عظمیٰ ویب ڈیسک
ڈوڈہ/چناب خطے کے بالائی علاقوں میں تازہ برفباری کے باعث پیدا ہونے والی خطرناک موسمی صورتحال نے خانہ بدوش بکر وال قبائل کی سال میں دو بار ہونے والی موسمی ہجرت کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ یہ قبائل جموں کے میدانی علاقوں سے ڈوڈہ اور کشتواڑ کے بلند و بالا چراگاہوں کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، تاہم اس سال انہیں غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔
سینکڑوں خانہ بدوش خاندان اپنے مویشیوں کے ہمراہ سفر کے دوران مشکلات سے دوچار ہیں، خاص طور پر چھترگلہ درہ عبور کرتے وقت، جہاں برفباری، اچانک طوفان، موسلادھار بارش اور برفانی تودے گرنے کے خدشات نے راستے کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔
ہر سال جب جموں میں موسم سرما ختم ہو کر بہار کا آغاز ہوتا ہے تو گوجر اور بکر وال قبائل صدیوں پرانی روایت کے مطابق اپنی موسمی ہجرت شروع کرتے ہیں۔
بسولی کے رہائشی عبدالمجید نے کہا، “ہمیں اس ہجرت کے دوران بے شمار جان لیوا چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن یہ ہمارا صدیوں پرانا پیشہ ہے اور ہمارے پاس اسے جاری رکھنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “ہر سال خراب موسم کی وجہ سے ہمارے بکریاں، گھوڑے اور کبھی کبھار بچے اور بزرگ بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، لیکن ہمیں حکومت کی جانب سے کوئی مدد نہیں ملتی۔”
کٹھوعہ، سانبہ اور جموں کے میدانی علاقوں سے سینکڑوں بکر وال خاندان اپنے ہزاروں مویشیوں (بکریاں اور گھوڑے) کے ساتھ ڈوڈہ اور کشتواڑ کے بلند پہاڑی چراگاہوں کی جانب روانہ ہوتے ہیں، جہاں پہنچنے میں انہیں کم از کم ایک ماہ کا وقت لگتا ہے۔
کٹھوعہ کی 63 سالہ نشاطہ بیگم نے بتایا، “سرتھل اور چھترگلہ میں برفانی طوفان کے باعث ہماری کئی بکریاں ہلاک ہو گئیں اور ہمیں مسلسل تین دن تک بغیر کھانے کے گزارنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلے ہجرت خوشی کا باعث ہوتی تھی، لیکن اب یہ مویشیوں کے نقصان اور مقامی لوگوں کے غیر دوستانہ رویے کی وجہ سے غم کا سبب بن گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے دونوں بیٹے گریجویٹ ہونے کے باوجود سرکاری ملازمت حاصل نہیں کر سکے، جس کے باعث انہیں یہی پیشہ اپنانا پڑا۔
14 سالہ صدام چوہان نے کہا، “میں شروع میں اس سفر کے لیے بہت پرجوش تھا، لیکن چھرگلہ پہنچ کر حقیقت کا سامنا ہوا جب میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے کئی بکریوں کو مرتے دیکھا۔”
دریں اثنا، ڈویژنل فاریسٹ آفیسر بھدرواہ دیویندر کمار نے ایک ٹیم تشکیل دی ہے جس کی قیادت رینج آفیسر سمیر ریشو کر رہے ہیں تاکہ ہجرت کے دوران خانہ بدوشوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ حکام نے مقامی لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قبائلی افراد کے ساتھ مہمانوں جیسا سلوک کریں کیونکہ وہ جنگلاتی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔
چھترگلہ چیک پوسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 دنوں میں 250 بکر وال خاندان یہاں سے گزر چکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں گوجر اور بکر وال قبائل کی مجموعی تعداد تقریباً 25 لاکھ ہے، جن میں سے قریب 5 لاکھ افراد خانہ بدوش ہیں جو اپنی گزر بسر کے لیے بھینسوں، بھیڑوں، بکریوں اور گھوڑوں کی پرورش کرتے ہیں۔
تازہ برفباری: خانہ بدوشوں کی موسمی ہجرت شدید بحران کا شکار