گھمبیرمغلاں کے دشوار گزار جنگلات میں سیکورٹی فورسز کا وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن
سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری کے گھمبیر مغلاں جنگلات کے دھوری مہل علاقے میں جاری انسدادِ ملی ٹینٹ آپریشن منگل کو مسلسل اٹھارویں روز میں داخل ہو گیا، جبکہ علاقے میں ایک بار پھر شدید فائرنگ اور زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے گھنے جنگلات میں بڑے پیمانے پر کارروائی جاری ہے تاکہ محصور دہشت گردوں کو بے اثر بنایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق یہ آپریشن 23 مئی کو اْس وقت شروع کیا گیا تھا جب خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سیکورٹی فورسز نے دھوری مہل کے جنگلاتی علاقے میں سرچ آپریشن آغاز کیا۔ سرچ کارروائی کے دوران سیکورٹی اہلکاروں اور مشتبہ ملی ٹینٹوںکے درمیان رابطہ قائم ہوا، جس کے بعد علاقے میں باقاعدہ انکاؤنٹر شروع ہو گیا۔سیکورٹی فورسز نے ملی ٹینٹوںکو گھیرنے اور ان کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لئے جنگلاتی علاقے میں وسیع آپریشن شروع کیا، جو اب مسلسل اٹھارہ دن سے جاری ہے۔ دشوار گزار پہاڑی علاقہ، گھنے جنگلات اور خراب موسمی و جغرافیائی حالات کے باوجود فوج، پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی مشترکہ ٹیمیں مسلسل کارروائی میں مصروف ہیں۔اطلاعات کے مطابق اتوار اور پیر کی دوپہر تک صورتحال نسبتاً پرسکون رہی، تاہم پیر کی شام کے بعد ایک مرتبہ پھر شدید فائرنگ اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔
یہ سلسلہ پیر اور منگل کی درمیانی شب بھر جاری رہا، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے جنگلات کے مخصوص حصوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کے شبہ پر آپریشن کو مزید تیز کر دیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز جدید حربی حکمت عملی کے تحت رات کے وقت بڑی تعداد میں الیومینیشن شیلز کا استعمال کر رہی ہیں تاکہ گھنے جنگلات میں بہتر روشنی فراہم کی جا سکے اور ملی ٹینٹوںکی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔ ان شیلز کی مدد سے سیکورٹی اہلکار رات کے اندھیرے میں بھی مؤثر طریقے سے آپریشن جاری رکھنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران جدید نگرانی آلات، ڈرون ٹیکنالوجی اور خصوصی جنگلاتی جنگی یونٹس کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ ملی ٹینٹوںکو فرار ہونے سے روکا جا سکے۔ سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لے رکھا ہے اور داخلی و خارجی راستوں پر بھی سخت نگرانی جاری ہے۔اگرچہ حکام کی جانب سے اب تک کسی دہشت گرد کی ہلاکت یا سیکورٹی فورسز کے نقصان کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، تاہم علاقے میں جاری شدید فائرنگ اور دھماکوں سے یہ واضح ہے کہ آپریشن انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگلاتی علاقوں کی جانب جانے سے گریز کریں اور سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون برقرار رکھیں۔