بانہال // ریاست جموں وکشمیر کی سرکاری زبان اردو ہے لیکن یہاں اردو زبان کے ساتھ مختلف شعبوں اور معاملوں میں روا رکھا گیا سلوک افسوناک ہے ۔ ہائر سیکنڈری سکول مْہو بانہال میں اردو لیکچرار کی آسامی کا وجود ہی عمل میں نہ لانے کی وجہ سے محکمہ تعلیم صوبہ جموں کے حکام کی طرف سے دور پہاڑی علاقوں میں زیر تعلیم غریب بچوں کی تعلیم کیلئے غیر سنجیدگی اور عدم توجہی کیلئے یہ ایک بڑی مشال ہے کہ سوفیصدی کشمیری علاقے میں قائم ہائر سیکنڈری میں اردو مضمون کی نہیں بلکہ ہندی کے مضمون کے لیکچرار کی آسامی کو منظور کیا گیا ہے ۔ بانہال کے مغرب میں واقع بیس ہزار سے زائد آبادی پر مشتمل مہو منگت علاقہ اور اس دور افتادہ علاقے میں ہائر سیکنڈری سکول مْہو کا قیام سال 2005 میں عمل میں لایا گیا لیکن اس کشمیری زبان بولنے والے مہو منگت بیلٹ میں قائم اس ہائر سیکنڈری سکول میں اردو کی آسامی ابھی تک موجود ہی نہیں ہے اور اِ س کا وجود ہی عمل میں نہیں لایا گیا ہے ۔زمینی حالات کو جاننے کے بجائے یہاں ایک ہندی کی آسامی کا وجود عمل میں لایا گیا ہے جو نہ کبھی یہاں پْر کی گئی اور ناہی اس کی کبھی ضروت پڑی ہے ۔ مہو منگت کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں تمام بچے اردو پڑھتے ہیں لیکن اردو لیکچرار کی آسامی محکمہ تعلیم نے اب تک منظور ہی نہیں کی ہے جس کی وجہ سے اردو کا مضمون یہاں تعینات عربی کے لیکچرار کواضافی طور پڑھانا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13برسوں سے یہ اہم معاملہ چیف ایجوکیشن افسر سے ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں اور متعلقہ وزراء کی نوٹس میں لایا گیا ہے لیکن اردو لیکچرار کی آسامی کو ابھی تک منظور ہی نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی پالیسی اور بچوں کے تئیں سنجیدگی پر عوامی حلقوں نے کئی سوالات کھڑے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائی سکول کو ہائیر سیکنڈری کا درجہ دیتے وقت اردو لیکچرار کی آسامی کو منظور نہ کرنا علاقے کے بچوں اور لوگوں کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کے ریاستی وزیر ذوالفقارعلی چودھری سے اپیل کی ہے کہ وہ علاقائی اعتبار سے اس اہم مسئلے کی طرف خصوصی توجہ دیکر اردو لیکچرار کی اسامی کو فوری طور پر منظور کرکے اس علاقے کے بچوں کے ساتھ انصاف کریں۔