کشتواڑ//ریاست جموں و کشمیر کے نوجوانوں تک رسائی کی اپنی مانگ کا اعادہ کرتے ہوئے ایم ایل سی فردوس ٹاک نے مرکزی سرکار پر زور دیا ہے کہ وہ شورش زدہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کا دل جیتنے کے لئے کام کرے۔انہوں نے کہا کہ ہم دشمن کے ساتھ جنگ لڑ سکتے ہیں لیکن اپنے لوگوں کے ساتھ جنگ نہیں کرسکتے ۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات جمہوریت کا ایک جُز ہے اور فقط مصالحت سے ہی علحیدگی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔انہو ںے مزید کہا ہے کہ پی ڈی کے سرپرست اور تب کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے بی جے پی کے ساتھ ایک اتحاد بنایا تھا ،تاکہ لوگوں کے منڈیٹ سے دونوں پارٹیاں سرحدوں پر دشمنی ختم کرنے کے قابل بن سکے اور ریاست میں امن بحال ہو جائے۔ٹاک ضلع کشتواڑ کے اپنے چار روزہ دورے کے آخری دن لوگوں کے ایک اجتماع سے پاڈرمیں خطاب کر رہے تھے۔انکے ہمراہ سینئر پارٹی عہدہ داربشمول غلام محمد بٹ، ٹھاکور سجان سنگھ، گردھاری لعل ،محمد علی، بلدیو سنگھ، گوسووں رام اور نیپال سنگھ بھی تھے۔ایم ایل سی نے گلاب گڑھ، اتھولی، سوہال، اور تیاری دیہات کا بھی دورہ کیا،جہاں پر لوگوں سے تبادلہ خیال کرنے کے بعدانکے مسائل سُنے۔ اس موقعہ پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے کئی لوگوں نے پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان اتحاد میں ام ایک اہم مدعا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کا مدعا فقط حکومت کرنا ہی نہیں ہے بلکہ خطہ میں امن قائم کرنے کے لئے چلینجوں سے نمٹنا بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار پر یہ لازم ہے کہ وہ مذاکرات کے لئے پہل کرے ،تاکہ لوگوں کے دلوں کو جیتا جا سکے۔انہوںنے مزید کہا کہ محبوبہ مفتی والی سرکار ریاست کی کُل ہُم ترقی کی ودہ پابند ہے،خصوصاً دیہی علاقوں میں۔انہوں نے کہا کہ سرکار نے لوگوں کی بھلائی و بہبودی کے لئے متعدد سکیمیں شروع کی گئی ہیں۔اور اب یہ انتظامیہ کی ذمہ واری ہے کہ وہ علاقہ کے دور دراز علاقوں میں مستحق اور ضرورت مندوں کی رسائی کریں۔