قرّۃ العین حیدر

 طلوعِ اسلام سے اب تک چودہ صدیوں کے مختلف ادوار میں مسلم خواتین نے انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں اپنی عظمتوں کی تاریخ مرتب کی ہے۔ برصغیر ہندوستان کی گزشتہ آٹھ سو سالہ مشترکہ ہند آریائی تہذیب کی تاریخ بھی مسلم خواتین کے دورساز کارناموں سے مزین ہے جنھوں نے جہانبانی، ملک گیری، سیاست، علوم و فنون، صنعت و حرفت اور انسانی معاشرہ کی اصلاح و تعمیر میں اپنی بصیرتوں اور لیاقتوں کے دائمی نقوش لوحِ زمانہ پر مرتسم کیے۔ یہ شرف بھی اس عظیم خطہ ارض کی مشترکہ تہذیب کی زندہ علامت اردو زبان کو حاصل ہوا کہ یہاں ایک نابغۂ روزگار مسلم خاتون نے جنم لیا جس نے اپنی غیرمعمولی ذہانت، علمیت، تخلیقیت اور وسیع تاریخی، سماجی، سیاسی اور انسانی شعور و بصیرت کو فن افسانہ نویسی اور ناول نگاری کے وسیلے سے اس طرح ظاہر کیا کہ بیسویں صدی میں برصغیر کی کوئی اور قوم یا زبان اس کا ثانی پیدا نہیں کرسکی۔ نہ صرف برصغیر بلکہ ت

عورت اور ہمارا رویہ

کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں عورت مرد سے پہلے کیوں بوڑھی ہو جاتی ہے؟کیوں شادی ہوتے چند سال میں بیٹی اپنی ماں کی بہن دکھنے لگتی ہے؟خوبصورت سے خوبصورت عورت کا جسم وقت سے پہلے بے ڈھنگا اور بدنما ہوتا چلا جاتا ہے۔مرد شادی کے چند سال بعد اپنی ہی بیوی کا چھوٹا بھائی دکھائی دیتا ہے۔اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے ہمارا معاشرہ، مرد یا عورت کی جسمانی ساخت؟ عورت جسمانی طور پر شاید مرد کے مقابلہ میں کمزور ہو لیکن فطرت نے اسکے جسم میں وہ تمام صلاحیتیں رکھی ہیں جن کی بدولت وہ نہ صرف افزائش نسل کا فریضہ سر انجام دے سکے بلکہ اپنی ساخت کو ایسے برقرار رکھ سکے جو مرد کے لیے کشش اور مسرت کی وجہ ہولیکن ایسا کیوں ہے کہ ہمارے معاشرہ میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ہمارے معاشرہ میں اکثر لڑکیوں کی شادی ان کی پسند کی نہیں ہوتی مرضی سے ہوتی ہے۔لڑکی کی مرضی کسی نہ کسی صورت میں سمجھوتے کی ایک شکل ہوتی ہے

ملازمت پیشہ خواتین کو درپیش مسائل

دنیا بھر کی خواتین معاشی طور پر مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف طریقوں کے ذریعیاپنے ملک و قوم کا نام روشن کررہی ہیں۔مختلف اعداد وشمار افرادی قوت میں عورتوں کی بڑھتی شرح کا تذکرہ کرتے ہیں لیکن یہ تصویر کا آدھا رخ بیان کرتے ہیں۔ تصویر کا دوسرا ر خ ملازمت پیشہ خواتین کو کام کی جگہوں پرموجود درپیش مسائل ہیں، جن کاذکر قدرے کم کیا جاتا ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ملازمت پیشہ خواتین کو مسائل کاسامنا ہے۔ برطانوی ادارے تھامسن رائٹرز فائونڈیشن اور روک فیلر فائونڈیشن کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میںدنیاکی 9500ورکنگ ویمن سے ملازمت کی جگہوں پر موجود درپیش مسائل سے متعلق بات چیت کی گئی۔اس سروے نتائج کے مطابق دنیابھر کی ورکنگ ویمن کو مندرجہ ذیل مسائل کا سامنا زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ ورک لائف بیلنس سروینتائج کے مطابق دنیا بھر کی ورکنگ ویمن کو درپیش مسائل میں سے ایک مسئلہ ورک لائف بیلنس کا

صنف ِنازک…!

بھیا سچ پوچھیں تو میری سمجھ شریف پرآج تک یہ بات نہیں بیٹھ سکی ہے کہ ’’صنف ِنازک‘‘ درحقیقت ہے کیا! اچھا جی میرے ساتھ ہوتا یہ ہے کہ بعض دفعہ ہزارسمجھنے کے باوجود جب مسئلہ سمجھ میں نہیں آتا ہے تو مزیدالجھنے کے بجائے اسے سمجھنا ہی ترک کردیتا ہوں۔ یاآپ ہی معاملہ ’پھر کبھی‘ پر موقوف ہوجاتا ہے۔ بارہااس مسئلہ (صنف نازک) کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی،تاہم بات جب بنتی ہوئی نظر نہیںآئی توسمجھنا ترک کردیا، یا کبھی آپ ہی ’پھرکبھی‘ پرموقوف ہویا۔آج یوں ہی تنہا اپنے کمرے میں بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ چلیں جی اس مسئلے پراس بارسنجیدگی کے ساتھ قلمی زورآزمائی کیون نہ کرلی جائے۔ عام طورپرہمارے معاشرے میں’’صنف نازک‘‘عورتوں کوکہا جاتا ہے۔ یہ ایک مخصوص ’اصطلاح‘ ہے،جس کا اطلاق انسان کے اس روپ پرہوتا ہے

تر بیت ِ اطفال اور خواتین

 یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری گھر کے دو افراد ایک ماں اور دوسرے باپ کے اوپر عائد ہوتی ہے لیکن باپ کی ذمہ داری گھر کے باہر بھی ہوا کرتی ہے جیسے کاروبار وغیرہ کی ذمہ داری۔ اس بنا پر اس کا بچوں کی تعلیم و تربیت پر مکمل توجہ دینا ممکن نہیں ہے ۔اس لئے بچوں کی اصل تربیت کی ذمہ داری ماں کے اوپر عائد ہوتی ہے کیونکہ بچہ ابتدا ہی سے آغوش مادر میں پرورش پاتا ہے اور ماں کی گود سے ہی بچوں کی زندگی پروان چڑھتی ہے اور بچوں کا تعلق خاص طور سے ماں کی ذات سے ہوتا ہے ۔  اسی لیے ماں کے عزائم،خیالات اور افکار کا اثر لازمی طور سے اولاد پر پڑتا ہے ہے ۔گویا ماں ایک درخت ہے تو اولاد اس کی شاخیں اور پھل۔ماں ایک پھول ہے تو بچے اس کی خوشبو ہیں۔ اولاد ماں کے خوابوں کی تعبیر اور اس کی سیرت و کردار کا نمایاں عکس ہوتی ہے۔   حقیقت میں ماں کی گود بچے کی پہلی

محرم اور غیر محرم کا بیان اور ہمارے لئے سوچنے کا مقام

اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں آدمی کی زندگی کیلئے مکمل رہنمائی ہے، پیدا ہونے سے مرنے تک اور نکاح سے طلاق تک سبھی احکامات سے اسلام نے ہمیں روشناس کرایا ہے۔ لہٰذا ، اسلام نے جہاں نکاح کی شرائط اور اس کا طریقہ بتایا ہے، وہیں کس کا نکاح کس سے ہوسکتا ہے اس کو بھی صاف طور پر سمجھادیا ہے۔ آج ہماری ناواقفیت کہیے یا جان بوجھ کر اسلامی احکامات سے چشم پوشی کہ ہمارے آس پاس اور خود ہماری رشتہ داریوں میں نکاح کے لیے لڑکے اور لڑکیاں موجود ہوتے ہوئے بھی ہم رشتوں کی تلاش میں پاگلوں کی طرح خاک چھانتے پھرتے ہیں۔ آج کی اس تحریر میں آپ حضرات کے سامنے اسی بات کی وضاحت مقصود ہے کہ اسلام نے کہاں کہاں نکاح کو ناجائز قرار دیا ہے اور شریعت کے مطابق کن رشتوں کے درمیان نکاح کیاجاسکتا ہے۔ تو آئیے پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ پردہ کس کس سے کیا جانا چاہیے، یعنی محرم کون ہے اور غیر محرم کون؟ محارم یعنی وہ افراد جن سے عو

علم کو ترستی ہیںسرحد کی بیٹیاں

ملک کے نامور ادارے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے صد سالہ جشن کے موقع پر وزیرا عظم نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اپنے خطاب میں کہا کہ ایک زمانہ تھا جب مسلم لڑکیوں کا ڈراپ آئو ٹ ریٹ 70 فیصد سے زائد تھا، لیکن آج صرف 30 فیصد ہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی کوششوں اوراسکولوں میں بیت الخلاء بنانے سمیت مختلف سکیموںکی وجہ سے ڈراپ آؤٹ ریٹ کم ہوئے ہیں۔لیکن سرحدی علاقے کی لڑکیوں کے ڈراپ آئوٹ کی وجہ کچھ اور ہی ہے۔ دراصل یہاں کے سکولوں میں بیٹھی لڑکیوں کو یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ نہ جانے کب سرحد کے اس پار سے کوئی گولہ آجائے اور ان کے لئے مصیبت کا باعث بن جائے۔ درحقیقت سرحدی بیٹیوں کو بیت الخلا ء بنانے جیسی سکیموں کی نہیں بلکہ گولہ باری سے بچتے ہوئے کیسے اپنی تعلیم مکمل کی جائے ،ایسے کسی سکیم کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرکزاور یوٹی حکومت نے لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق جو اقدامات اٹھائے ہیں، وہ قا

ماں تیرے انمول کردار کو سلام

یوں تو سبھی انسانوں کی زندگی پر بے شمار لوگوں کے کردار کا اثر آفرین ہوتا ہے تب جا کے ان کی وہ بہتر زندگی بن جاتی ہے جو دوسروں کے لئے قابل رشک، قابل داد، قابل تحسین اور مشعل راہ ہوتی ہے۔ چہ جائیکہ یہ زندگی ایک عام سے لے کر خاص الخاص شخص کی کیوں نہ ہو۔ زندگی کو صحیح سمت پر سنوارنے میں سماج کے کئی اشخاص کا نمایاں کردار ہوتا ہے لیکن اسی زندگی کو غلط رخ دے کر بگاڑنے میں صرف چند گنے چنے افراد کا منفی کردار ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ یہ زندگی ایک بچہ سے بوڑھے شخص کی ہو یا ان پڑھ جاہل گوار سے اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کی ہو۔ غرض ہر کسی کی زندگی میں کئی لوگوں کا ایک مثبت و منفی کردار ضرور ہوتا ہے۔ ہماری زندگی بھی کچھ اسی طرح سے گزرتی رہتی ہے جس میں ہمارے سماج کے کئی اہم افراد کا کردار نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ ابتدائی سکول کی جب بات کریں گے تو ہماری زندگی میں اس ادارے اور معلمہ کا سب سے زیادہ کردار ر

تحفظ کے نام پر صرف تحفظ چاہئے ،بے جا پابندیاں نہیں!

اجی واقعہ یہ ہے کہ جب آپ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوجاتے ہیں تو بے جا پابندیوں اورعقلی نقلی دلیلوں کاسہارا لے کرپابندیوں کومزیدسخت کرنے کی کوششیں کرنے لگتے ہیں۔ ہمارے یہاں(خطہ ٔاودھ میں) اس عمل کو محاورتاً یوں استعمال کیاجاتا ہے،’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘۔ چوں کہ آپ کے پاس اختیارات ہوتے ہیں،تواپنی کھسیاہٹ کوچھپانے کی غرض سے اختیارات کا بے جا و بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ اور اس طرح اپنی اَنا کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ واضح رہے پابندیوں اورتحفظ کے نام پراختیارات کا بے استعمال اور حفاظتی دستوں کی بے جا وکالت نظام کی ناکامی و نامرادی کی صریح دلیل ہے۔جناب آسانیاں فراہم کرکے جس قدرماحول کو’عوام دوست‘ اور’ترقی پسند‘ بنایا جاسکتا ہے،وہ پابندیاں عائد کرکے کسی طورممکن نہیں ہے۔مجھے میرے ماسٹر صاحب کی بات یاد آرہی ہے۔میرا دل کہہ رہا ہے کہ شئی

عورت نور ہے تو گھروں میں نار کیوں ہے؟

صدیوں سے غلامی اور جبر کی تاریکیوں میں پھنسی عورت کو پیغمبر اسلام ؐ نے گویا اْس کے صحیح مقام سے آشنا کردیا۔ قر آنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ سورۃ النساء کو شامل کرکے عورت کو بلند مقام عطا کیا۔ سورۃ النور بھی خواتین کے ہی معاملات سے متعلق ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ کلام اللہ نے عورت کو نور یعنی روشنی سے تعبیر کیا ہے۔ یہ ہے عورت کا مقام۔ اس کا مطلب ہے کہ جہالت اور غفلت کے اندھیروں میں غرق معاشروں کو بیداری اور شعور کی شمع جلانے کا اعلیٰ ترین منصب عورت کو ہی عطا کیا گیا ہے۔ حضرت مریم کا واقعہ بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے گویا دنیا کی سبھی خواتین سے مخاطب ہوکر یہ کہہ دیا کہ عورت پر خود ذاتِ باری نے تاریخی اعتماد کا مظاہرہ کیا۔ ایک بیوی اور ماں کی حیثیت سے انسان کی بنیادی تربیت بھی عورت کے ہی ذمے ہے۔  علاوہ ازیں نسل ِ انسانی کی نشوونما، نسلِ آدم کی بقا ء اور تمدنِ انسانی کی

لڑکیاں اپنا تحفظ خود کرلیں گی

ہاں صاحب،لڑکیاں اپنا تحفظ ازخود کرلیں گی،آپ یقین جانیں۔مزید اس ضمن میں یہ بات ہمیں گانٹھ باندھ لینی چاہیے کہ جس قدرخوب صورتی کے ساتھ اپنا تحفظ وہ خود کرلیں گی،دوسرا بھلا کیا کرے گا۔ ’’اپنی حفاظت اپنے ہاتھ‘‘والا محاورہ توغالبا ہم سب نے سنا ہی ہے،توجناب عالی سات ادب کے ساتھ یہ بات بھی گوش گزار لیجئے کہ یہ محاورے محض محاورے نہیں ہوتے ۔ واقعہ دراصل یہ ہے کہ سب سے پہلے تو ہمیں اپنے ذہنوں کو صاف کرلینا چاہئے۔ یعنی اس طرح کی باتیں نکال دینی چاہئں کہ’’ بھئی لڑکیاں توکمزورہوتی ہی‘‘۔واضح رہے کمزوری کا تعلق بظاہرجسم سے ہے ،لیکن عقل و خرد رکھنے والے خوب جانتے ہیں’ کمزوری کا تعلق درحقیقت عدم خود اعتمادی سے ہے،قوت فیصلہ اور قوت ارادہ کی محرومی سے ہے۔فہم و فراست کے فقدان سے ہے،ایک بات۔دوسری بات یہ کہ ہمیں اپنے بچوں پریقین کرنا چاہئے،خواہ وہ ب

اسلام میں تعدد ازدواج کی اہمیت

جس معاشرے میں تعدد ازدواج کو معیوب سمجھا جاتا ہو وہ کوئی اور معاشرہ ہو تو ہو اسلامی معاشرہ ہرگز نہیںہوسکتا، اسلام نے انسانی فطرت کے تقاضوں کے مطابق ہی شریعت کو اس پر نافذ کیا ہے، انسان فطری طور پر ایک بیوی پر اکتفا نہیں کرسکتا، یہی وجہ ہے کہ جہاں ایک ہی بیوی ضروری سمجھی جاتی ہے وہاں کے مرد چھپے راستے ایک سے زائد ناجائز تعلقات بنائے رکھتے ہیں۔ ایک سے زائد شادی آدمی کی ضرورت بھی ہے، اس لیے کہ شادی شدہ زندگی میں بھی ایسے بہت سے مواقع پیش آتے ہیں؛ جب مرد کے لیے اس کی ایک بیوی کافی نہیں ہوتی۔ مثلاً جب بیوی حمل سے ہو اور تولد کا وقت قریب ہو تو چند مہینوں تک مرد کو ہمبستری سے روکا جاتاہے، اب وہ اپنی فطری خواہش اور جسمانی ضرورت کی تکمیل کہاں سے کرے گا؟ ہر عورت کو مہینے میں ایک بار ماہواری کا تقاضا رہتا ہے، جس کی مدت تین دن سے دس روز تک بھی ہوسکتی ہے، اس دوران مرد اپنی مردانہ خواہش کیسے پوری

تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا

دنیا میں کسی بھی مذہب یا نظریہ نے علم وحکمت کی اہمیت و ضرورت کو اتنا اجاگر نہیں کیا جتنا اسلام نے کیا ہے۔ صحیح علم کی رہنمائی،اس کا شوق دلانے،اس کی قدر و منزلت،اہل علم کی عزت افزائی کرنے،اس کے آداب بیان کرنے اوراس کے اثرات ونتائج واضح کرنے میں اسلام نے جو بھرپور اور مکمل ہدایات پیش کی ہیں،ان کی مثالیں کہیں نہیں ملتی ہیں۔قرآن مجید میں علم کا ذکر دیگر مشتقات کے ساتھ آٹھ سو سے زائد بار ملتا ہے۔ اس سے علم و حکمت کی افادیت و اہمیت کا پتہ چلتا ہے ۔اسی طرح سے جب ہم حدیث کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں علم سے متعلق مکمل ابواب کی شکل میں ملتے ہیں۔مثلا صحیح بخاری میں وحی کی ابتدا اور ایمان کے باب کے بعد ہی علم کا باب شروع ہو جاتا ہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے علم کو عزت بخشی اسی طرح علم کے حصول میں مددگار چیزوں کو بھی عزت بخشی ہے۔اللہ نے قرآن مجید میں سب سے پہلے قلم کا ذکر کیا ہے اور یہ قل

بیوی، شوہر کی غلام نہیں ہے

گوکہ معاشرے میں مرد اور عورت دونوں اپنی اپنی سماجی،معاشی اور عائلی ذمہ داریوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ دونوں کے وجود سے ہی معاشرے کا وجود ممکن ہوپا یاہے، لیکن بغور دیکھیں تو ہم نے جس معاشرے کی تعمیر کی ہے وہ ’’مرد اساس معاشرہ‘‘ بن کر رہ گیا ہے۔مرد کسی ’حاکم‘ یا’سوامی‘ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔اس معاشرے میں 'بیوی' کی حیثیت ایک ایسے گھریلوغلام کی سی ہوگئی ہے، جس کا کام بچے پیدا کرنا،پھر ان کی پرورش و پرداخت کرکے ان کو بڑا کردینا ہے۔ظاہر ہے کہ جہاں حاکم اور سوامی ہوں گے وہاں ان کے سامنے غلام ہی ہوں گے! حالاں کہ قصہ مختصر یہ ہے کہ بیوی شوہرکی شریکِ حیات ہے۔وہ اس کی نصف ہوتی ہے۔ گھرپریوار اور دیگر لوگوں کی نظروں میں دونوں ایک دوسرے کی زندگی میں ایک دوسرے کو قبول کرتے ہوئے شریک ہوتے ہیں۔دونوں ایک دوسرے کے معاون و مددگار اور ایک دوسرے کے س

اسلام اور عورت

’’اسلام میں عورت کا مقام‘‘ کے حوالے سے اگر گفتگو کی جائے تو یہ ایک وسیع اور توجہ طلب موضوع ہے۔لیکن یہاں وقت کی عدم دستیابی کے پیش نظر محض اس کے کچھ اہم گوشوں پر روشنی ڈالی جائے گی۔زمانہ جاہلیت کی بات کی جائے تو تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عورت کو ایک حقیر مخلوق سمجھا جاتا تھا شاید یہی وجہ تھی کہ کم سن لڑکیوں کو زندہ درغور کرنا عام سی نات بن گئی تھی ۔لڑکیاں طوائف خانوں کی زینت ہوا کرتی تھیں اور شوہر اپنی بیوی سے غلاموں جیسا سلوک کرتے تھے۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ عورت باضابطہ طور بازارؤں میں خرید و فروخت کی جاتی تھی۔  ظہور اسلام اور اس کی مخصوص تعلیمات کے ساتھ عورت کی زندگی ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوئی جو زمانہ جاہلیت سے بہت مختلف تھی۔یونان ،مصر ، عراق ، ہندستان ، چین ، غرض ہر قوم میں ہر خطہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں عورتوں پر ظلم کے پہاڑ نہ ٹوٹے ہوں۔لو

ماں … مدرس اعلیٰ

جب ایک بچہ اس دنیا میں اپنی آنکھیں کھولتا ہے ۔ اِس دنیا کی چکا چوند دیکھ کر زور آواز میں چلّاتا ہے اور روتا ہے۔مگر ماں کی گود میں پہنچ کر سکون پاتا ہے اور خاموش ہو جاتا ہے۔ دودھ پیتا ہے اورنیند کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ بیدار ہوتے ہی پھر رونے اور چلانے کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ مگرکچھ گھنٹے بعد وہ اس دنیا سے مونوس ہو جاتا ہے اوراِس دنیا کو، جہاں تک اسکی نظریں جاتی ہیں ،بغور دیکھتا رہتا ہے ۔اللہ سب کو بقائے زندگی کی کچھ فطری عادت دیکر اس دنیا میں بھیجتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ دیرپہلے پیدا ہوا بچہ ماں کی گود میں جاتے ہی دودھ پینا شروع کر دیتا ہے ۔ ماں کی گود سے اس دنیاوی زندگی کی شروعات ہو تی ہے اور یہیں سے وہ سیکھنا بھی شروع کر دیتا ہے۔ اس لیے دنیا میںپہلی تعلیم گاہ ماں کی گود ہوتی ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں مدرس میں ماںکا مقام اول ہے ۔ ماںچاہے خواندہ ہوں یا ناخواندہ، اپنے بچوں کواچھی بات

لڑکیوں کو پڑھاؤ، لڑکیوں کو بچاؤ!

ہمارے ہندی والے ماسٹر صاحب (خدا انہیں غریق رحمت فرمائیں) اکثر کہا کرتے تھے،’’پریورتن پَر کِرتی کا شاسوَت نِیَم ہے‘‘۔بخدا اس وقت تو میرے پلے کچھ نہیں پڑتا تھا،لیکن جوں جوں عمرکا مرحلہ طے کرتا گیا،ماسٹرصاحب کی بات کا مطلب سمجھتا گیا۔گوکہ صد فیصد سمجھ لینے کا دعوے دارآج بھی نہیں ہوں،لیکن کام تو بہر حال چل جاتا ہے،بات بن جاتی ہے۔یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب میری زبان سے بھی بارہا نکل جاتا ہے، ’’تبدیلی فطرت کا بنیادی اصول ہے‘‘۔دیکھیں جی فطرت معاف نہیں کرتی ہے۔بدلو گے نہیں، تو ’ڈائنا سور‘کی مانند تمہارا سُراغ تک مٹ جائے گا۔کہنے کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ 'غوروفکر کی سطح پربھی بدلاؤ ناگزیرہے'۔میں اگریہ کہوں 'اصل میں بدلاؤ توغوروفکرکی سطح پرہی ہونا چاہئے'، تو میرا یہ کہنا کسی طور انتہاپسند فکریا نظریے کا شاخسانہ نہیں ہے۔

نا قابل دوست

 ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک بوڑھا کسان تھا۔جس نے زندگی میں بڑے رنج اٹھائے تھے اور زمانے کے سرد وگرم کو چکھ لیا تھا۔اسکی زندگی کا حاصل ایک کھیت تھا جو پیداوار سے پْر تھا،ایک باغ تھا جو پھلوں سے بھرا تھا،ایک گھر تھا جو اثاثہ سے بھرا تھا اور گائیوں ،بھیڑ بکریوں اور نقدی و جواہرات کی کافی مقدار تھی۔ان سب سے بہتر اسکی ایک بیوی تھی جو دانا اور سمجھ دار تھی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک بیٹا دیا تھا جو اسکی آنکھوں کا نور تھا اور اسکی شادمانی اور مسّرت کا باعث تھا۔ بوڑھے کسان نے جوانی میں بڑے رنج اٹھائے تھے۔اور محتاجی سے بے نیازی تک پہنچ گیا تھا۔زمانے کے لوگوں سے بہت برائی دیکھی تھی۔اپنے اچھے دوستوں کو بھی پہچان گیا تھا۔سارے باپ جیسے چاہتے ہیں اسی طرح اس کا دل بھی چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا اسکے تجربات سے مستفید ہو جائے اور جوانی کے آغاز سے خوش قسمت ہو جائے۔ کسان نے اپنے بیٹے کو بچپن میں ہی

عورتوں کے ساتھ انصاف کیجئے!

کسی بزرگ،کسی جہاں دیدہ انسان کا قول ہے:''معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے،لیکن نا انصافی کی بنیاد پرنہیں''۔ آیا معاشرہ کفر پر بھی قائم رہ سکتا ہے،یہ بات میرے لیے باعث صد حیرت ہے، لیکن فی الوقت میں اس پر کسی طرح کی حیرت کا اظہار کرنے یا کسی طرح کی بحث وہث کرنے سے سراسر گریز کرتے ہوئے اس امر پر اپنا پورا زور صرف کرنے کی کوشس کررہا ہوں کہ ''معاشرہ عدمِ انصاف کی صورت میں پوری توانائی یا سات صحت مندی کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا ہے''۔ انصاف بہرصورت ناگزیر ہے،خواہ معاملہ تولنے اور ناپنے کا ہو، تقسیم وراثت کا ہو یا انسانی حقوق و مساوات کا ہو۔ بات جب عورتوں کے حق حقوق اور ان کے ساتھ جملہ معاملے میں انصاف کی ہوتی ہے،توصحیح معنوں میں انصاف کی بات یہ ہے کہ سب سے پہلے انہیں آدم و حوا کی اولاد سمجھا جائے۔یعنی انہیں بھی ''انسان'' سمجھا جائے۔بے ش

دوشیزہ ٔ ابر ۔۔۔۔ …قسط دوم

کینیڈا کے قدرتی حسن سے ہمیں اپنی وادی کے قدرتی حسن سے مشابہت نظر آنا فطری تھا۔  خزاں کی آمدآمد تھی۔ باغوں کے اندر قطاروں میں لگے، چناروں سے مشابہ، (Maple) درخت اور آڑی چھتیں، جاتی ہوئی خزاں میں رنگ بدلتے ہوئے پتے اور زردی مائل سی ہری گھاس تھی۔ چالیس پچاس برس اُدھر، کشمیر میں مٹی کی چھتیں بھی ہوا کرتی تھیں۔ ان کے اندر بھوج پتر بچھائے جاتے تاکہ پانی نہ رسے۔ ان پر پھول بوئے جاتے تھے جن میں زیادہ تر گل لالہ ہوتا، سرخ رنگ لالہ اور کبھی زرد بھی۔ دیہات میں کہیں کہیں دھان کی خشک گھاس کو اب بھی چھتوں میں استعمال کیا جاتا ۔گاہے گاہے گھاس بدلی جاتی۔چمکیلی سنہری گھاس پر سے برف کے تودے پھسل پھسل کر زمین پر آگرتے ہیں ۔ کمروں میں کہیں نمی ر سنے کا کوئی ایسا خدشہ بھی نہیں ہوتا اور یہ ٹین کی چھتوں کی ہی طرح محفوظ معلوم ہوتی ہیں ۔کس قدر آسان اور صحت مند طریقہ تھا۔ فطرت کا اس میں کوئی نقصان نہ

تازہ ترین