عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے منگل کے روز اعلان کیا کہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے جموں و کشمیر کے قومی شاہراہ-44 پر واقع چنینی -ناشری سیکشن میں موجود ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی ٹنل کے متوازی ایک نئی دو رویہ سرنگ کی تعمیر کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔یہ مجوزہ منصوبہ خطے کی اہم ترین شاہراہوں میں شمار ہونے والے اس روٹ پر ٹریفک نظام کو بہتر بنانے اور سفر کو مزید آسان و مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا، جو کشمیر وادی کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑتا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس روٹ پر بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ کے پیش نظر اضافی انفراسٹرکچر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی، جس کے بعد این ایچ اے آئی اور وزارتِ روڈ ٹرانسپورٹ و ہائی ویز نے نئی سرنگ کی تجویز کو قبول کیا۔
مجوزہ ٹنل موجودہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی ٹنل کے متوازی تعمیر کی جائے گی، جس کا افتتاح اپریل 2017 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔ اس ٹنل نے چنینی اور ناشری کے درمیان سفر کا وقت نمایاں طور پر کم کیا اور حادثات و خراب موسمی حالات کے لیے مشہور پتنی ٹاپ روٹ کو بائی پاس کرکے ہر موسم میں رابطہ ممکن بنایا۔
حکام کے مطابق نئی متوازی سرنگ بڑھتے ہوئے ٹریفک بوجھ کو سنبھالنے، گاڑیوں کی بھیڑ کم کرنے اور شاہراہ کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی، خاص طور پر سیاحتی سیزن اور مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت کے دوران۔جموں-سرینگر قومی شاہراہ کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والا بنیادی زمینی رابطہ ہے، جہاں روزانہ ہزاروں مسافر اور تجارتی گاڑیاں سفر کرتی ہیں۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جموں و کشمیر میں زوزیلا ٹنل سمیت کئی بڑے سڑک اور سرنگ منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کا مقصد پہاڑی علاقوں میں رابطہ بہتر بنانا اور سفری مشکلات کو کم کرنا ہے۔
چنینی-ناشری سرنگ کے متوازی نئی ٹنل کی منظوری، ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا اعلان