جعلی تقرری نامہ پر محکمہ تعلیم میں تعینات ٹیچر نوکری سے برطرف

سری نگر//محکمہ سکول ایجوکیشن کشمیر نے ایک ٹیچر کو برطرف کر دیا ہے جو 13سال قبل فرضی تقرری نامہ تیار کر کے محکمہ میں تعینات ہونے میں کامیاب ہوا تھا۔
آج جاری ایک حکم نامے کے مطابق، چیف ایجوکیشن آفیسر سری نگر نے نومبر 2022میں جاری ایک سرکلر میں بتایا کہ سرکاری سکول میں استاد کے طور پر کام کرنے والے “جعل ساز” کی سروس بک سے انکشاف ہوا کہ وہ سال 2009میں جموں وکشمیر سروس سلیکشن بورڈ کے ذریعہ منتخب ہونے کے بعد RBA زمرہ کے تحت استاد کے طور پر مقرر کیا گیا تھا”۔
تقرری کے حکم کی صداقت کا پتہ لگانے ڈائریکٹر ایجوکیشن کشمیر کی طرف سے12دسمبر2009کو جاری کردہ اصل آرڈر کی تصدیق کی گئی جس دوران پتہ چلا کہ جموںو کشمیر سروس سلیکشن بورڈ کی طرف سے جاری کی گئی فہرست میں متعلقہ شخص کا نام ہی نہیں ہے۔
حکم نامہ کے مطابق، مجرم ٹیچر کو معطل کر کے ڈائریکٹر محکمہ تعلیم کشمیر سے منسلک کر دیا گیا تھا اور وہ ibid آرڈر کی تعمیل میں ڈائریکٹوریٹ کو رپورٹ کرنے میں ناکام رہا تھا۔
معاملے کی چھان بین جوائنٹ ڈائریکٹر (سنٹرل) نے کی اور بتایا ہے کہ تقرری نامہ دیگر دو اساتذہ کے حق میں جاری کیا گیا ہے جو جعلی اور فرضی ہے، جس سے جعل ساز محکمے میں داخل ہوا۔ اس نے سرکاری خزانے سے غیر قانونی اجرت حاصل کرتے ہوئے حکام کو دھوکہ دیا ہے۔
حکم نامہ کے مطابق،’’مجرم استاد‘‘ نے شوکاز نوٹس کا جواب دیا ہے اور سپیڈ پوسٹ کے ذریعے 10 جنوری2023کو جواب جمع کرایا ہے، جس کی اچھی طرح جانچ کی گئی اور اسے نظر ثانی کے لیے میرٹ سے خالی پایا گیا۔
دھوکہ باز کے حق میں مبینہ طور پر جاری کردہ تقرری کا حکم DSEK کے ذریعہ جاری نہیں کیا گیا ہے، اسے کالعدم اور غیر قانونی سمجھا جائے گا۔
حکم نامہ کے مطابق،”مذکورہ جعلی تقرری نامہ سے حاصل ہونے والا کوئی بھی فائدہ فوری طور پر واپس لے لیا جائے گا اور مذکورہ شخص کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کی جائے گی”۔