عظمیٰ ویب ڈیسک
دراس/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج نے منگل کو زوجیلا ٹنل میں بریک تھرو کو ایک ’’تاریخی سنگِ میل‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے جموں و کشمیر اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں رابطہ ممکن ہوگا جبکہ معیشت، سیاحت اور قومی سلامتی کو بھی فروغ ملے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نےمنصوبے سے وابستہ انجینئروں، سائنسدانوں اور مزدوروں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے سخت موسمی حالات میں کام جاری رکھا۔
انہوں نے کہا، میں لداخ اور جموں و کشمیر کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان تمام افراد کو سراہتا ہوں جنہوں نے خراب موسم اور دشوار حالات کے باوجود اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انتھک محنت کی۔سرحدی علاقوں میں رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران سڑک، ہوائی اور ریل رابطوں میں بہتری نے ترقی کو نئی رفتار دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو علاقے پہلے نظرانداز کیے جاتے تھے، وہاں اب بنیادی ڈھانچے پر مسلسل توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مرکزی وزیر نتن گڈکری اور ان کی وزارت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں جاری بڑے انفراسٹرکچر منصوبے سیاحت اور تجارتی سرگرمیوں کو نمایاں فروغ دیں گے۔منصوبے کی اسٹریٹجک اہمیت بیان کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ زوجیلا ٹنل حساس سرحدی خطے میں قومی سلامتی کو مزید مضبوط کرے گی اور سال بھر آمد و رفت کو یقینی بنائے گی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ منصوبہ جلد مکمل ہو کر عوام کے نام وقف کیا جائے گا، جو طویل عرصے سے ہر موسم میں قابلِ اعتماد رابطے کے منتظر ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے 3 جولائی سے شروع ہونے والی امرناتھ یاترا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بہتر رابطہ کاری سے یاتریوں کو بڑی سہولت حاصل ہوگی۔واضح رہے کہ زوجیلا ٹنل منصوبہ بھارت کے اہم اسٹریٹجک انفراسٹرکچر منصوبوں میں شامل ہے، جس کا مقصد سری نگر اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں رابطہ فراہم کرنا ہے۔ سردیوں میں بھاری برفباری کے باعث زوجیلا پاس بند ہو جانے سے لداخ کا زمینی رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔
زوجیلا ٹنل کے سبب جموں و کشمیر اور لداخ کی رابطہ کاری میں انقلاب آئے گا: منوج سنہا