحقیقات کے دوران اور عدالت میں چالان پیش کرنے تک ان درندہ صفت لوگوں کے اصلی چہرے بے نقاب ہوگئے جس کے پس پردہ یہ عوام کو دھوکے میں رکھے ہوئے تھے اور ابھی بھی باز نہیں آرہے ہیں ۔ اب یہ کتنے ہی ڈرامے بازی کریں لوگ اسے مداری کے تماشے کے سوا کچھ نہیں سمجھتے ہم کشمیر کی پنڈت برادری جو کہ جموں میں ہجرت کار مقیم ہیں کو بھی مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی برادری کو دھوکا نہ دیں اور ان شرپسندوں کی ہاں میں ہاں نہ ملائیں ۔ یہ آپ کو بھی دھوکا دیتے آرہے ہیں اورآگے بھی ان سے آپ کو کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے ۔آپ کا استعمال یہ لوگ صرف سیاسی فائدے کے لئے کرتے آئے ہیں۔ آپ خود ہی دیکھیں کہ آپ کی حالت زار پر اقتدار میں رہتے ہوئے بھی کبھی عملی طورپر کوئی مدد نہیں کی ہے اورنہ ہی آئندہ کریں گے ۔ بس بیربل کی کچھڑی پکتے ہوئے دکھاتے رہیں گے ۔ آپ کے لئے تویہ شعر ہی سارے حقائق بتارہا ہے۔
محمد اسلم اخان،جموں
7051106355
مسلم دشمنی سے ملک دشمنی تک
گزشتہ سال کاموسم خزاں یوں بھی خون آلود ہوکر ہم سے رخصت ہو اچلا تھا،نئے سال کا آغاز نئے منصوبوں اور نئی اُمید کو لیکر شروع ہوا تھا۔ ہمارے یہاں بجٹ اجلاس میں گزرے سال کی حکومتی کار کردگی اور نئے سال کے لئے طے شدہ منصبوں کو لیکر ایوان ِ زریں میں سیاسی مداریوں کا کھیل جاری تھا ،کبھی جی ایس ٹی کو لیکر تو کبھی کشمیر میں ہو رہی ہلاکتوں کو لیکر سیاسی نا خدائوں کی آپسی تو تو میں میں سے آئے روز اسمبلی میں ایک ہنگامہ خیز صورتحال بنی رہتی تھی۔سیاسی نا خدائوں کی اپنی بد اعمالیوں ،بد عنوانیوں اور کمزریوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنے کا سلسلہ حسب ِ معمول جاری تھا، یوں بھی ہمارے ایوانوں میں سوائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے سوا اور ہوتا ہی کیاہے ؟؟ صورتحال کے پیش نظر تمام میڈیا نے بھی ایوان ِ زریں ہی اپنا ڈھیرا جمائے رکھا تھا معلوم تو یہ تھا بھی کہ سوائے سیاسی بد تمیزیوں اور آپسی الزام تراشیوں کے یہاں سے کوئی ایسی خبر تو نکلنے والی نہیں تھی جس سے اُس عوام کا بھلا ہو اجس عوام نے اِن سیاسی مداریوں کو ایک طاقت بنا کر ایوانوں میں بھیجا ہے۔خیر میڈیا کو خبر کیلئے مواد چاہیے خواہ وہ سیاسی بد اخلاقیاں ہوں یا پھر تعمیر و ترقی کے کھوکھلے ڈنڈورے ہوں۔چونکہ اسمبلی چل رہی تھی اس لئے صحافی حضرات کو خبر کے لئے اِدھر اُدھر بھٹکنانہیں پڑ رہا تھا۔ لیکن اس دوران ریاست میں ایک ایسا در د ناک ،وحشت ناک اور کربناک سانحہ انجام دیا گیا کہ جس نے پوری دنیا کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ۔ کٹھوعہ کے گائوں رسانہ میں ایک آٹھ سالہ معصوم بچی کو چند بدبخت اور درندہ صفتوںنے ایک مندر (دیو استھان )میں اسیر رکھ کرسات روزتک اپنی ہوس کا شکار بنایا۔ انسانیت کے نام پر وہ گندا کھیل کھیلا گیا جس نے وطن ِ عزیزکی عزت و مقام کو خاک میں ملایا۔گرچہ آٹھ سالہ بچی کی عصمت ریزی کے بعد قتل کردینا سانحہ تو تھا لیکن معذور میڈیا کی موجودگی میں اس انسانیت سوز سانحہ کو سامنے آنے میں کافی وقت لگا۔ سانحہ کے ابتدائی دور میں معاملہ کو حزب ِ اختلاف نے اپنی سیاسی دُکان چلانے کیلئے ہی سہی اسمبلی میں خوب اچھالا لیکن میڈیا خاص کر الیکٹرانک میڈیانے مکمل طور مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ۔ گودی میڈیا کی مفادی صحافت کے اِس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن کی طرح چند مقامی اخبارات نے کھٹوعہ معاملہ پر ابتدائی دور سے ہی اپنی زندہ صحافت کا ثبوت پیش کیا لیکن اُن کی تعد اد آٹے میں نمک کے برابر ہے جبکہ فرقہ پرست عناصر نے ان اخبارات کو مسلمانوں کے اخبارات کہہ کر یہ بتا دیا کہ یہ سب من گھڑت کہانیاں ہیں ،اِن اخباری رپورٹس میں سوائے ہندئوں کو بدنام کرنے کے کچھ بھی نہیں ، پھر اِسی ہٹ دھرمی کو عملی جامعہ پہنایا گیا کہ بھاجپا کے چند وزرأ نے ’’ہندو ایکتا منچ‘‘ کے نام سے ایک تنظیم تشکیل دی جنھوں نے کٹھوعہ کیس میں ملوث درندوں کے حق میں رہائی کے مطالبے کاوہ شرمناک کارنامہ انجام دیاجس نے مودی کی ’’بیٹی بچائو، بیٹی پڑھائو‘‘ اسکیم کی وہ دُرگت کر دی کہ اِس وقت عالمی سطح پر ملک کی حالت انتہائی خراب دکھائی دینے لگی ۔مسلم دشمنی کے یہ سلسلہ یہیں نہ تھمابلکہ انسانیت کے ان دشمنوں نے ایک آٹھ سالہ بچی کے ساتھ پیش آئے اس انسانیت سوز سانحہ کو مذہبی رنگت دینے کیلئے یکے بعد دیگرے کئی ایسے ناپاک کارنامے انجام دیئے جس سے یہ صاف ہو گیا کہ معصوم بچی کے ساتھ اس طرحکی درندگی انجام دینا اپنی ہوس کی بھوک مٹانا مقصود نہیں تھا بلکہ یہ انسانیت سوز اورناپاک کام انجام دینا مسلمانان ِ جموں کو ’جموں بدر ‘کرنا مقصود تھا اور اس سارے گیم پلان کے پیچھے کسی ایک طبقے کا ہاتھ نہیں بلکہ اس کو انجام دینے میںجیسا ساتھ بھاجپا کے شدت پسند حکمرانوں کا تھا ویسا ہی ذہنی بانجھ پن کے شکار قانون دانوں کا ساتھ بھی تھا ، ورنہ کیا مجال تھی کہ زانیوں کے حق میں ’’ہندو ایکتا منچ‘‘ کے بینر تلے ریلیاں نکالی جاتی جن ریلیوں میں ہندوستانی پرچم لہرا لہرا کر شر پسندوںنے اُن ہی درندوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جنھوں نے ایک آٹھ سالہ ننھی کلی کو سات اپنی ہوس کا شکار بنایا ہے ۔ پھر قابل ِ غور بات تو یہ ہے کہ بھاجپا کے دو لیڈر بھی اِس انصاف مخالف ریلی کا حصہ بنے جبکہ یہ دونوں لیڈر اُس وقت موجودہ مخلوط سرکار کے منتری بھی تھے ۔ داستان ِ الم یہیں ختم نہیں ہوئی کیا اس پر یقین کرنا کافی ہے ؟کہ اِس منظم شدہ پلان کو انجام دینے میں بھاجپا کے صرف اِن دو لیڈر ان دماغ چل رہا تھا ، نہیں ایسا ہر گز نہیں یہ جموی مسلمانوں کو خوف و ہراس کرنے کیلئے بھاجپا کے تمام سیاسی کارندوں کی کارستانی تھی ، یہ سچ ہے کہ یہ لال سنگھ اور چندرپرکاش گنگا پوری دنیا کے سامنے ننگے ہوئے اورایک کے بعد ایک لیڈر ننگا ہو رہا ہے ۔گزشتہ ہفتہ ریاست کے نو منتخب نائب وزیر اعلیٰ بھی بھی اِ س ننگ پن کا شکار ہوئے اور کھٹوعہ معاملہ کو ایک چھوٹا اور معمولی کہہ کر اپنی ذہنی پسماندگی کا کھلا ثبوت پیش کیا اور پھر اس بات سے مکر جانا تو اُ ن کی شخصیت پر ایک اور بدنما داغ بن گیا۔پھاچپا کے تمام لیڈر چاہیے وہ سرکار کا ایک حصہ ہوں یا پھر سرکار سے باہر ہوں اس سانحہ کو انجام دینے کے حقیقی قصوروار گردانے جاتے ہیں کیونکہ اس انسانیت سوز سانحہ پر جہاں پورا عالم اشکبار تھا ،پوری کائنات میں ہوکا عالم تھا،سارے جہاں میں کٹھوعہ معاملہ کو لیکر خوف ہراس کے بادل چھائے ہوئے تھے لیکن بغیر خوف کے اگر کو جی رہا تھا تو وہ بھاجپا کے لیڈر حضرات اور قانون دانوں کا ایک ٹولہ تھا ۔ جنہیں کٹھوعہ معاملہ کو لیکر ٹس سے مس نہیں ہوتا تھا ہاں یہ فکر شدت سے ضرور ستائے جا ری رہی تھی کہ اس سانحہ میں ملوث درندوں کو کس طرح بچایا جائے، اور ملوثین کو بچانے کیلئے یہ شر پسند بے شرمی کی حد تک گئے اور ابھی بھی سی بی آئی جانچ کی مانگ کرکے کو ماحول کو خراب کرنے پر کمر بستہ ہیں۔انسان دشمنی کی حد تو اُس وقت ہو گئی جب اس سانحہ کی گتھی کو سلجھانے کے لئے کرائم برانچ ٹیم بنائی گئی جس نے چند ہی دنوں میں اس درندرگی کو انجام دینے والے درندہ صفت اور گدھ نماانسانوں کو گرفتار کیا تو اس پر بھی بھاجپا لیڈران نے اعتراض جتایا گویا بھاجپا کے لیڈران نے ملوثین کو بچانے کی قسم کھا رکھی تھی۔جموی مسلمانوں کو جموں بدر کرنے کی اس منظم شدہ اور ناپاک سازش میں ملوثین کو بچانے کے لئے بھاچپا کے دو لیڈران نے وزارت تک کو لات ماری ،ظاہر سی بات ہے کہ بطور ِ منتری وہ اس سازش کو تکمیل دینے میں کھل کر کچھ کہہ اور کر نہیں سکتے تھے اور کہیں تو یہ بھی خطرہ لاحق ہو رہا ہے تھا کہ تیار کی گئی مسلم مخالف گیم فیل ہورہی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وزارت کو لات مار کر گیم کو کامیاب بنایا جائے ۔دونوں لیڈران نے وزارت سے منہ موڑ کرانسانیت کا ساتھ دینے کے بجائے انسانیت سوز حرکات میں ملوثین کو بچانے کی جی توڑ محنت شروع کر دی۔لیکن ہوا کیا گیم ناکام ہوئی ، منہ کی کھانی پڑی، گھر کے رہے نہ گھراٹ کے، وزارت بھی گئی اور وقار بھی گیا، اور عزت اس طرح خاک میں ملی کہ اب ہندستانی کہنے کے بجائے بس جموی یا کھٹوعی کہلانا تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔یا د رہے اب جب ہندستان کی تاریخ لکھی جائے گی تو ایسے انسان دشمن سیاستدانوں اور قانون دانوں کا نام ہمیشہ سیاہ ترین ابوب میں لکھا جائے گا۔آنے والے دور میں جب بھی کوئی مورخ ہندوستان کی تاریخ لکھے گا تو پھاجپا کے اِن لیڈران اور قانون دانوں کے اُس ٹولے کا نام زانیوں کی فہرست میںضرور شامل کرے گا۔ منتریوں کی فہرست میں اب ایسے لیڈروں کا نام ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مسخ ہو گا۔ قیامت کی صبح تک ایسے لوگ وزرات کی کرسی پر براجمان نہیں ہو پائیں گے۔ کانگریس میں رہتے ہوئے بطور ِ ممبر پارلیمنٹ نریندرمودی کیخلاف زہر افشانی کرنے والا چوہدری لال سنگھ مودی دور میں مودی کی ہی پارٹی میں بیگانہ ہو کر رہ گیا۔اب وہ مسلم دشمنی میں اس حد تک بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں کہ گزشتہ روز فیس بک لائیو میں انھوں نے ایک ہندو صحافی سے یہ تک کہہ دیا کہ …او بھائی!! کیا ہوا ہے تجھے کہ تُو مسلمانوں کے ساتھ چلتا ہے۔یہ مسلمان ہیں نہیں سدھریں گے، اس لئے ان کے ساتھ میل ملاپ میں پرہیز ہی کرنا۔یاد رہے آج بھاچپا کے لیڈر مسلم دشمنی کے طور جو جو کارروائیاں انجام دے رہے ہیںہیں وہ آنے والے وقت میں خود بخود ملک دشمنی میں تبدیل ہو جائیں گی ، بھلے ہی مسلم دشمنی کے اثرات و نتائج فوری طور ظاہر نہ ہوں لیکن جب پتہ چلے گا تو اُس وقت بہت دیر ہو چکی ہوگی ۔
ایم شفیع میر
9797110175,7780918848
گول، ضلع رام بن