جموں//سینئر وکیل و سابق ممبر قانون ساز کونسل محمد رشید قریشی نے جموںبار ایسو سی ایشن کے چاروں مطالبات کورد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیاہے کہ سماج میں تفریق پید اکرنے کیلئے فرقہ وارانہ ایجنڈا نہ چلایاجائے ۔ایک پریس بیان کے مطابق قریشی نے بار ایسو سی ایشن کی جنرل ہائوس میٹنگ میں ان مدعوں کو مسترد کیا جس پر بار کی طرف سے ہڑتال کی جارہی ہے ۔ قریشی نے اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آصفہ قتل کیس پر کرائم برانچ نے چالان عدالت میں پیش کردیاہے اور سبھی کو کرائم برانچ اور عدالت پر بھروسہ کرناچاہئے ۔ انہوںنے کہاکہ کرائم برانچ کی قیادت ایک ایسا آئی جی کررہاہے جس کو ایمانداری کی وجہ سے جاناجاتاہے اور ایس ایس پی بھی ایک ایماندار افسر ہیں جن پر سبھی کو بھروسہ کرناچاہئے اور ایسے مطالبات نہ رکھے جائیں جو غیر منطقی ہوں ۔ان کاکہناتھاکہ چونکہ پولیس نے تحقیقات کے دوران مجرموں کو بچاتے ہوئے ثبوت مٹانے کی کوشش کی اس لئے اس کی تحقیقات کرائم برانچ سے کرانا لازمی تھا ۔ان کاکہناتھاکہ اس بات کافیصلہ عدالت کرے گی کس کو کیا سزا دیناہے لیکن وکیلوں کو یہ اختیارکیسے مل گیاکہ وہ چارج شیٹ پیش کرنے سے کرائم برانچ کو روکیں ۔ان کاکہناہے کہ مندر کے اندر عصمت دری ثابت ہوئی ہے اور اس پر ہندو ایکتا منچ بنالی گئی،کل کو کیا بدھ منچ ، مسلمان منچ اور سکھ منچ بھی بنیںگے ۔ قریشی نے روہنگیامسلمانوں کی جموں بدری پر بولتے ہوئے کہاکہ یہ معاملہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جس پر بار کو ابھی سے کوئی اقدام نہیں اٹھاناچاہئے بلکہ فیصلے کا انتظار کرناچاہئے ۔انہوںنے کہاکہ وہ قطعی اس حق میں نہیں کہ غیر ملکی یا غیر ریاستی ریاست میں رہیں لیکن عدالت کے فیصلے کاانتظار کیاجائے اور ایک مخصوص طبقہ کے بجائے تمام غیر ملکیوں اور غیر ریاستی شہریوں کے خلاف مہم چلائی جائے ۔قریشی کاکہناتھاکہ اسی طرح سے ایک مخصوص جگہ کیلئے ضلع کادرجہ دینے کا بار کا مطالبہ بھی کوئی جوازنہیں ہے ۔ ان کاکہناتھاکہ یہ فیصلہ حکومت کرے گی نہ کہ بار ایک مخصوص جگہ کیلئے ضلع درجہ پر مہم شروع کرے۔قریشی نے کہاکہ بار ایسو سی ایشن کو ایسے معاملات میں دخل نہیں دیناچاہئے جن سے سماج میں تفریق پید اہو اور فرقہ وارانہ بھائی چارے کو زک پہنچے ۔ ان کاکہناتھاکہ چونکہ یہ جائز مدعے نہیں ہیں اس لئے تجارتی انجمنوں اور دیگر کئی حلقوں نے بھی بار کی حمایت نہیں کی ۔ قریشی نے کہاکہ وہ بار ایسو سی ایشن کے خلاف نہیں لیکن اس ایجنڈے کے خلاف ہیں جوغیر منطقی بنیاد پر چلایاجارہاہے جس میں فرقہ واریت کی بو آتی ہے ۔ان کاکہناتھا’’ قبائلی طبقہ کے خلاف بھی مہم نہیں چلائی جانی چاہئے،ایک منٹس آف میٹنگ پر اتنا واویلا کیوں ہے ،کیا قبائلی طبقہ کے لوگ تعمیروترقی کے حقدار نہیں ،کیا وہ ریاست کے شہری نہیں اور کیاخالصتاً وہی سرکاری اراضی پر قابض ہیں،باقی کوئی ‘‘۔انہوںنے کہاکہ ایسے معاملات پر با ر کو کوئی اختیار نہیں ہے اورنہ ہی اس پر واویلا مچاناچاہئے ۔قریشی نے کہاکہ دیگر علاقوںسے لوگ یہاں اس لئے آتے ہیں کیونکہ یہاں بنیادی سہولیات فراہم ہیں ،اگر امتیاز ہے کہ تو دور دراز علاقوں خاص طور پر خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب کے ساتھ ہے ۔