عظمیٰ ویب ڈیسک
جنیوا/عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ ایبولا بیماری کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس کی وجہ سے کانگو میں اب تک 515 مصدقہ کیس سامنے آ چکے ہیں اور 91 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔یوگنڈا میں 19 مصدقہ کیسز کے ساتھ دو لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے پیر کو بتایا کہ کانگو میں انفیکشن کی صورتحال انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے، کیونکہ یہاں اب تک ملنے والے کیسز میں شرح اموات 17.7 فیصد درج کی گئی ہے۔ تاہم، اصل اموات اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں، کیونکہ وبا کے اعلان سے پہلے ہونے والی کئی اموات کی جانچ ابھی جاری ہے۔ کانگو کے 25 ہیلتھ زون اس بیماری کی زد میں ہیں، جن میں سے صرف اتوری صوبے میں سب سے زیادہ 94 فیصد کیسز درج کیے گئے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق، متاثرہ صوبوں میں مسلسل بڑھتے ہوئے تشدد اور سیکورٹی کے واقعات کی وجہ سے ہیلتھ ٹیموں کو کام کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سے نگرانی کا کام متاثر ہو رہا ہے اور بیماری پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ دوسری جانب یوگنڈا میں ملنے والے تمام مریض وبا کے نقطہ نظر سے کانگو سے ہی جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں کچھ لوگ براہ راست کانگو سے آئے تھے، تو کچھ ان کے رابطے میں آکر متاثر ہونے والے مقامی ہیلتھ ورکرز ہیں۔ یوگنڈا کے لیے البتہ راحت کی بات یہ ہے کہ وہاں ابھی عام عوام کے درمیان یہ بیماری نہیں پھیلی ہے۔ یوگنڈا میں متاثر ہونے والے 70 فیصد لوگ کانگو کے شہری ہیں، جو علاج کے لیے وہاں آئے تھے۔
عالمی ادارہ صحت نے کانگو میں خطرے کو انتہائی زیادہ اور یوگنڈا سمیت سرحدی ممالک میں اعلیٰ سطح کا مانا ہے، کیونکہ وہاں لوگوں کی آمدورفت بہت زیادہ ہے۔ دنیا کے باقی حصوں کے لیے یہ خطرہ البتہ کم ہے۔ اس کے باوجود، ڈبلیو ایچ او نے فی الحال دونوں ممالک کے ساتھ سفر یا تجارت پر کسی بھی قسم کی پابندی نہ لگانے کا مشورہ دیا ہے۔
ایبولا بیماری تیزی سے بڑھ رہی ہے: ڈبلیو ایچ او