بانہال // شہد کی مکھیوں کے کاروباریوں کی انجمن بی کیپرس ایسوسی ایشن ضلع رامبن نے اس سال پنجاب سے وادی کشمیر کی طرف شہد کی مکھیوں کی مائیگریشن کو بغیر کسی دشواری اور کسی نقصان کے یقینی بنانے کیلئے انہوں نے ڈپٹی کمشنر رامبن کا شکریہ ادا کیا ہے جن کی زاتی توجہ اور مداخلت سے اس سال شہد کے مکھیوں کی ہزاروں پیٹیوں کو شاہراہ کے جھمیلوں سے پاک فضا میں کشمیر اور بانہال وغیرہ علاقوں میں واپس پہنچایا گیا ہے ۔ بی کیپرس ایسوسی ایشن کے ضلع صدر رامبن فاروق احمد وانی نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ سالہاسال سے ان کی شہد کی مکھیوں سے لدھی گاڑیوں کو دونوں طرف کی مائیگریشن کے دوران مشکلات کا سامنا رہا ہے اور پچھلے کئی سالوں کے دوران ٹریفک پولیس کی طرف سے شہد کی مکھیوں سے لدھی گاڑیوں کو مخالف سمت کے ٹریفک میں جانے کی اجازت نہ دے کر روک دیا جس کی وجہ سے انہیں لاکھوں روپئے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تھا حتی کہ محکمہ ٹریفک نے محکمہ ایگریکلچر کے ڈائریکٹر کے حکم کو بھی خاطر میں نہیں لایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال انہوں نے پیشگی طور ڈپٹی کمشنر رامبن مسرت الاسلام سے اس بابت مدد کی درخواست کی اور انہوں نے ٹریفک وغیرہ سے ہمارا مسئلہ حل کر دیا اور راجستھان ، پنجاب اور دیگر ریاستوں میں سردیاں گذارنے گئے بی کیپر اپنے مال کو سلامتی سے بانہال اور وادی کشمیر پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہر سال مائیگریشن کے دوران ان کی گاریوں کو روکا جاتا تھا اور انہیں نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں کیونکہ شہد کی مکھیوں کا کاروبار نا لائیو سٹاک کے زمرے میں لایا گیا ہے اور ناہی اسے انشورنس کے زمرے میں لایا گیا ہے جس کی وجہ سے ہر سال کی مائیگریشن کے دوران شاہراہ کی خراب صورتحال ان کے مال کیلئے تباہی کا پیغام لاتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ڈپٹی کمشنر رامبن مسرت الااسلام کی مدد سے ہمارا مال سلامتی سے اپنی اپنی منزلوں کو جاپہنچا اور شاہراہ پر انہیں کسی بھی قسم کی دشوری کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر رامبن کی عام لوگوں کی فریاد سننے اور اس پر کاروائی کرنے کیلئے اْن کا شکریہ ادا کیا ہے۔