جماعت اسلامی فنڈنگ کیس :جموں اور ڈوڈہ اضلاع میں کئی مقامات پر این آئی اے کے چھاپے

یو این آئی

جموں//قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) نے پیر کے روز جموں اور ڈوڈہ اضلاع میں کئی مقامات پر چھاپے مارے ۔
یہ چھاپے کالعدم تنظیم جماعت اسلامی جموں و کشمیر سے وابستہ افراد کے گھروں اور تنظیموں کے دفاتر پر مارے گئے ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق این آئی اے کی ٹیموں نے پیر کی صبح جموں وکشمیر پولیس، سینٹرل ریزرو پولیس فورس(سی آر پی ایف ) کے ہمراہ جموں اور ڈوڈہ اضلاع میں جماعت اسلامی سے وابستہ افراد کے گھروں پر چھاپے مارے ۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈوڈہ ضلع کے دھارا گندانہ ، منشی محلہ، اکرم آباد ، نگری نئی بستی، کھروٹی باگوا، تھالیلہ اور ملہوتی بھالا اور جموں ضلع میں بٹھنڈی علاقوں میں چھاپے مارے گئے۔
این آئی اے ذرائع نے بتایا کہ اس تنظیم سے وابستہ اراکین قومی اور بین الاقوامی سطح پر فلاحی سرگرمیوں کی انجام دہی کے نام پر عطیات جمع کرتے تھے لیکن یہ پیسے تشدد بھڑکانے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے کے لئے استعمال کئے جاتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے جمع کی جانے والی رقومات حزب المجاہدین، لشکر طیبہ اور دیگر تنظیموں کو منتقل کی جاتی تھیں۔
این آئی اے ذرائع نے مزید بتایا کہ جماعت اسلامی علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے کشمیری نوجوانوں کو بحیثیت اراکین اس تنظیم میں شامل کراتی تھی۔
این آئی اے نے گزشتہ سال پانچ فروری کو جماعت اسلامی کے ارکان کے خلاف کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی تھی۔
ذرائع کے مطابق چھاپہ ماری کارروائیوں کے دوران این آئی اے نے مختلف مجرمانہ دستاویزات اور الیکٹرانک آلات ضبط کئے۔
بتا دیں کہ مرکزی حکومت نے 2019 میں جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر پانچ سالہ پابندی لگا دی۔ اس پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔
جماعت اسلامی پر پابندی لگانے کے اقدام کی وادی کشمیر کی تقریباً تمام سیاسی، مذہبی و سماجی جماعتوں نے مذمت کی تھی۔ جماعت نے پانچ سالہ پابندی کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔
جماعت اسلامی کو کالعدم قرار دینے کے بعد سیکورٹی فورسز نے کارکنوں اور لیڈران کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاون شروع کیا جس دوران متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔