عظمیٰ ویب ڈیسک
کپواڑہ/شمالی ضلع کپواڑہ میں پیر کے روز ٹرانسپورٹروں کی جانب سے ہڑتال کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے اور عوامی ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہی، جس کے نتیجے میں مسافروں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
ہڑتال کے باعث دفاتر، تعلیمی اداروں اور اسپتالوں تک رسائی متاثر ہوئی، جبکہ طلبہ اور ملازمین سب سے زیادہ متاثر ہوئے کیونکہ کئی افراد اپنی منزل تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ اگرچہ بازار کھلے رہے، تاہم ضلع میں مجموعی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی۔
یہ احتجاج حکومت کی جانب سے اضلاع میں مفت اسمارٹ سٹی بس سروس شروع کرنے کے فیصلے کے خلاف کیا گیا، جس کے بارے میں ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اس سے ان کے روزگار پر منفی اثر پڑے گا۔
متعدد مسافروں نے اچانک ہڑتال پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ ہندواڑہ کے راجوار علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک سرکاری ملازم نے بتایا، “مجھے اپنے دفتر پہنچنے کے لیے سات کلومیٹر پیدل چلنا پڑا کیونکہ ہڑتال کی وجہ سے کوئی گاڑی دستیاب نہیں تھی۔”
اسی طرح یونیورسٹی آف کشمیر کے ایک طالب علم نے کہا کہ امتحانات جاری ہیں لیکن ہڑتال کے باعث کئی طلبہ وقت پر اپنے امتحانی مراکز تک نہیں پہنچ سکے۔
گورنمنٹ میڈیکل کالج ہندواڑہ میں ایک مریض کے تیماردار نے بتایا کہ مریضوں کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ “ہمیں اپنے مریض کو یہاں لانے کے لیے نجی گاڑی کا انتظام کرنا پڑا، آج کی ہڑتال نے عام لوگوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کیے۔
احتجاجی ٹرانسپورٹروں نےحکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور ٹرانسپورٹ شعبے سے وابستہ افراد کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائے۔
کپواڑہ میں ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال، مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا