سرینگر// وادی کی سب سے بڑی مسجد’ مرکزی جامع مسجد‘ نوہٹہ سرینگر کو بند کردیا گیا ہے۔اس دوران وقف بورڈ نے کہا ہے کہ بورڈ کی زیر نگرانی کام کرنے والی مساجد اور زیارت گاہوں کو عبادات کیلئے بند نہیں کیا گیا ہے لیکن نماز پڑھنے کیلئے آنے والوں سے کہا گیا ہے کہ گھروں میں ہی نماز پڑھنے کو ترجیح دیں۔ انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے جاری بیان میں کہا ہے کہ پولیس افسران نے بدھ کی صبح جامع مسجد میں آکر انجمن اوقاف کے عہدیداران سے دفعہ 144کے اطلاق کے تحت اجتماعی طور پر نماز ادا کرنے کے سلسلے کو فوراً بند کرنے کی ہدایت دی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے موجودہ پھیلائو کو دیکھتے ہوئے انجمن تمام معیاری ضابطہ اخلاق پر عمل کررہی تھی ۔ انجمن نے نمازیوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام جامع مسجد میں اجتماعی طور پر عبادت کرنے کے عمل کو فی الحال ملتوی کردیا ہے۔ادھر وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مفتی فرید الدین نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا وائرس کے پھیلائو کی وجہ سے نماز اپنے گھروں میں ہی پڑھنے کو ترجیح دیں۔انہوں نے بتایا کہ مساجد اور زیارت گاہوں کو بند کرنے کا کوئی بھی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام ائمہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ مساجد اور دیگر جگہوں پر نماز کیلئے آنے والے لوگوں کی تعداد محدود کریں۔انہوں نے کہا ’’ میں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھر میں نماز پڑھیں اور صحتیاب رہیں ‘‘۔اس سے قبل دارلعلوم رحیمیہ کے مفتی نذیر قاسمی صاحب نے مساجد کے بجائے گھروں میں نماز ادا کرنے کی صلاح دی ہے۔جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن نے اعلان کیا کہ تنظیم کے اہتمام سے ماہ مبارک کے دوران منعقد ہونے والے تمام اجتماعات 28اپریل سے منسوخ کئے جا رہے ہیں جس میں ماہ مبارک کے اجتماعی اعمال و عبادات بشمول نماز جمعہ، شب ہاے قدر،یوم القدس، یوم شہادت امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب اور نماز عید کے اجتماعات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ 30اپریل سے انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام بڈگام، حسن آباد، سونہ پاہ، چاڈورہ،پونچھ گنڈ،ماگام،صوفی پورہ پہلگام،سوٹھ کٹرباغ،امام باڑہ گامدو،جامع مسجد نوگام،ڈب گاندر بل،اسکندر پورہ،کمل کورٹ اوڑی،گریند کلان اور وکھرون پر کسی بھی جگہ نماز جمعہ منعقد نہیں ہو نگے۔