عورتوں کے ساتھ انصاف کیجئے!

کسی بزرگ،کسی جہاں دیدہ انسان کا قول ہے:''معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے،لیکن نا انصافی کی بنیاد پرنہیں''۔ آیا معاشرہ کفر پر بھی قائم رہ سکتا ہے،یہ بات میرے لیے باعث صد حیرت ہے، لیکن فی الوقت میں اس پر کسی طرح کی حیرت کا اظہار کرنے یا کسی طرح کی بحث وہث کرنے سے سراسر گریز کرتے ہوئے اس امر پر اپنا پورا زور صرف کرنے کی کوشس کررہا ہوں کہ ''معاشرہ عدمِ انصاف کی صورت میں پوری توانائی یا سات صحت مندی کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا ہے''۔ انصاف بہرصورت ناگزیر ہے،خواہ معاملہ تولنے اور ناپنے کا ہو، تقسیم وراثت کا ہو یا انسانی حقوق و مساوات کا ہو۔ بات جب عورتوں کے حق حقوق اور ان کے ساتھ جملہ معاملے میں انصاف کی ہوتی ہے،توصحیح معنوں میں انصاف کی بات یہ ہے کہ سب سے پہلے انہیں آدم و حوا کی اولاد سمجھا جائے۔یعنی انہیں بھی ''انسان'' سمجھا جائے۔بے ش

دوشیزہ ٔ ابر ۔۔۔۔ …قسط دوم

کینیڈا کے قدرتی حسن سے ہمیں اپنی وادی کے قدرتی حسن سے مشابہت نظر آنا فطری تھا۔  خزاں کی آمدآمد تھی۔ باغوں کے اندر قطاروں میں لگے، چناروں سے مشابہ، (Maple) درخت اور آڑی چھتیں، جاتی ہوئی خزاں میں رنگ بدلتے ہوئے پتے اور زردی مائل سی ہری گھاس تھی۔ چالیس پچاس برس اُدھر، کشمیر میں مٹی کی چھتیں بھی ہوا کرتی تھیں۔ ان کے اندر بھوج پتر بچھائے جاتے تاکہ پانی نہ رسے۔ ان پر پھول بوئے جاتے تھے جن میں زیادہ تر گل لالہ ہوتا، سرخ رنگ لالہ اور کبھی زرد بھی۔ دیہات میں کہیں کہیں دھان کی خشک گھاس کو اب بھی چھتوں میں استعمال کیا جاتا ۔گاہے گاہے گھاس بدلی جاتی۔چمکیلی سنہری گھاس پر سے برف کے تودے پھسل پھسل کر زمین پر آگرتے ہیں ۔ کمروں میں کہیں نمی ر سنے کا کوئی ایسا خدشہ بھی نہیں ہوتا اور یہ ٹین کی چھتوں کی ہی طرح محفوظ معلوم ہوتی ہیں ۔کس قدر آسان اور صحت مند طریقہ تھا۔ فطرت کا اس میں کوئی نقصان نہ

اسلام میں عورت کا مقام

 مغربی تہذیب نے عورت کی آزادی کے نام پر عورت کو بے وقعت و بے وقار بناکر رکھ دیا ہے، آج مغربی خواتین جسم و خیال کی آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی بے حیثیت اور مردوں کے لیے استعمال کا سامان بن کر رہ گئی ہیں، جو مغربی خواتین کل تک اسلام کے عورتوں کے متعلق احکام پر اعتراض اٹھایا کرتی تھیں، آج وہی اسلام کے اصول و قوانین سے اتفاق کرنے پر مجبور ہیں، مغربی دنیا میں عورتوں کے برہنہ پن، آزاد خیالی اور ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کے نعروں نے باعزت خواتین کو نہ گھر کا چھوڑا ہے نہ گھاٹ کا، آپ ان کے کلچر کو قریب سے دیکھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ آزاد جسموں کی دنیا میں روحیں کس قدر پریشان ہیں، ماں اور بیٹے کی تمیز، باپ اور بیٹی کی تمیز، بہن اور بھائی کی تمیز، بھتیجے اور پھوپھی کی تمیز، خالہ اور بھانجے کی تمیز اکثر گھرانوں سے مفقود ہوچکی ہے، وہ آزاد عورت ہر کسی کی جائز محبت او

اسلام میں بیوی اورشوہر کے حقوق

 آج ہمارا معاشرہ جہاں دیگر فساد ساز برائیوں میں مبتلا ہے وہیں ایک بڑی برائی شوہر اور بیوی کے حقوق کی ادائیگی میں کمی ہے، یہ ایسا معاملہ ہے جس میں کمی کی وجہ سے گھرکا ماحول درد سر بن کر رہ جاتا ہے، بیوی شوہر کے حقوق میں کمی کرے یا شوہر بیوی کے حقوق ادا نہ کرے تو گھر کا سکون غارت ہوجاتا ہے، پہلے ایک دوسرے کی محبت میں کمی پیدا ہوتی ہے اور پھر بات بڑھتے بڑھتے خلع یا طلاق تک معاملہ پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے اسلام نے سب کے حقوق مقرر کردیے ہیں کہ ہر کوئی اگر ایک دوسرے کا حق برابر ادا کرتا رہے تو زندگی سکون سے گزرتی ہے، اسلام نے جہاں شوہر پر بیوی کے حقوق واجب کیے ہیں وہیں بیوی پر بھی شوہر کے حقوق کی ادائیگی کو لازم قرار دیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ شوہر کے بیوی پر اور بیوی کے شوہر پر کیا حقوق ہیں۔ شوہر پر بیوی کے حقوق: (۱) مہر کی ادائیگی۔ نکاح کے وقت جو مہر طے کیا جاتا ہے شوہر کے ذمہ ضروری

بیٹی نعمت ہے ،زحمت نہ سمجھیں

کہانی مختصر یہ ہے کہ ایک خاص منصوبے کے تحت صد احترام ’خالق کائنات‘ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تھا۔ پھر جناب آدم کے انش سے جناب بی بی حوا کی تخلیق فرمائی۔پھر ان دونوں یعنی حوا اور آدم کو ایک دوسرے کی اہم ترین ضرورت بناکراس غیر آباد دنیا کے سپرد دیا۔دونوں میاں بیوی ہنسی خوشی اپنے رب کی منشا کے مطابق ایک ساتھ رہنے لگے۔دنیا آباد ہوگئی اوراس طرح سے ان دونوں بزرگ وار کی بطور میاں بیوی باہم رفاقت سے دنیا کے مختلف حصوں میں ان کی نسلیں 'نسل انسانی' کے طور پر پھلنے پھولنے لگیں۔  لیکن جناب کہانی کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ان دونوں میاں و بیوی کے وجود سے پروان چڑھنے والی نسلیں یعنی 'ہم' اور 'آپ' ''مرد'' اور''عورت'' میں تقسیم ہوکرگئے۔ بظاہرجسمانی تفریق جو درحقیقت دونوں (مرد اور عورت) کے درمیان قدرت کی جان

عورت …اقبالؒ کی نظر میں

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ علامہ اقبال ایک مفکر اور مصلح قوم تھے۔وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ بنی نوع انسان کی تاریخ میں ایک صالح معاشرے کی تعمیر و تشکیل اور اس کے ارتقاء کے ضمن میں خواتین نے ہمیشہ ایک مثبت کردار ادا کیا ہے۔  اقبال چونکہ اسلامی شعائر، تہذیب اور تعلیمات کے پروردہ، شیدائی و ہمنوا تھے اور اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ اللہ تعالیٰ کے قوانین کے مطابق عورت اور مرد خاندانی اکائی کے ایسے پہیے جن کے بغیر زندگی کی گاڑی نہیں چل سکتی۔ علامہ اقبال نے جب ہوش سنبھالا تب مغربیت، مشرقیت پر حاوی ہو رہی تھی اور ایک ایسی تہذیب وجود میں آ رہی تھی جس اخلاقی قدریں معدوم ہو رہی تھیں۔ اس زمانے کے شاعر و ادیب بھی اپنی شاعری و ادب میں سارا زور عورتوں کے خد وخال کو اجاگر کرنے پر صرف کر کے ایک نئی بنیاد قائم کرنے میں لگے ہوئے تھے۔لیکن جب اقبال جیسا حساس شاعر اس جانب متوجہ ہوتا ہے تو بے

شادی بیاہ میں خرافات کیوں؟

وادیٔ کشمیر جہاں پہلے ہی نامساعد حالات اور سیاسی بے چینی سے دوچار ہے وہیں دوسری جانب سماج میں پنپ رہی نِت نئی رسومات ایک نیا دردِ سر بن رہی ہیں۔ہمارا معاشرہ اس قدر بے جا رسومات میں دھنس چکا ہے کہ اب اُن سے باہر نکلنا محال لگتا ہے۔خوشی سے لے کر غمی اور پیدائش سے لے کر موت تک ہمارا ہراہم عمل رسومات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔نتیجے کے طور پر سماج میں اس قدر برائیاں پنپ رہی ہیںجن کا تصور بھی ماضیٔ قریب میں رونگٹے کھڑا کردیتا تھا۔شادی بیاہ کو ہی لے لیجیے،ہم نے اس مقدس اور پاک رشتے کو اس قدر رسومات کہ نذر کردیا ہے کہ آج نکاح انتہائی مشکل اور بدفعلی نہایت آسان بن چکی ہے۔دیگر عوامل کی طرح دینِ اسلام نے نکاح میں بھی آسانی رکھی ہے لیکن ہماری کج عقلی کہ ہم نے اس آسانی کو اس قدر پیچیدہ بنا لیا کہ اب ایک انسان کی جوانی کا سورج بھی غروب ہوجاتا ہے لیکن نکاح اُس کا خواب بن کرہی رہ جاتا ہے۔ کسی ایک ف

حضرت فضہؓ

معمولی واقعہ مگر غیر معمولی درس:علامہ مجلسی اور شیخ صدوق نے جناب سلمانِ فارسی سے نقل شدہ ایک روایت کتب ِ احادیث میں رقم کی ہے جس کے مطابق رسولِ اکرمؐ کو امیرالمومنین اور لختِ جگر حضرت زہراؑ اور حسنین ؑنے یکے بعد دیگرے دعوت کی۔ اور حضرتِ رسولِ اکرم ان حضرات کی دعوت قبول کرتے ہوئے مسلسل چند ایک روزخانہ زہراء ؑ تشریف لے گئے۔ آخری روز کھانا کھانے کے بعد جب آنحضرتؐخانہ ٔ فاطمہ ؑسے روانہ ہونے لگے تو دیوڑھی پر حضرتِ فضہ ؓنے عاجزانہ لہجے میں عرض کیا کہ کل یہ کنیز شہنشاہِ رسالت ؐکو دعوت پہ بلاتی ہے ،امید ہے کہ تشریف لاکر عزت افزائی فرمائیں گے۔ رسولِ رحمت ؐنے بخوشی دعوت قبول فرمائی۔ اگلے روز مقررہ وقت پر جب حضورِ اکرمؐ جناب فاطمہؑ کے گھر میں وارد ہوئے تو سب نے آکر استقبال کیا۔ مگر آپ کی بغیر اطلاع اور اچانک تشریف آوری کا سبب جب اہلبیت اطہارؑ نے دریافت کی توفرمایا آج ہم فضہ ؓکے مہمان ہیں۔

وجود ِزن سےہے تصویرکائنات میں رنگ

 آج سویرے جب فون ہاتھ میں لیا اور حسب معمول فیس بک کھولا۔ بی بی سی نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک مغربی سفید فام خاتون اور فحش فلموں کی مشہور ڈائریکٹر porn ویب سائٹس کو ہینڈل کر کے زناہ کو کس قدر فروغ دے رہی ہے۔ اس خاتون کا ماننا ہے کہ یہ دنیا صرف جنسی لذت کے لیے ہی بنائی گئی  ہے اور وہ جنسی آوارگیوں کو عام کرنا چاہتی ہے۔ اسی طریقے کی ہزاروں بلکہ لاکھوں اور کروڑوں کوششیں ہورہی ہیں جن سے سماجی برائیوں جیسے شراب نوشی،زناہ، اختلاط مرد و زن اور بھی کئی ساری بدکاریوں کو تقویت ملتی ہے۔  دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی۔ سمندر کی تہہ سے لیکر آسمان کی بلندیوں کو چھو لینے والا انسان ہی تو ہے۔ ایک آدھ صدی پہلے کس نے سوچا تھا کہ میں آسمانی راستوں کے ذریعے ساری دنیا کا سفر بہت ہی مختصر مدت میں انجام دے سکوں۔ کس نے سوچا تھا کہ میں لاکھوں میل دور اپن

دورِ جدید کی ساسیں

ماضی میں ہرساس کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کی بہو گھریلو کام کاج پر زور دے لیکن بدلتے دور اور نت نئی ٹیکنالوجیز نے جہاں عوام کی زندگی آسان کی ہے، وہیں ساسوں کے رویے اور سوچ میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ آج کی ساس اپنی بہو پر نکتہ چینی کرنے کے بجائے اسے سپورٹ کرتی نظر آتی ہے اور ہر معاملے میں اس کا ساتھ دینے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔ شاپنگ کے لیے جائیںیا پارلر، معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی آتی ہے کہ ساس اور بہو ہر جگہ ایک ساتھ ہوتی ہیں اور وہ بھی خوش باش یعنی ایک سیٹ پربہو تو دوسری سیٹ پر ساس بیٹھی نظر آتی ہے۔ بدلتے وقت نے ساس بہو جیسے رشتے کو بھی تبدیل کردیا ہے۔ آج کی ساس پہلے کی نسبت پڑھی لکھی اور سمجھدار ہے، وہ بہتر طریقے سے زندگی گزارنے کے ہر گْر سے واقف ہے۔ آج کی سلجھی ہوئی ساس اس بات پر جلتی کڑھتی نہیں کہ بہو بیٹے کے کتنے پیسے خرچ کروارہی ہے یا گھر کو وقت نہیں دے رہی وغیرہ وغیرہ۔ ماض

ابن ِ آدم کا شکار بنت ِ حوا

مرد وخواتین ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیںاور دونوںکے وجود کا ایکدوسرے کے بغیر تصور بھی نہیں کیاجاسکتا لیکن ’پدرانہ ذہنیت ‘رکھنے والے ہمارے معاشرے کے اندر عصر ِ حاضر میں بھی صنف ِ نازک خود کو محفوظ تصور نہیں کر رہی۔آج بھی بنت ِ حوامتعدد اقسام کے تشدد کاشکار ہے۔ پچھلے چند برسوں سے ہرسال انڈیا میں کوئی نہ کوئی تشدد کا معاملہ میڈیا کے ذریعے زیادہ منظر ِ عام پر آتا ہے لیکن سرکاری اعدادوشمار اور کئی غیر سرکاری انسانی حقوق تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے تیار کردہ رپورٹوں میں انڈیا سے متعلق جوانکشاف کئے گئے ہیں وہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔یہ کہاجارہا ہے وہ ملک جہاں پر بیٹیوں کی پوجاکی جاتی ہے، وہ اُن کے لئے محفوظ نہیں۔ ان دنوں ملک بھر میں ریاست اُترپردیش کے گاؤں ہاتھرس میں اجتماعی عصمت دری اورقتل کا معاملہ موضوع ِ بحث ہے۔ اس سے قبل سال 2019کوریاست تلنگانہ میں میں لیڈی ڈاک

رعنا ایوب …عزم و ہمت کا عملی پیکر

ایک دور تھا جب صحافی سماج کا آئینہ دار ہوا کرتا تھا ،قلم آزاد ہوا کرتا تھا، سچ کو سچ لکھا جاتا تھا اورجھوٹ کو جھوٹ ،حق ببانگ دہل بیان کیا جاتا تھا،مظلوموں کو انصاف دلانے والے زیر عتاب نہیں لائے جاتے تھے۔اُس دور کاصحافی دیدہ زیب لباس نہیں پہنتا تھا ، بڑی گاڑیوں میں نہیں چلتا تھا؛ لیکن ایک زندہ دل رکھتا تھا، ایک جگر رکھتا تھا۔تنخواہیں کم ہوتی تھیں لیکن صفت بے نیازی و غنی سے متصف ہوتا تھا۔ حاکم وقت کے کھنکتے سکوں کا اسیر نہیں تھا۔صحافت ایک پیشے سے زیادہ جنون تھی۔ اب وہ دن تقریباً ہوا ہوگئے۔ صحافت اب میڈیا سے میڈیا ہائوسز میں تبدیل ہوگئی۔ ایک نفع بخش تجارت بن چکی ہے۔ آج کی صحافت عوام کی آواز نہیں چڑھتے سورج کی پجارن ہے۔ برسر اقتدار جماعت کے کوٹھے کی رقاصہ ہے۔ پونجی پتیوں اور ساہوکاروں کی داشتہ ہے۔ اسے مطلب ہے تو صرف اپنے بزنس سے، چاہے اس کے لیے ملک و قوم کو سولی پے ٹانگنا پڑے، چاہے اس

حضرت فضہؓ

 حضرت بلالؓ اور حضرت فضہؓ کامرزبوم بردہ فروشی کیلئے بہت ہی مشہور تھا۔ اس ملک یعنی حبشہ کے انسانی وسائل (Human Resources)  کا عمومی مصرف بردہ فروشی تھا۔انسانی تاریخ میں غلامی کی ثقافت کو جو فروغ ملا، اس میں یہ افریقی ملک یعنی ایتھوپیا مرکزی حیثیت کا حامل رہا ہے۔ معاشی طور پر قدرے مستحکم اقوام وممالک زنجبار(جو حبشہ کا ایک اور نام ہے)کو سیاہ فام غلاموں کی کان سمجھتے تھے۔ یہاں سستے داموں قوی ہیکل اور سخت کوش غلام میسر ہوا کرتے تھے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قبل ِاسلام عرب معاشرے کا مستکبرانہ اجتماعی مزاج غریب ترین اور مستضعف ترین خطہ زمین سے تعلق رکھنے والے افراد کو کس نظر سے دیکھتاہوگا۔ اس لحاظ سے دور جہالت میں ہر دو افراد(حضرت فضہ ؓ اور حضرت بلالؓ )کا مقدر صرف اور صرف پیوند زمین ہونا قرار پاتا۔ مگر اسلام کی غلام پروری اور غریب نوازی نے انہیں انسانی تقدس کے ایسے خلع

شوہر اور بیوی

انسان ہمیشہ اور ہر دور میں اصول اور قوانین کی زنجیروں سے جکڑکر ہی انسانیت سے ہمکنار رہا ہے۔ اگر اسے ہر معاملے میں آزاد چھوڑ دیا جاتا تو ہر سماج میں ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘کا قانون نافذ ہوتا۔ یہ دْنیا ایک جنگل کی صورت میں تبدیل ہوجاتی۔ جس میں طاقتور بلا پوچھے کمزور کونگل لیتا۔ انسانی خواہشات کے ہاتھوں کھلونا بن جاتا۔ پس انسانی زندگی کے ہر شعبے میں کچھ اصول و ضوابط مقرر ہوئے جن کو نظر انداز کرنا نہ صرف کسی بھی فرد کی زندگی کا توازن بگاڑ دیتاہے۔بلکہ سماجی سطح پر اصول و اقدار کی خلاف ورزی کے اثرات ظاہر ہو ہی جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جنسی احتیاج کے لئے ازدواجی قانون بنا ہے، اس قانون کی مخالفت جنسی بے راہ روی اور نظامِ قدرت کے خلاف جنگ پر محمول سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ جنسی ضرورتوں کو پورا کرنے کے واسطے اگر قانون ازدواج نہ ہوتا تو کیا نظام دنیا میں خلل

عارفہ خانم شیروانی

 غیر جانبداری اور عدم طرفداری صحافت کا سب سے اہم اور بنیادی اصول ہے۔صحافت صرف خبر رسانی کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ رائے عامہ ہموار کرنے کا اہم ترین وسیلہ ہے۔صحافت عوام اور حکومتی مشینری کے درمیان پل کا کام کرتی ہے۔صحافت عوام کی آواز بن کر حکومت سے سوال کرتی ہے اور عوام کی آوازحکومت کے گوش گزار کرتی ہے۔صحافت نے ہردور میں ظلم و جبرکے خلاف آوازبلند کرنے میں نمایاںکرداراداکیا۔جمہوریت کے اس چوتھے ستون کی اہمیت کو اجاگرکرتے ہوئے اکبرالہ آبادی نے کہا تھا  ؎ کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو  دنیا میں ہر چیزکے اندر مثبت و منفی دونوں طرح کی خصوصیت ہوتی ہے۔ کسی بھی چیز کے فائدے اورنقصان کی ذمے داری اس کے استعمال کرنے والوں پرعائد ہوتی ہے۔ کچھ یہی حال صحافت کا بھی ہے۔ صحافت ایک مقدس پیشہ ضرور ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے کس طرح استعمال کیا

بنت ِحوا کی قبا چاک

اگر انسانی معاشرے کو ایک گاڑی سے تشبیہ دی جائے تو مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں ۔معاشرتی استحکام کے لئے لازم ہے کہ گاڑی کے دونوں پہیوں میں توازن ہو اور دونوں کے حقوق و فرائض کا یکساں تحفظ ہو ورنہ یہ معاشرہ شدید بگاڑ کا شکار ہوگا اور اپنی منزل تک نہیں پہنچ پائے گا ۔ فطرتی بنیادوں پر عورت کو اپنی منفرد خواص کے باعث نوع انسانی میں نمایاں احترام اور مقام و حیثیت حاصل ہے۔ عورت کو جہاں ماں،بہن ،بیٹی،بیوی کی صورت میں عزت اور اعلی مقام دیا جاتا ہے وہیں عورت کو معاشرے میں شدید ظلم و جبر اور جنسی تشدد سمیت دیگر کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔خواتین کے ساتھ زیادتیاں مختلف طریقہ سے ان کا استحصال ان کی عفت و عصمت کو تار تار کرنے کے واقعات وغیرہ ہر صبح اخبارات کی زینت ہوتے ہیں ۔کسی بھی زبان کا کوئی بھی اخبار ہو یا کسی بھی علاقہ ،ضلع اور ریاست سے نکلنے والا اخبار وہاں کی مقامی

بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت

بیٹیاں سب کو مقدر میں کہاں ہوتی ہیں گھر جو خدا کو پسند ہو وہاں ہوتی ہیں اسلام میں بیٹیوں کو بہت اہمیت حاصل ہے۔بیٹیاںجہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہیں وہیں والدین کیلئے جہنم سے نجات کا باعث اور جنت کے حصول کا ذریعہ بھی ہوتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت و بادشاہت صرف اللہ ہی کیلئے ہے وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے گو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے جس کیلئے جو مناسب سمجھتا ہے وہ اس کو عطا فرما دیتا ہے(سورۃ شوریٰ) ۔اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایسا نظام قائم کیا ہے کہ مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔نہ ہی مرد عورت کے بغیر مکمل ہے اور نہ ہی عورت مرد کے بغیر کامل ہے۔ یعن

چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فُغاں میری

پورے ملک میں 27ستمبر کو یومِ دختران کے طور منا یاگیا۔اس حوالے سے مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں مقررین لچھے دار تقریریں کرتے ہیں اور پھر نشستند،گفتند اور برخواستند۔یومِ دختران کے نام پر معصوم کلیوں کی اہمیت اور عظمت پر زور دیا جاتا ہے،لڑکیوں کی تعلیم و تر بیت کے حوالے سے بہتر ماحول فراہم کرانے کی وکالت کی جاتی ہے،جنسی زیادتوں کا قلع قمع کرانے کی سفارش کی جاتی ہے اور جنسی تفاوت کی روک تھام کے لئے لوگوں میں بیداری مہم شروع کرانے کی اپیلیں بھی کی جاتی ہے۔ گویا یہ سلسلہ گزشتہ کئی برسو ںسے ایسے ہی چلتا آرہا ہے جسکے نتیجے میں چند خو بصورت عنوانات تر تیب دے کر لڑکیوں کی تعلیم و تر بیت کے لئے چند خوبصورت اصطلا حات معرض وجود میں لاکر یوم دختران کا بستر گول کیا جاتا ہے۔کروڑوں روپیہ خرچ کرنے کے باوجود بھی بیچاری یہ دختر مظلومیت کے قید خانے میں سسک رہی ہے۔ ملکی حالات پر نظر دوڑائیں تومعل

گھر کی صفائی بھی، ڈپریشن میں کمی بھی!

  میری کونڈو ’ڈی کلٹرنگ‘ کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ وہ گھر کی تمام اشیا کو نظم و ضبط سے رکھنے اورفالتوسامان کو ٹھکانے لگانے کے لیے بہترین مشورے دینے کی وجہ سے ہردلعزیز ہیں۔ میری کونڈو صرف گھر کی صفائی، نظم وضبط یا ڈی کلٹرنگ کو ہی فروغ نہیں دیتیں بلکہ وہ جذباتی نکتہ نگاہ سے بھی خواتین کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں رہتی ہیں۔ جاپان کی اس مشہور مصنفہ کی ڈی کلٹرنگ کے حوالے سے انسٹاگرام فیڈز سے سبھی مستفید ہوتے ہیں۔  شاید یہی وجہ ہے کہ صفائی کی اہمیت کے حوالے سے انسٹاگرام پرکلینز اسپو(cleanspo)کے نام سے ایک مہم بھی دیکھنے میں آئی، جس میں خواتین نے اپنے گھر وںمیں کی جانے والی صفائی، فالتو سامان کو ٹھکانے لگانے اور ڈی کلٹرنگ کے حوالے سے اپنے تجربات تصاویر کے ساتھ شیئر کیے۔ ’’ٹائڈنگ اَپ وِد میری کونڈو‘‘ کے نا م سے نیٹ فلکس پر شوکرنے

غالب کاسُخن اور وجودِزن

 دنیا میں ہر بڑے شاعر اور ہر بڑے فلسفی کا اپنا ندازِبیاں اور اسلوب ہوتاہے، پر مرزا غالبؔ جیسا اندازِ بیاں رکھنے والا سخنور نہ کبھی پیدا ہوا اورشاید نہ کبھی ہوگا۔ مولانا حالیؔ نے مرزا کو بہت قریب سے دیکھاتھا، وہ لکھتے ہیں کہ غالب بہت وسیع اخلاق کے مالک تھے، جو شخص بھی ان سے ملنے جاتا وہ اس سے بہت خندہ پیشانی سے ملتے اور جو شخص ایک بار ان سے مل لیتا تو اسے ہمیشہ مرزا سے ملنے کا اشتیاق رہتا تھا۔ دوستوں کو دیکھ کر وہ باغ باغ ہو جاتے تھے۔ ان کی خوشی میں خوش اور ان کے غم میں غمگین ہو جاتے تھے۔ اس لیے ان کے دوست ہر ملت و مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ اس مضمون میں ہم نے غالب کی اس شاعری کی جستجو کی جو انہوں نے صنف ِ نازک کیلئے کی ہے۔ دراصل ان کے داخلی اور خارجی معاملات اس قدر دگرگوں تھے، اس لیے اپنے محبوب کیلئے بھی انہوں نے اپنی ذات کے حوالے سے سخن طرازی کی اور ایسے انداز بیاں سے کی کہ ہمیں

تازہ ترین