راجوری //اگرچہ حکومت کی طرف سے آبی ذخائر کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیاجارہاہے تاہم راجوری قصبہ کے بیچوں بیچ بہنے والے نالے میں گندگی کے ڈھیر جمع ہیں اور لوگ جانے انجانے میں گھروں کا کوڑا کرکٹ اس نالے میں پھینک دیتے ہیں جس سے نہ صرف ہر طرف عفونت پھیل رہی ہے بلکہ بیماریاں پھوٹ پڑنے کا اندیشہ بھی ہے ۔یہ سب کچھ میونسپل حکام اور پولوشن کنٹرول بورڈ کے سامنے ہورہاہے لیکن کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ۔ذرائع کاکہناہے کہ راجوری کے مرغ فروش مرغے صاف کرکے گندگی سیدھے نالے میں پھینک دیتے ہیں جس کی وجہ سے بیماریاں پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہے ۔ اس معاملے میں پولوشن کنٹرول بورڈ اورانتظامیہ پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی اور میونسپل حکام بھی خواب غفلت میں ہے ۔قصبے سے گزرنے والے نالے میںسینکڑوں مقامات پر گندگی کے ڈھیر موجود ہیں جو عوام کیلئے درد سر بنے ہوئے ہیں ۔ اس سلسلے میں جب پولوشن کنٹرول بورڈ کے ڈیویژنل آفیسر راجوری موہن لعل سے بات کی گئی تو انہوںنے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ کوئی براہ راست اتھارٹی نہیں ہیں ۔تاہم انہوںنے بتایاکہ اس بارے میں کئی مرتبہ ڈپٹی کمشنر راجوری کے نام تحریری طور پر لکھاہے ۔موہن لعل نے کہاکہ میونسپل کمیٹی راجوری ہی اس معاملے کی ذمہ دار ہے جسے بھی کئی بار نوٹس بھیجے گئے ہیں لیکن ابھی تک کارروائی نہیں ہوئی ۔