بھدرواہ / /بالائی علاقوں میں تودے گر آنے کے خطرہ کے در پیش بھدرواہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے جواہر انسٹیچوٹ آف ماﺅنٹنرنگ اور واٹر سپورٹس کے اشتراک سے تودے گرآنے کے بعد بازیابی تربیتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا ۔ بھدرواہ کے برفانی علاقے پدری سیر گاہ میں منعقدہ تربیتی پرعوگرام کامقصد خراب موسمی حالات کے دوران تربیت پانے والوں کو اصل تجربہ فراہم کرنا تھا۔ اس تربیتی پروگرام میں 20مقامی لوگوں کے علاوہ د رجنوں پولیس اہلکاروں، جے آئی ایم اینڈ ڈبلیو ایس اور راشٹریہ رائفلز کے افسروں نے شرکت کی۔اسی نوعیت کی تربیت پہاڑوں پر چڑھنے اور آبی کھیلوں کے کورس میں منعقد کی جائے گی۔صوبہ جموں کی واادی چناب اور بھدرواہ ہی فقط برفانی علاقے ہینہیں ہیںبلکہ ان میں تودے گر آنے کا خطرہ بنا رہتا ہے۔جسکا زیادہ خطرہ ماہ اپریل میں رہتا ہے۔ایس ڈی پی او برجیش شرما نے کہا ہے کہ ہمارا علاقہ برف سے بھرا ہوا علاقہ ہے اور اس میں ہر ہمیشہ برفانی تودے گر آنے کا خطرہ بنا رہا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ گُذشتہ سال برفانی تودے گر آنے کی وجہ سے ہم نے تین قیمتی جانوں کو کھویا ہے اور اسکے علاوہ متعدد زخمی ہو گئے ۔انہوں نے اس تربیت کا ایک حصہ بننے پر بی ڈی اے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ تربیت کافی سود مند ثابت ہوگی ،جس کی وجہ سے ہم مُستقبل میں کئی قیمتی جانیں بچا سکیں گے۔ بی ڈی اے کے سی ای او راجندر کھجوریہ نے کہا ہے کہ ہم بھدرواہ کو سرمائی اور برفیلی کھیلوں کا ایک مرکز بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کسی بھی ناگہانی آفت کے دوران لوگوں کو بچانے کے لئے یہ تربیت منعقد کی ہے۔مقامی لوگوں نے اس تربیت کے لئے بی ڈی اے کی ستائش کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ یہ تربیت پنچایتوں اور سکولوں تک بھی بڑھائی جائے۔ایک نامور دانشور عارف رانا نے کہا ہے کہ اگر چہ بی ڈی اے کا یہ قدم قابل خٰر مقدم ہے تاہم ایس کاوشوں کی ضرورت ہے کہ بھدرواہ، بھلیسہ اور چھرالہ کی 70 فیصدی آبادی کو بھی یہ تربیت فرا ہم ہو کیونکہ یہ علاقے برفانی تودوں کے خطرے میں آتے ہیں۔