رام بن //ضلع کے عوام کو مجبوراً بغیر فلٹر کئے ہوئے پانی کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے،جس سے محکمہ صحت عامہ انجینئرنگ اور ہائیڈرالک ڈویژن کی کار کردگی کا پتہ لگ سکتا ہے۔عوام نے محکمہ پی ایچ ای اور ہایئڈرالک ڈویژن کی جانب سے لوگوں کو نظر انداز کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے،۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی پینے سے لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کئی امراض پھیلنے کا خطرہ لا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ قصبہ کے لئے منظور کیا ہوا فلٹریشن پلانٹ دہائیوں سے نا مکمل ہے انہوں نے کہا کہ علاقہ کے مکین آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیںکیونکہ وہ نالہ کے کھلے وسائل کا استعمال کرتے ہیں اور محکمہ ان ہی نالوں کا پانی پائپوں سے سپلائی کررہا ہے۔واٹر ریزروائر تک کی گریوٹی لائنوںسے اور زنگ آلودہ سپلائی پائپوں کو کبھی نہیں بدل دیا گیا ہے۔لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ متعلقہ ڈویژن اور سب ۔ڈویژن لوگوں کے صحت کے مسئلہ سے پریشان نہیں ہیںاور نہ ہی دہائیوں سے قبل بچھائی گئی زنگ آلودہ پائپوں کو بدلنے کے اقدام کئے گئے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ قصبہ کے فلٹریشن پلانٹ کو ،جسے دہائیاں قبل ترک کیا گیا تھا ،کو ابھی تک مکمل نہیں کیا گیا ہے۔لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ وہاں پر ضلع کے تمام سب۔ڈویژنوںمیںپانی ٹیسٹ کرنے کی لیبارٹریاں ہیں تاہم ،صارفین ان لیبارٹریوں کو قائم کرنے کے مقصد کو سمجھنے میں قاصر ہیںکیونکہ ان لیبارٹریوں میں پانی کا کوئی ٹیسٹ نہیں کیا جا تا ہے۔ہائیڈرالک ڈویژن رام بن کے ایگزیکٹو انجینئر محمد بشیر چودھری نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے اسکی تصدیق کی ہے کہ بعض زمین مالکان کے زمین کے جھگڑے کی وجہ سے اس فلٹریشن پلانٹ میں غیر ضروری تاخیر ہوا ہے۔تاہم محکمہ مال کے اہلکاورں کی مدد سے یہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل کیا گیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ فلٹریشن پلانٹ کو عنقریب ہی فعال بنایا جا ئے گا ۔