سرنکوٹ//تحصیل ہیڈکوارٹرسرنکوٹ سے تقریبا پچیس کلو میٹر کی دوری پر واقع گاوں ہاڑی کی ڈھوک بن والی میں چار مکان آتشزدگی کا شکار ہوئے تھے جن کے متاثرین تاحال مالی امدادکے منتظرہیں۔تفصیلات کے مطابق بن والی ڈھوک میں ہاڑی گاوں سے تعلق رکھنے والے رہائشی کنبے چھ ماہ کے لئے اپنے مال مویشیوں سمیت ہجرت کرتے ہیں اور ان لوگوں کے مال مویشیوں کا دارومدار بھی اسی ڈھوک پر منحصر ہے۔آتشردگی سے جن کنبوں کے مکان خاکسترہوئے تھے ان میں عبدالکریم ولد سخی محمد ساکنہ ہاڑی ،محمد بشیر ولد نور محمد ساکنہ ہاڑی محمد شریف ولد نور محمد ساکنہ ہاڑی عبدالطیف ولد محمد دین ساکنہ ہاڑی ہیں۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز قبل ہی ان کے مکانات پراسرارطورپرخاکسترہوئے تھے جس میں ان کا بھاری نقصان ہواتھا۔بتایا جاتا ہے کہ ان کے گھروں میں سوکھے گھاس کے علاوہ ضروری اشیاء بھی موجود تھیں جو کہ آتشزدگی میں خاکسترہوگئیں۔متاثرہ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے اس سلسلہ میں ایک درخواست پولیس تھانہ سرنکوٹ میں دی ہے اور متاثرین نے امید ظاہر کی کہ ہماری درخواست پر ضرور تحقیقات اور کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور آگ کی واردات انجام دینے والوں کا پولیس جلد پتہ لگانے میں کامیاب ہو جائے گی اور متاثرین نے ایسے غلط عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کئے جانے کی بھی مانگ کی۔متاثرین نے کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں اور ہمارا دارومدار مزدوری پر ہے اور بڑی مشکل سے ہم نے ٹین ڈال کر مکان بنائے تھے اب ہم اس قابل نہیں ہیں کہ دوبارہ اپنے مکان تعمیر کر سکیں۔متاثرین نے ضلع انتظامیہ اور تحصیل انتظامیہ سرنکوٹ سے پرزور اپیل کی کہ فوری طور پر ان کے حق میں ریلیف بھی واگزار کی جائے تا کہ دوبارہ مکان تعمیر کئے جا سکیں۔