جہیز کی فرسودہ رسم

عام طور پر بیٹی کے پیا دیس سدھارنے کا خواب والدین اسی دن دیکھنا شروع کردیتے ہیں، جس دن وہ پیدا ہوتی ہے۔ شادی والے دن والدین کے لیے بیٹی کی جدائی سے زیادہ اس کا گھر بس جانے کی خوشی اہم ہوتی ہے لیکن اس خوشی کے حصول کے لیے انھیں جہیز جیسی فرسودہ رسم کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ شادی کے انتظار میں کتنی ہی لڑکیوں کی عمر بڑھتی جارہی ہے، وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ ان کے والدین جہیز کے نام پر مہنگے تحائف دینے یا لڑکے کے گھروالوں کی شرائط پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ کتنی ہی لڑکیاں ایسی ہیں،جنھیں جہیز کے مطالبات پورے نہ کئے جانے پر شادی کے بعد تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم بچپن سے ہی درسی کتابوں میں جہیز کی رسم کو ایک لعنت پڑھتے آئے ہیں لیکن اس کے باوجود معاشرے میں یہ رسم دن بدن کسی ناسور کی طرح پنپ رہی ہے۔ برصغیر میںبیٹی کی شادی میں والدین کی طرف سے دیا جانے والا سامان (مثلاً فرنیچ

سیرت پر صورت کو ہی ترجیح کیوں؟

مہمانوں کے آنے میں بہت کم وقت رہ گیا تھا اور وہ آج بھی ہمیشہ کی طرح دیوار پر لگے شیشے میں خود کو ہر زاویے سے دیکھ رہی تھی، وہ کبھی آئینے کے قریب جاتی ہے تو کبھی دور، کبھی بال کھولتی ہے تو کبھی باندھتی ہے کبھی مسکراتی ہے تو کبھی ایک دم سنجیدہ ہوجاتی ہے۔یہ سب کرتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی کہ وہ واقعی بہت عام سی ہے،کاش اللہ تعالی نے مجھے بھی تھوڑا خوبصورت بنایا ہوتا ! یہ سوچتے ہوئے نہ جانے کتنے آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر زمیں میں جذب ہوگئے تھے۔ آج بھی تیار ہوتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی کہ آخر کب تک !اماں کے چہرے پر آج بھی ہمیشہ کی طرح پریشانی اور غصے کے ملے جھلے تاثرات تھے، اماں کا بھی کیا قصور ہے۔ قصور تو میرا ہے ،اگر میں بھی خوبصورت ہوتی تو آج یہ سب نہ ہوتا! مہمانوں کے سامنے چائے کی ٹرے رکھتے ہی اس کے آگے اْن سوالات کی برسات کردی جاتی ہے جن کے جوابات وہ ہمیشہ سے ہی بڑی روانی کے سات

بچوں کو موٹاپے سے بچائیں

بعض مائیں بچوں کو صحت مند بنانے کے لیے ضرورت سے زیادہ اور وقت بے وقت کھلاتی رہتی ہیں۔ بڑے ہوکر کھانے پینے کی یہ روٹین بچوں میں موٹاپے کا سبب بھی بن جاتی ہیں۔ بچپن کا موٹا پا اکثر اوقات بیماریوں کا پیش خیمہ بھی بن جاتا ہے۔والدین کو چاہیے کہ بچپن سے ہی بچوں کی متوازن غذا پر تو جہ دیں۔چھوٹی عمر سے ہی انہیں پھل اور سبزیاں کھانے کا عادی بنائیں ،تا کہ ان چیزوں کو کھانیکی عادت بچپن سے ہی پختہ ہو جائے۔والدین کو پہلے ایک سال کے دوران بچے کے وزن کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک شیر خوار فربہ ارو صحت مند بچے میں فرق ہوتا ہے۔ اگر آپ کے بچے میں چار سال کی عمر میں موٹاپے کے اثرات ظاہر ہو ں اور اس کاوزن اس کے قد کی مناسبت سے زیادہ ہو توبہتر ہے کہ معالج سے رجوع کریں۔ بچے کی پسند کے پیش نظر اسے روغنی غذائیں یا جنک فوڈ کا عادی نہ بنائیں۔ اگر یہ عادت پختہ

جِلد کی صحت

غذائیت سے بھرپور خوراک صحت کے لیے اہم ہے کیونکہ غیر صحت بخش خوراک آپ کے میٹابولزم کو نقصان پہنچا کر موٹاپے، دل، جگر اور جِلد کے امراض میں مبتلا کرسکتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ماہرین غذائیت کو نشاستہ آور غذائوں کی اہمیت اور ان کے طبی فوائد کا ادراک ہو چکا ہے۔ معالجین مختلف عارضوں میں مبتلا مریضوں کوہیلتھ اینڈ فٹنس ڈائٹ چارٹ مہیا کرتے ہیں کہ کون سی غذائیں مفید ہیں اور کون سی مضر۔ فائدہ مند غذائیں ماہرین غذائیت کا اتفاق ہے کہ چہرے اور جِلد کی صحت و توانائی کے لیے جہاں موئسچرائزر اور فیس واش جیسی مصنوعات خواتین کے جِلد کی حفاظت کرتی ہیں، وہیں خوراک کے معاملے میں غفلت کسی بڑے عارضے میں جکڑ سکتی ہے۔ ذیل میں وہ غذائیں بتائی جارہی ہیں،جن کے اجزا جِلد کیلئے فائدہ مند ہیں۔ روغنی مچھلی:سامن، سر مئی اور خار ماہی مچھلی صحت مند جِلد کے لیے بہترین خوراک ہیں۔ یہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے ما

تازہ ترین