عراق ،فلسطین، افغانستان ،پاکستان، شام ، یمن وغیرہ میں عسکریت پسندوں کو ٹھکانے لگانے کے نام پر امریکہ اور دیگراتحادی ممالک کی جانب سے حملے ہوتے رہے ہیں۔ ان حملوں میں اصل اہداف جو بتایا جاتا ہے اسے حاصل کرنے میں امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کی افواج کو کامیابی ہوتی ہے بھی یا نہیں ،اس سلسلہ میں کوئی مصدقہ رپورٹس منظر عام پر آنامحال ہے۔ ماضی میں خطرناک فضائی حملوں کے ذریعہ الزامات کی بنیادوں پر عراق ، افغانستان ، پاکستان، یمن ودیگر اسلامی ممالک کو بے انتہاء جانی و مالی نقصانات برداشت کرنا پڑا اور نہیں معلوم مستقبل میں یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ان فضائی حملوں کی وجہ سے لاکھوں افراد ہلاک اور کھربوںڈالرز کا نقصان مسلمانوں نے اٹھایااور اپنی عظیم تاریخی وراثت و سرمائے کو اپنی آنکھوں کے سامنے برباد ہوتے دیکھا۔ گذشتہ دنوں عراق اور شام میں امریکہ نے پھر ایک مرتبہ ایسے ہی فضائی حملے کرکے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اس کی یہ کارروائی دہشت گردی یا دہشت گردوں کو ختم کرنے یا جو عسکریت پسند گروپوں کی مدد کرتے ہیں انہیں یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ وہ امریکی کارروائی کو پیشِ نظر رکھ کر کسی عسکریت پسند تنظیم یا ملیشیاء کو تعاون کرنے سے گریز کریں۔عراق او رشام پر گذشتہ دنوں کارروائی کے سلسلہ میں بتایا جاتا ہے کہ ایران کو قابو میں رکھنے کے لئے یہ فضائی حملے کئے گئے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے شام اور عراق میں ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کا دفاع کیا ہے۔ منگل کے روز امریکی کانگریس کو بھیجے گئے ایک مکتوب میں انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے درپیش خطرات کو روکنے کے مقصد کے تحت انہوں نے شام اور عراق میں ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر 27 ؍جون کو بمباری کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح امریکہ نے اُسی روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ اس نے گذشتہ دنوں شام اور عراق میں ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر اس لیے فضائی حملے کیے تاکہ عسکریت پسند اور تہران امریکی شہریوں اور تنصیبات پر مزید حملے یا حملے کرنے میں مدد نہ کرسکے۔یہاں یہ بات واضح رہے کہ اگر کوئی ملک اپنے دفاع میں کسی کے خلاف مسلح حملہ کرتا ہے تو اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کے دفعہ 51 کے تحت اس اقدام کے بارے میں پندرہ رکنی سلامتی کونسل کو فوراً آگاہ کرنا پڑتا ہے۔اسی کے تحت اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ ان حملوں میں ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جن کا عسکریت پسند عراق میں امریکی اہلکاورں اور تنصیبات کے خلاف ڈرون اور راکٹ حملوں کیلئے استعمال کر رہے تھے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کو ارسال کردہ مکتوب میں کہا ہے کہ،’’یہ فوجی کارروائی مذکورہ خطرے کو ناکام بنانے کیلئے تمام غیر فوجی متبادل ناکام ہوجانے کے بعد کی گئی ہے اور اس کا مقصد صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانا اور مزید حملوں کو روکنا تھا۔‘‘امریکی صدر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے اس بمباری کا دفاع کیااور کانگریس کو ارسال کردہ ایک مکتوب میں کہاکہ’’مزید خطرات یا حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اگر ضرورت محسو س کی گئی اور مناسب سمجھا گیا تو امریکہ مزید کارروائی کرنے کیلئے تیار ہے۔‘‘امریکہ صدر جوبائیڈن کا کہناہے کہ ان حملوں کا مقصد امریکی اہلکاروں کا دفاع اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا، امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر ہونے والے مسلسل حملوں کو روکنا اور ایران کو خطے میں امریکی مفادات پر حملوں سے باز رکھنا ہے۔عراق اور شام پر کئے گئے حملے کا دفاع کرتے ہوئے صدر جو بائیڈن نے امریکی کانگریس کی اسپیکر نینسی پلوسی کے نام مکتوب میں عسکریت پسندوں کے حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 4؍ اپریل، 18؍اپریل اور 3؍ مئی کو بلد فوجی اڈے پر،4؍ اپریل کو بغداد کے قریب سفارتی انکلیو اور 24؍ مئی کو عین الاسد ہوائی اڈے پر راکٹ حملے کیے گئے۔اس کے علاوہ 14؍ اپریل کو اربیل میں امریکی تنصیبات پر ڈرون سے حملہ کیا گیا جبکہ 8؍ مئی کو بشور ایئر بیس اور 10؍مئی کو بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ کیا گیا۔امریکی صدر نے اپنے مکتوب میںمزید ان خطرات کا اظہار کیا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں سے امریکہ اور اتحادی افواج کے اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔امریکہ کی جانب سے کئی گئی کارروائی پرخود امریکی ایوان نمائندگان کے بعض اراکین نے کانگریس سے باضابطہ منظوری کے بغیر ان فضائی حملوں کو غیر قانونی قرار دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں سے قبل صدر جوبائیڈن کو کانگریس سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ امریکی صدر کوایسی کارروائیوں کے سلسلہ میں کانگریس سے اجازت حاصل کرنا کتنا ضروری ہے یہ الگ مسئلہ ہے لیکن اس سے قبل کی امریکی حکومتوں کے دور میں امریکی صدور نے ایسی فضائی کارروائیوں کی اجازت دی ہے ۔ اس طرح ایک طرف امریکی صدر دہشت گردی کے خاتمے یا امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے تحفظ کے نام پر عالمِ اسلام کے ان ممالک کے خلاف حملے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو دوسری جانب کانگریس کے بعض ارکان ان کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔اس تضاد کے باوجود عالمِ اسلام کے معصوم اور بے قصور شہریوں کو اپنی جانوں اور مال کی قربانی دینی پڑتی ہے جبکہ اصل دہشت گرد یا عسکریت پسند ان کارروائیوں میں بڑی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے اقوام متحدہ نے امریکہ سے ایران پر عائد کردہ پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے غیرملکی نشریاتی ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جوہری پروگرام پر کام روکنے کے بعد ایران پر عائد پابندیاں ہٹا دے. انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی 15 رکنی کونسل 2015 کے معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق آئندہ ہفتے غور کرے گی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے ایران نے معاہدے کے تحت جوہری ہتھیاروں کے حصول کا پروگرام ترک کر دیا ہے اس لئے اب جوبائیڈن انتظامیہ ایران پر عائد معاشی پابندیاں ختم کردے۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے خاتمے سے ایران جوہری پروگرام کو توانائی کے حصول تک محدود رکھنے کو یقینی بنائے گا، دوسری جانب اسرائیل نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سابق صدر حسن روحانی کے چیف آف اسٹاف محمود وائزی نے کابینہ اجلاس کے بعد کہا کہ واشنگٹن تیل، شپنگ اور انشورنس سیکٹرز سمیت دیگرعائد کردہ پابندیاں اٹھانے پر رضامند ہے۔ ایران کی جانب سے ویانا میں ہونے والی بات چیت کا حصہ رہنے والے محمود وائزی کے مطابق امریکہ نے ایران کے متعدد اہم افراد پر عائد کردہ پابندیاں بھی ہٹانے پہ آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ ایران کے نئے منتخبہ صدر ابراہیم ریئسی کے حلف لینے سے قبل امریکہ ایران پر سے پابندیاں ہٹاتا ہے یا نہیں۔
ادھریہ سوال گردش کرنے لگا ہے کہ افغانستان میں پھر ایک مرتبہ طالبان کی حکومت قائم ہوجائے گی۔ امریکہ افغانستان میں ایک طویل جنگ ہار نے کے بعد اپنی افواج کا انخلا عمل میں لارہا ہے۔جیسا کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے 11؍ ستمبر سے قبل ہی اپنی افواج کو افغانستان سے نکال لینگے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق کہا جارہا ہے کہ امریکی فوج جوبائیڈن کی جانب سے افغانستان سے 11؍ ستمبر کو دی گئی ڈیڈ لائن سے پہلے ہی چند دنوں میں انخلا کرنے والی ہے۔البتہ افغانستان میں امریکی سفارت کاروں کی حفاظت اور ممکنہ طور پر کابل ایئرپورٹ کی حفاظت میں معاونت کرنے والے فوجی اہلکار اس انخلا میں شامل نہیں ہیں۔امریکی افواج کا افغانستان سے واپسی کا آغازہوتے ہی ملک میں طالبان کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگیا اور کئی اضلاع میں طالبان کنٹرول حاصل کررہے ہیں اور افغان فوج و سیکیوریٹی اہلکار حملوں کا شکار ہورہے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح ہے کہ امریکی افوج کے انخلا کے باوجود امریکی حکام کے مطابق افغانستان میں 650 کے قریب امریکی فوجی سفارت خانے پر تعینات ہونگے۔امریکی فوج کے انخلا میں تیزی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک میں طالبان کے حملے بڑھ رہے ہیں۔امریکہ کی زیر قیادت نیٹو فورسز کے انخلا سے تشویش پائی جا رہی ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے، جس سے ممکنہ طور پر القاعدہ کو دوبارہ امریکہ اور دیگر اہداف پر نئے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا موقع ملے گا۔جنوری میں شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ افغانستان میں القاعدہ کے 500 جنگجو ہیں اور طالبان کے ان کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ تاہم طالبان افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی کی تردید کرتے ہیں۔قطر میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے ۔ اب دیکھنا ہے کہ صدر اشرف غنی اور سی ای او عبداللہ عبداللہ امریکی و نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کو سنبھال پاتے ہیں یاپھر ملک کو طالبان کے حوالے کردیتے ہیں۔
اُدھراسرائیلی وزیر خارجہ یائر لاپڈ نے اپنے پہلے اماراتی تاریخی دورے متحدہ عرب امارات کے دوران خلیج میں اپنا پہلا سفارت خانہ کا افتتاح کردیا ہے۔فرانسیسی ذرائع ابلاغ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات معمول پر آنے کے نو ماہ بعد اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں سفارت خانہ کھولا۔اسرائیلی وزیر خارجہ نے 30؍ جون چہارشنبہ کو اماراتی ہم منصب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے متحدہ عرب امارات میںاسرائیلی سفارت خانے کے افتتاح کو ’تاریخی‘ قرار دیا۔۔افتتاحی تقریب کے موقع پر اسرائیلی وزیر خارجہ لائر لاپڈ نے کہا کہ ’اسرائیل اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ امن چاہتا ہے، مشرق وسطیٰ ہمارا گھر ہے، ہم یہیں رہیں گے۔ ہم خطے کے تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کو تسلیم کریں۔ لاپڈ اپنے دورے کے دوران دبئی میں اسرائیل کے قونصلیٹ جنرل کا بھی افتتاح کریں گے۔واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے گذشتہ سال ستمبر میں معمول کے تعلقات قائم کر لیے تھے۔دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات قائم کرنے کا معاہدہ سابقہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کرایا تھا۔رمضان المبارک کے آخر ایام اور شوال کے ابتداء میں مسجد اقصیٰ کی اسرائیلی فوج و سکیوریٹی فورسز نے بے حرمتی کی اور سینکڑوں فلسطینیوں پر گولیوں اور لاٹھیوں سے وار کرکے شدید زخمی کیا۔جس کے بعد حماس کی اسرائیل کے خلاف کارروائی اور پھر غزہ پٹی پر ظالم اسرائیلی افواج کی فضائی کارروائی نے درجنوںفلسطینی معصوم و بے گناہ افراد کا قتل کیا اور کھربوں کی املاک تباہ و برباد کردی ۔سابق اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو کو شرمناک شکست اور نئے وزیراعظم اورنئی اسرائیلی حکومت نے متحدہ عرب امارات میں اپنا سفارت خانہ اور قونصل خانہ کھولنے کے بعد دیکھنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کس قسم کی تبدیلی آتی ہے اور مستقبل قریب میں کون کونسے ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرتے ہیں۔
9949481933
������