سرینگر//کورونا لاک ڈائون کے پہلے روز وادی اورجموں کے11اضلاع میں عام زندگی کی رفتار تھم گئی،جس کے نتیجے میں ہر سو خاموشی دیکھنے کو ملی،جبکہ تجارتی و کارباری مراکز مقفل رہنے کے علاوہ سڑکوں پر مسافر بردار ٹرانسپورٹ غائب نظر آیا۔ کرفیوکے نتیجے میں مساجد میں بڑے بڑے اجتماعات بھی منعقد نہیں ہوئے،جبکہ پولیس نے لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی۔جمعہ کی شام 7بجے سے 9اضلاع میں بھی کرفیو لاک ڈائون کا نفاذ شروع ہوگیا۔ کورونا وائرس سے ہونے والی اموات اور متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کے پیش نظرسرینگر،اننت ناگ،بارہمولہ ،بڈگام ،کولگام ،پلوامہ، گاندربل جموں ،کٹھوعہ ،ریاسی اوراودھم پور اضلاع میں لاک ڈاون سختی کے ساتھ نافذ رہا۔لاک ڈائون کی زدمیں لائے گئے سبھی11 اضلاع میں پولیس وفورسزنے اہم شاہراہوں ،سڑکوں اوربازاروں میںجگہ جگہ خاردارتاریں ڈالکر رکائوٹیں کھڑی کردی تھیں ،تاہم کرفیو جیسی صورتحال کے باوجود سری نگرسمیت تمام متعلقہ گیارہ اضلاع میں اشیائے خوردنی بالخصوص سبزیاں اورمیوہ جات فروخت کرنے والے دکانات کوکھولنے کی اجازت دی گئی ۔ 84گھنٹوں تک نافذرہنے والے لاک ڈائون کے بیچ جمعہ کے روز مساجدمیں بڑے اجتماعات کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ کئی مساجدکے امام صاحبان کومتعلقہ پولیس تھانوں میں بلاکر اُنھیں کچھ افرادکیساتھ نمازجمعہ اداکرنے کوکہاگیا۔مرکزی جامع مسجد سرینگر پہلے ہی بند کی گئی تھی جبکہ مختلف مساجد کمیٹیوں اور وقف بورڈ نے لوگوں کو گھروں میں نماز پڑھنے کی اپیل کی تھی۔ جموں کشمیر کے 11اضلاع میںشہر و ں ودیگر قصبہ جات کے بازار اور سڑکیں سنسان رہیں۔سرکاری دفاتر اگر چہ کھلے تھے تاہم ملازمین کی حاضر ی نہ ہونے کی برابر تھی جبکہ تعلیمی ادارے اور کوچنگ سینٹر کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی الو بولتے ہوئے نظر آئے۔سری نگراورجموں سمیت سبھی گیارہ اضلاع میں بہت کم تعدادمیں لوگ گھروں سے نکلے ۔اس دوران جمعہ کی شام سات بجے سے اُن 9اضلاع بشمول کپوارہ، بانڈی پورہ اور شوپیان ،رام بن، ڈوڈہ، سانبہ، راجوری ، پونچھ اور کشتواڑ میں بھی لاک ڈائون کے تحت بندشیں عائد کی گئیں ۔