مینڈھر//فائرنگ اور گولہ باری کے دوران ایک ہی کنبہ کے پانچ افراد کی ہلاکت اور دو بچیوں کے شدید زخمی ہونے کے بالاکوٹ علاقے کے لوگوں نے سخت غم و غصہ پایاجارہاہے ۔مقامی لوگوںنے دونوں حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومتیں آپس میں بات چیت نہیں کر رہی اور عام شہریوں کو فائرنگ اور گولہ باری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔یوتھ لیڈر ماجد چوہدری نے کہا کہ اس سے بہتر ہے کہ دونوں سرکاریں آپس میں جنگ کا اعلان کر دیں تاکہ سرحدی علاقہ میں رہنے والے لوگوں کا بار بار نقصان نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاریں خاموش بیٹھی ہیں اور سرحدی علاقہ میں بسنے والے لوگ اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں یا ان کا لاکھوں روپے کا مالی نقصان ہو رہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو تین سال سے لگاتار فائرنگ اور گولہ باری کے دوران بالاکوٹ کے علاوہ مینڈھر اور منکوٹ کے سرحدی علاقوں میں درجنوں لوگ اپنی قیمتی جانیں گنوا بیٹھے لیکن سرکار خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔انہوںنے کہا کہ سرحدی علاقہ میں زخمی ہوئے لوگ ابھی بھی اپنی زندگی گھر میں بیٹھ کر گزار رہے ہیں کیونکہ کئی لوگوں کی فائرنگ کے دوران ٹانگیں چلی گئی یا اپنے جسم کا کوئی اور انگ کھو بیٹھے مگر حکومت کی طرف سے انہیں کوئی امداد نہیں ملی ۔دیگر لوگوں کاکہناہے کہ اس سے بہتر ہے کہ ایک ہی بار جنگ ہو جائے تاکہ جو لوگ بچیں وہ تو آرام سے اپنی زندگی گزارسکیں۔انہوں نے کہا کہ فائرنگ اور گولہ باری کے ڈر سے لوگ اپنے بچوں کو بھی گھر سے باہر نہیں نکلنے دے رہے کیونکہ کوئی پتہ نہیں کہ کب گولہ باری شروع ہو جائے ۔انہوںنے کہاکہ حالت یہ ہے کہ وہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھتے ہیں ۔ انہوںنے دونوں حکومتوں سے اپیل کی کہ جنگ و جدل کے ماحول سے باہر نکل کر بات چیت کاراستہ اختیا رکیاجائے یاپھر سیدھا اعلان جنگ کردیاجائے۔