۔8 مقامات پر چھاپہ ماری کے دوران ڈیجیٹل اور قابل اعتراض مواد برآمد کیا گیا: این آئی اے

یواین آئی

سرینگر// قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) نے منگل کی صبح جموں وکشمیر میں آٹھ مقامات پر چھاپے مارے جس دوران ڈیجیٹل اور قابل اعترض برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔
این آئی اے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ منگل کی صبح قومی تحقیقاتی ایجنسی نے پونچھ ، شوپیاں ، پلوامہ ، بارہ مولہ ، گاندربل ، کپواڑہ اور سری نگر میں آٹھ مقامات پر چھاپے مارے ۔
انہوں نے بتایا کہ نو تشکیل شدہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ ہابرڈ ملی ٹینٹوں اور اعانت کاروں کے گھروں پر چھاپے ڈالے گئے اور وہاں تلاشی لی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ این آئی اے کی ٹیموں نے ٹی آر ایف، یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ جموں وکشمیر(یو ایل ایف)، مجاہدین غزوت الہند(ایم جی ایچ)، جموں اینڈ کشمیر فریڈم فائٹرس(جے کے ایف ایف)، کشمیر ٹائیگرس ِ، پی اے اے ایف اور دوسری ذیلی تنظیموں سے وابستہ ہابرڈ ملی ٹینٹوں اوران کے اعانت کاروں کے گھروں کی تلاشی لی گئی۔
موصوف ترجمان کے مطابق تلاشی کارروائی کے دوران بہت سارے ڈیجیٹل آلات کو ضبط کیا گیا جس میں کافی مقدار میں مجرمانہ ڈیٹا کوبھی پایا گیا جبکہ دستاویزات بھی موقع پر ہی تحویل میں لئے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ این آئی اے نے حال ہی میں کالعدم دہشت گرد گروپوں اور ان کی ذیلی تنظیموں کی جانب سے جموں وکشمیر میں پر تشدد دہشت گردانہ حملوں اور سرگرمیوں کے حوالے سے تحقیقات شروع کررکھی ہے۔
این آئی اے نے 21جون 2022کو دہشت گرد ی سازش کیس کے سلسلے میں مقدمہ درج کیا تھا ۔
مذکورہ کیس میں ملی ٹینٹ معاونین اور دوسرے مشتبہ افراد جو کہ نئی دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ ہیں جموں وکشمیر میں دہشت گردی ، تشدد اور بغاوت پھیلانے کے لئے آئی ای ڈیز، فنڈز نشہ آور اشیاءاور اسلحہ وگولہ بارود کو جمع اور تقسیم کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق قومی تفتیشی ایجنسی کی جانب سے ابتک کی تحقیقات سے یہ بات عیاں ہوئی ہے کہ پاکستان میں بیٹھے دہشت گرد اور ہینڈلرز دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں اور وادی کشمیر میں دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ ملی ٹینٹوں اور ان کے اعانت کاروں تک اسلحہ وگولہ بارود ، دھماکہ خیز مواد ، منشیات وغیرہ پہنچانے کی خاطر ڈرون کا استعمال کر رہے تھے۔
موصوف ترجمان کے مطابق یہ سرگرمیاں پاکستان میں ان کے ہینڈلرز کی حمایت یافتہ کالعدم تنظیموں کی طرف سے رچائی گئی تخریبی سازش کے حصے کے طورپر کی جارہی تھی۔ اس سازش میں مقامی نوجوانوں کو بنیاد پرستی اور جموں وکشمیر میں تشدد اور پر امن حالت میں رخنہ ڈالنے کی خاطر ملی ٹینٹ معاونین کو فعال کرنا بھی شامل تھا۔