واشنگٹن //یو این آئی// امریکہ کے افغانستان میں 20سال تک قیام اور طالبان کے خلاف آپریشن کے باوجود خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے کے پس منظر میں امریکی صدر جوبائیڈن نے 31 اگست کو افغان جنگ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اب مزید افغان جنگ کا حصہ نہیں بن سکتا۔امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق جوبائیڈن نے اب سے کچھ دیر قبل افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے حوالے سے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ‘افغانستان کی جنگ 31اگست کو اختتام پزیر ہوجائے گی’۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘امریکی فوج افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہیں’۔افغانستان میں طالبان کے بڑھتے اثر و رسوخ کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کو جوبائیڈن نے نظر انداز کیا اور کہا کہ ہمیں اب جنگ سے باہر نکل کر امریکہ کے بارے میں سوچنا ہوگا کیونکہ ہم گزشتہ دو دہائیوں سے حالتِ جنگ میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘میں اپنی ایک اور نسل کو افغان جنگ میں دھکیلنا نہیں چاہتا اور نہ ہی کسی کو افغانستان بھیجنے کا خواہش مند ہوں، جو کسی دوسرے سے مختلف نتائج کے حصول کی توقع کی جائے گی’۔امریکی صدرنے کہا کہ ‘افغانستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال صرف اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ وہاں امن و امان کے قیام کے لیے صرف ایک سال نہیں بلکہ غیر معینہ مدت تک رہنا پڑے گا، جس کا اب امریکہ متحمل نہیں ہوسکتا’۔ انہوں نے اعلان کیا کہ افغانستان سے امریکی فوج کا مکمل انخلا 31 اگست تک مکمل ہوجائے گا۔مسٹر جوبائیڈن نے کہا کہ ‘افغانستان کا مستقبل صرف افغان عوام کا حق اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا بہتر فیصلہ کریں اور ملک کے معاملات کو خود چلائیں، افغان عوام کے لیے امریکہ کی حمایت جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اس وقت فوجی لحاظ سے 2001 کے بعد کی مضبوط ترین پوزیشن میں سامنے آئے مگر ہم نے القاعدہ کو مکمل ختم کرنے کا ہدف حاصل کرلیا’۔