کشمیری عوام اور پے در پے آفات

اسے بدقسمتی کہئے گا یا پھر کچھ اور ،لیکن سرمنڈاتے ہی اولے پڑگئے کے مصداق کشمیریوں کے ساتھ اب یہ تقریباً معمول بن چکا ہے کہ اُن کی دہلیز پر جب بھی کوئی اچھی خبر دستک دینے پہنچ جاتی ہے تو بری خبروں کا ایک ایسا طوفان امڈ آتا ہے کہ یہ اس چھوٹی سی اچھی خبر کو کچھ اس طرح اپنی لہروں میں گم کردیتی ہے جیسے اس خبر کا جنم ہی نہ ہوا ہو۔سالہاسال سے ابھی یہی سلسلہ چل رہا ہے ۔خوشگوار ہوا کے جھونکوںکی طرح کبھی کبھار کانوںمیں رَس گھولنے والی خبر اگر آبھی جاتی ہے لیکن ابھی اس خبر پر خوشیاںمنانے کی نوبت ہی نہیں آتی کہ پھر مصیبتوںکا ایک پہاڑ ہم پر ٹوٹ پڑتا ہے ۔لوگ اس دردناک سلسلے کو کچھ بھی نام دے سکتے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار کی چنداںگنجائش نہیں کہ بری خبروں اور ہیبت ناک پیش رفتوں کے اس نہ ٹوٹنے والے سلسلہ نے اب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور کافی حد تک اب لوگوںکی ہمت بھی جواب دے چکی ہے کیونکہ وہ

وزیر دفاع کی لب کُشائی…کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے!

یہ امر اطمینان بخش ہے کہ بالآخر مرکزی حکومت نے چین کے ساتھ جاریہ سرحدی کشیدگی پر لب کشائی کی ہے ۔گوکہ یہ کشیدگی گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہے اور اس دوران مختلف نوعیت کے ویڈیوز بھی سوشل میڈیا کی وساطت سے منظر عام پر آئے تاہم مرکزی اکابرین نے اس سنگین معاملے کو لیکر جس طرح خاموشی کا روزہ رکھنے کی جیسے قسم کھائی تھی ،اُس سے خدشات کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی چلے جارہے تھے اور مختلف لوگ مختلف قسم کی باتیں کررہے تھے ۔اب جبکہ صحیح جگہ اور صحیح شخص کی جانب سے وضاحتی بیان سامنے آیا تو امید کی جاسکتی ہے کہ قیاس آرائیوں کا سلسلہ اب بند ہوجائے گا۔وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اعتراف کیا کہ چینی فوجیوں کی اچھی خاصی تعداد مشرقی لداخ میں داخل ہوچکی ہے جس کے بعد بھارت نے بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے ہیں۔وزیر دفاع کہتے ہیں کہ اس علاقہ میں سرحدوں کو لیکر تنازعہ ہے ۔چین کا دعویٰ ہے کہ وہ ا

حاملہ خواتین کا کورونا ٹیسٹ ! | ذرا سی تکلیف برداشت کریں،آپ کی سلامتی ہم سب کو پیاری

کشمیر عظمیٰ کے گزشتہ شمارے میں کورونا وائرس سے متاثرہ حاملہ خواتین پر جو تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی، وہ حکام سمیت ہم سب کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے ۔رپورٹ میں جس طرح حکومتی اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ 16مئی سے اب تک پندرہ دنوں میں 52حاملہ خواتین کو کورونا وائرس سے متاثر ہ پایاگیا،وہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے تاہم یہ امر اطمینان بخش ہے کہ جب یہ سبھی حاملہ خواتین زچگی کے عمل سے گزریں ،تو ان کے نوزائیدہ بچوں کو کورونا سے پاک پایا گیا۔یہ نظام الٰہی ہی ہے کہ ماں وائرس سے متاثرہ ہے لیکن اس کے بطن میں پل رہا بچہ اس سے محفوظ رہا۔ مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم اس رجحان کو سرسری لیں ۔یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ اس کے ساتھ نہ صرف  زچہ و بچہ کی زندگی جڑی ہوئی ہے بلکہ پہلے اُن گھرانوں کی سلامتی بھی وابستہ ہے جن میں حاملہ خواتین موجود ہیں۔اس کے بعد وہ سبھی ہسپتال بھی خطرات سے دوچار

سکو ل کھولنے کی تیاریاں

محکمہ تعلیم کی جانب جموں اور کشمیر کے ناظم تعلیمات کے نا م جو تازہ فرمان جاری کیاگیا ہے ،اُس سے تو یہی لگتا ہے کہ حکومت نے سکول کھولنے کا من بنالیاہے اور عین ممکن ہے کہ جون کے وسط سے سکول کھولے جائیں۔سرکاری حکم نامہ میںسکولوں کے جن انتظامات کا ذکر کیاگیا ہے ،ان میں دوبارہ قابل استعمال دو فیس ماسک ،دستانے طالب علموں میں تقسیم کرنے کے علاوہ سینیٹائزر اور رقیق صابن دستیاب رکھنے کا کہاگیا ہے تاہم سکولوں سے کہاجائے گا کہ وہ ان چیزوں کا انتظام سمگرا کے مد میں دستیاب رقوم سے کریں ۔حکومتی فیصلہ قابل تحسین ہے تاہم اس کے تمام پہلوئوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔مرکزی حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ جون میں سکول کھولنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔اگر مرکزی حکومت ایسا من بناچکی ہے تو یقینی طور پر اس کے پیچھے کوئی منطق ہوگی ۔ایک ایسے وقت جب کورونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں روزانہ تشویشناک حد تک اضافہ ہور ہا

! کورورنا لاک ڈائون | تالااس طرح بھی نہ کُھلے کہ سب بھید کُھل جائیں

کورونا وائرس کی وجہ سے ملکی سطح پر مرکزی حکومت کی جانب سے اگر چہ لاک ڈائون کے پانچویں مرحلہ کااعلان کیاگیا تاہم عملی طورلاک ڈائون کا یہ مرحلہ صرف ریڈزون علاقوں تک ہی محدود رہے گا کیونکہ مرحلہ وار بنیادوں پر ریڈ زون سے باہر علاقوں میں معمولات زندگی بحال ہوتے رہیں گے ۔دراصل ایک ماہ طویل پانچویں مرحلہ کے اس لاک ڈائون میں ملک کو کھولنے کے چار مرحلوں کا اعلان ہوا ہے اورہفتہ وار بنیادوں پر زندگی کے مختلف شعبے بحال ہونگے ۔حکومتی اعلان کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے کیونکہ ایسا کرنا بھی اب مجبوری بن چکی تھی ۔ملک کم وبیش گزشتہ70دنوں سے مسلسل بند تھا ،زندگی کی گاڑی کا پہیہ جام ہوچکاتھا اور روزگار کے سارے وسائل ختم ہوچکے تھے ۔ظاہر ہے کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت اس طرز کے طویل ترین لاک ڈائو ن کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں معیشت کا جنازہ نکل سکتا ہے ۔گوکہ مرکزی حکومت تاحال یہ تاثر دے رہی

عارضی خود انحصاری کو دائمی بنانے کی ضرورت!

ہر شر میں خیر کا پہلو پنہاں ہوتا ہے ۔کورونا وائرس کی عالمگیر وباء نے بے شک پوری دنیا میں تباہی مچائی ہوئی ہے تاہم عالمی تباہی کے اس جائز مباحثہ میں اُن مثبت تبدیلیوںپر کوئی بات نہیں ہورہی ہے جو اس آفت کی وجہ سے وقوع پذیر ہوئیں۔ہمارے جموںوکشمیر میں بھی اس وباء کی وجہ سے کئی ایسی تبدیلیاں واقع ہوئیں جو کم و بیش اُن تبدیلیوں سے مماثلت رکھتی ہیں جو عالمی سطح پر رونما ہوئیں، جن میں سے بیشتر کا تعلق معاشرہ ،تعلیم و ٹیکنالوجی اور ماحولیات سے ہے تاہم یہاں ایک اور خوشگوار تبدیلی بھی واقع ہوئی جس پر بات کرنے کی ضرورت ہے اور اس کو اُجاگر کیا جانا اہم ہے تاکہ اس کو معمول بنایا جاسکے ۔اس تبدیلی کا تعلق خودانحصاری سے ہے ۔پوری دنیا کی طرح جب ہمارے ملک کے ہر حصہ میں کورونا وباء کی وجہ سے مہاجرمزدوروں نے اپنی گھروںکی راہ لی تو ہر جگہ کامگار طبقہ کی قلت شدت سے محسوس کی جانے لگی ۔گزشتہ روز قومی میڈیا می

مشاورت نعمت ،عجلت پسندی عیب ہے

یہ امر اطمینان بخش ہے کہ بالآخر مرکزی حکومت نے جموںوکشمیرمیں مرکزی انتظامی ٹریبونل کے قیام کو منظوری دے دی ہے اور اس ضمن میں جمعرات کو باضابطہ طور مرکزی وزارت برائے پرسنل و ٹرایننگ کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیاگیا ہے ۔گوکہ اس نئے بینچ کو جموں بینچ کا نام دیاگیا ہے تاہم یہ جموں اور سرینگر سے کام کرے گا اور جموںوکشمیر کے علاوہ لداخ یونین ٹریٹری کے ملازمین کے معاملات کی سماعت کرے گاجبکہ بنچ ممبران کی تعداد کا تعین ٹریبونل کے چیئرمین خود کریںگے ۔ اس سے قبل جب مرکزی حکومت کی جانب سے جموںوکشمیر اور لداخ کے سرکاری ملازمین کے معاملات چندی گڑھ میں قائم مرکزی انتظامی ٹریبونل کو منتقل کرنے کے احکامات صادر کئے گئے تھے تو اس پر دونوںمرکزی زیر انتظام علاقوں میں شدید برہمی کا اظہار کیاگیاتھااور نہ صرف ملازمین طبقہ بلکہ سیول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوںنے بھی پارٹی لائنوںسے بالاتر ہوکر اس فیصلہ

کورونا مخالف جنگ

یہ امر اطمینان بخش ہے کہ پولیس نے بدھ کے روز وادی کے یمین و یسار میں کورونا کی عالمگیر وباء کے خلاف جنگ میں صف اول کے سپاہیوں کا کردار ادا کرنے والے طبی و نیم طبی عملہ سے وابستہ اہلکاروں کا جگہ جگہ پھولوں اور مٹھائیوں سے استقبال کرکے در اصل اُس غلطی کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جو گزشتہ کئی روز سے پولیس عملہ سے ہورہی تھیںاور جس کی وجہ سے پولیس محکمہ کو بحیثیت مجموعی انتہائی شرمندگی سے دوچار ہونا پڑا۔بدھ کو چہار سُو اس حوالے سے جو مناظر دیکھنے کو ملے ،وہ یقینی طور پرنہ صرف خوشگوار تھے بلکہ اُن لوگوں کی خدمات کا اعتراف تھا جو انتہائی کٹھن حالات میں بھی اپنی جان جوکھم میں ڈالتے ہوئے اس وباء سے نبرد آزما ہیں۔ اس بات سے قطعی انکار نہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی فی الوقت کسی پُر سکون صورتحال میں نہیں ہیں اور انہیں بھی کورونا جنگ کی وجہ سے بے پناہ ذہنی و جسمانی ازیت سے گزرنا پڑرہا ہے

معیشت اور عوامی صحت…توازن برقرار رکھیں

کورونا وائرس کے پھیلائو میں فی الحال بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور مستقبل قریب میں اس وباء سے خلاصی کی کوئی اُمید نظر نہیں آرہی ہے ۔گوکہ اس بات سے انکار نہیں کیاجاسکتا ہے کہ دنیا بھر کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک اور جموںوکشمیر میں بھی حکومتی سطح پر اس وباء سے نمٹنے کی کوششیں جاری رہیں تاہم فی الحال نتائج کوئی اطمینان بخش نہیں ہیں۔اب تو یہ بات تقریباً طے ہوچکی ہے کہ اس وائرس کا ویکسین تیار ہونے میں اگر جلدی بھی ہوئی تو اس سال کے اختتام سے قبل نہیں آئے گاجبکہ دوسری جانب انسانی جسم میں وبائی عفونت کی تشخیص کیلئے جو انٹی باڈی ٹیسٹ کٹس منگوائے گئے ہیں،ان کے معیار پر عالمی سطح پر سوالات اٹھنے لگے ہیں اور خودعالمی ادارہ صحت سے لیکر امریکہ نے بھی متعدد خدشات کا اظہار کیا ۔جہاں تک ہمارے ملک کا تعلق ہے تو گوکہ یہاں بھی یہ کٹس ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کوحکومت کی طرف سے سپلائی کئے گئے تھے تاہم

رمضان کے بعد اب ہے اصل امتحان!

 اب جبکہ رمضان المبارک کا بابر کت اور مقدس مہینہ ہم سے رخصت ہو رہا ہے اور کل یا پرسوں ہم عید کی خوشیاں منارہے ہونگے جو واجب بھی ہے تاہم اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ لمحے،یہ دن ،یہ ماہ وسال اصل میں ہماری زندگی کے کم ہورہے ہیں اور ہر گزرنے والا لمحہ ہمیں موت کے قریب لے جاتا ہے ۔رمضان المبارک اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اگلے سال پھر وارد ہوگا لیکن کیا پتہ ،اُس سال کس کو موت سے رستگاری ملی ہوگی اور اس کو اگلے رمضان کے روزے رکھنا نصیب ہوں۔ زندگی انتہائی قلیل ہے اور اس قلیل زندگی میں کام بہت ہیں۔رمضان کے تین عشروں میں روزے رکھ کر اور نمازیں اد اکرکے بے شک ہم سکون محسوس کررہے ہیں لیکن رمضان کے بعد اصل امتحان اب شروع ہوگا۔رمضان المبارک بنیادی طور پر ایک تربیتی کورس ہے کہ ایک مسلمان کو سال کے بارہ ماہ اپنی زندگی کس طرح گزارنی ہے ۔امتحان یہ ہے کہ جس طرح رمضان المبارک میں ہم نے اللہ کی خوشنودی کیلئ

عید کے چاند کی خوشی کہاں؟

 رمضان کا مقدس مہینہ ہم سے رخصت ہورہا ہے۔ عید کا چاند سایہ فگن ہونے کی تاک میں بے قرار ہے۔عید کی آمد آمد ہے ۔عمومی طور پر عید مسلمانوں کیلئے خوشی کا تہوار ہے لیکن جس ماحول میں عید کشمیر پر سایہ فگن ہورہی ہے ،وہ کوئی خوشیوں سے بھرا ماحول نہیں ہے۔ لوگ کربناک حالات سے دوچار ہیں، آہوں اور سسکیوں کی آواز یں ہمارے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ کورونا وائرس کی وباء سے دنیا کا نظام تہہ وبالا ہوچکا ہے ۔دنیا سمیت کشمیر لاک ڈائون کی پوزیشن میں ہے ۔لوگ نان شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں ۔سینکڑوں کی تعداد میں معصوم نوجوان زندانوں کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔سینکڑوں مائیں آج بھی دریچوں سے باہرٹکٹکی لگائے جھانک رہی ہیں کہ شاید ان کا لخت جگر عید کی خوشی میں شامل ہونے کے لئے ضرور آئے گا۔گھروں کے ٹوٹے درودیوار،ٹوٹی کھڑکیاں،تباہ شدہ املاک اور اربوں روپے کی مالی قربانی زبان حال سے ہمارے ضمیرکوجھنجوڑ رہی ہے۔ ان ج

طبی و نیم طبی عملہ پر کورونا کاوار

گزشتہ کچھ روز سے مسلسل ایسی خبریں موصول ہورہی ہیں کہ جموںوکشمیر کے اُن ہسپتالوں ،جہاں فی الوقت کووڈ۔19مریضوں کا علاج چل رہا ہے ،میں طبی اور نیم طبی عملہ سے وابستہ افراد خود کورونا وائرس کے شکار ہورہے ہیں۔گزشتہ کچھ دنوں میں نہ صرف سرینگر کے صدر ہسپتال میں مختلف شعبوں کے ڈاکٹروں کو کورونا وائرس میں مبتلا پایاگیا بلکہ بڑی تعداد میں نیم طبی عملہ کو بھی قرنطین کردینا پڑا ۔صورتحال کی سنگینی کا یہ عالم تھا کہ صدر ہسپتال سے منسلک سپر سپیشلٹی ہسپتال کے چار اہم شعبوں کو ہی بند کردینا پڑا اور ان میں سرطان کے مریضوںکیلئے کیمو تھراپی کا اہم شعبہ بھی شامل ہے۔اسی طرح کووڈ۔19مریضوںکیلئے مخصوص کئے گئے سکمز میڈیکل کالج ہسپتال بمنہ میں بھی کئی ڈاکٹر کورونا وائرس سے متاثر ہوئے اور اس وقت بھی اس ہسپتال میں طبی و نیم طبی عملے کی ایک اچھی خاصی تعداد قرنطین میں ہے ۔شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ

اقامتی سند کی اجرائی کے قواعد وضوابط

بالآخر وہ ہو کر ہی رہ گیا جس کا 5اگست2019سے انتظار کیاجارہا ہے۔ پشتینی باشندگی سند بالآخر ختم کردی گئی اور اس کی جگہ اقامتی سند متعارف ہوگئی جس کی اجرائی کیلئے گزشتہ روز باضابطہ گیزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعہ قواعد وضوابط جاری کئے گئے ۔یہ قواعد و ضوابط کم و بیش وہی ہیں جو مرکزی حکومت نے اقامتی سند کی اجرائی کے قانون میں وضع کئے تھے ۔فرق صرف اتنا ہے کہ اب صراحت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے کہ نوکریوںکے حصول کیلئے اقامتی اسناد کی حصولی کیسے ممکن بن پائے گی اور اس کی اجرائی کا کیا طریقہ کار رہے گا۔قواعد و ضوابط کے مطابق31اکتوبر2019تک جن افراد کے حق میں جموںوکشمیر میں پشتینی باشندگی اسناد جاری کی گئیں، وہ اقامتی سند کے حصول کے اہل ہونگے اور انہیں صرف یہ سند دکھانا ہوگی، جس کے عوض انہیں اقامتی سند ملے جبکہ انکے بچوں کو والدین کی پشتینی باشندگی سند اور اپنی سندِ تاریخ پیدائش دکھا نا ہوگی جس کے عوض وہ ا

لاک ڈائون کا چوتھا مرحلہ

اتوار کی شام کو جب مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے لاک ڈائون کے چوتھے مرحلہ کا اعلان کیاگیا تو جموںوکشمیر کے عوام میں یہ اُمید بندھ گئی تھی کہ شاید انہیں کوئی راحت ملے گی کیونکہ اتوار کی شام کو کہاجارہاتھا کہ ریاستیں اور مرکزی زیر انتظام علاقے اپنی سطح پر مقامی صورتحال کودیکھتے ہوئے بندشوں میں نرمی لانے کے مجاز ہونگے ۔لاک ڈائون کے چوتھے مرحلہ کے اعلان کے فوراً بعد جموںوکشمیر انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ آج یعنی19مئی کو اس ضمن میں حتمی فیصلہ لیں گے لیکن اب شاید اس کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مرکزی داخلہ سیکریٹری کی جانب سے کل یعنی پیر کو تمام ریاستوں اور یونین ٹریٹریز کے چیف سیکریٹریوں کو جو مکتوب روانہ کیاگیا ہے ،اُس میں واضح کیاگیا ہے کہ کوئی بھی ریاست یا یونین ٹریٹری مرکزی سرکار کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کو نرم نہیں کرسکتی ہے تاہم انہیں بندشوں میں مزید سختی کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔تازہ مک

بجلی سیکٹرکی نجکاری کا فیصلہ ! | اپنی نااہلی کا ملبہ صارفین پر نہ گرائیں

جموں وکشمیر تب ریاست ہی تھی جب یہاں بجلی محکمہ کی نجکاری شروع کرکے باضابطہ طور نیم خود مختار کارپوریشنوںکاقیام عمل میں لاکر محکمہ بجلی کے ملازمین کو ان کارپوریشنوں کے ساتھ منسلک کردیاگیاتھا۔گوکہ اس حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاج بھی ہوا تھا لیکن بات بن نہیں پائی تھی اور حکومت اس پالیسی پر تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہی ۔5اگست2019کو جب جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرکے اس ریاست کی تنزلی عمل میں لاکر اس کو مرکز کے زیر انتظام دیاگیا تو لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ نے بھی سابق پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے نفاذ میں سرعت لائی جسکے خلاف پھر ایک دفعہ ملازمین احتجاج کی راہ پر نکل پڑے لیکن انہیں مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں لگا اور بجلی شعبہ کی نجکاری جاری رہی ۔اس سارے عمل میں کورونا کا بحران شروع ہوا اور اب اُمید کی جارہی تھی کہ شاید یہ بحران ختم ہوکر اس فیصلہ پر نظر ثانی کی جائیگی لیکن اب ساری امید

صنف نازک زیرِ عتاب کیوں؟

  جموںوکشمیر ہائی کورٹ نے خواتین کے خلاف تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کی امداد کیلئے سرکاری سکیموں کی وسیع تشہیر پر زور دینے کے علاوہ تشدد کے اس سلسلہ کے خاتمہ کی بھی وکالت کی ہے ۔مفاد عامہ کی ایک عرضی کی سماعت کے دوران ایک مفصل حکم نامہ جاری کیاگیا ہے جس میں خواتین کیخلاف تشدد کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے ،وہ دل دہلادینے والا ہے۔اُن تفصیلات میں جائے بغیر ماہرین سماجیات کی جانب سے گزشتہ برس کئے گئے ایک سروے کے مطابق کشمیر میں40فیصد سے زائد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔سروے کے مطابق گھریلو تشدد کے بیشتر معاملات میں وجوہات جہیز،سسرال والوں کی مداخلت ،غلط فہمی ،شوہر کی طرف سے زیادتیاں، بچیوں کو جنم دینا وغیرہ شامل ہیں۔ سابق ریاستی خواتین کمیشن کے اشتراک سے2003میں ایک سروے کیاگیاتھا جس میں پایا گیا تھا کہ کشمیر میں30فیصد خواتین کو اپنے شوہروں کی جانب سے جسمانی تشدد کا س

کورونا وائرس اور انتباہی بیانات

گزشتہ دنوں یعنی جمعرات اور جمعہ کوعالمی سطح پر دو اہم بیانات سامنے آئے اور دونوںکا تعلق کورونا وائرس سے ہے ۔ایک پالیسی بیان جمعرات کو اقوام متحدہ کی جانب جاری کیاگیا جس میں خبردار کیا گیا کہ کورونا وائرس کی وبا کے ساتھ ساتھ دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے رہا ہے ۔اقوام متحدہ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا فرنٹ لائن طبی عملے سے لے کر اپنی نوکریاں کھونے والوں اور یا اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا غم سہنے والوں سے لے کر گھروں میں قید بچوں اور طالب علموں تک، سب لوگوں کے لیے ذہنی دباؤ اور کوفت کا باعث ہے اور سبھی اپنے اپنے طور پر وبا سے نمٹنے کے منصوبوں میں ذہنی صحت کے علاج اور عوام کے لیے نفسیاتی امداد فراہم کرنے کے طریقے بھی شامل کریں۔  دوسرا بیان جمعہ کو جاری کیاگیا جو اقوام متحدہ کے ہی صحت سے متعلق سویزر لینڈ میں قائم ذیلی ادارہ عالمی ادارہ صحت کا تھا۔عالمی ادارہِ صحت یاڈبلیو ا

جون میں سکول کھولنے کی نوید

 جموںوکشمیر مرکزی زیر انتظام علاقہ میں سکولی تعلیم محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری اصغر سامعون نے گزشتہ روز یہ نوید سنائی کہ حکومت کے پاس جون سے تعلیمی ادارے بحال کرنے کا پروگرام ہے ۔اگر واقعی ایسا کوئی پروگرام ہے تو اس کا خیر مقدم کیاجانا چاہئے تاہم کچھ باتیں ہیں جو حکام کے گوش گزار کرنا ضروری ہیں۔سکولی تعلیم محکمہ کے سربراہ کے مطابق سکولوں کا وائٹ واش کرنے کے علاوہ انہیں جراثیم کش ادویات کا چھڑکائو کیا جائے گااور ا سکے بعد ہی یہ تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا عمل شروع کیاجائے گا۔انہوںنے جس طرح تدریسی عمل میں تعطل پر تشویش کا اظہار کیا ،وہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ حکومت واقعی نونہالوں کی تعلیم کو لیکر کافی فکرمندہے اور ہونا بھی چاہئے ۔کوئی باپ نہیں چاہے گا کہ اُس کا بچہ سکول سے دور رہے ۔تمام والدین کی کوشش رہتی ہے کہ ان کے بچوں کا تعلیمی کیرئر متاثر نہ ہو اور اس کیلئے وہ کوئی بھی قر

کشمیری معیشت لرزہ براندام

کشمیر عظمیٰ کے صفحہ اول پر گزشتہ دو روز سے کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے کشمیری معیشت کے مختلف شعبوں کو پہنچنے والے نقصانات کی جومفصل خبریں شائع ہورہی ہیں،وہ نہ صرف کورونا لاک ڈائون کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے کافی ہیں ،بلکہ ان خبروںکے بین السطور معاملہ سے ہم یہ بھی محسوس کرسکتے ہیںکہ ہم کس سمت میں جارہے ہیں۔11مئی کو گیلاس کی پیداوار سے متعلق جو رپورٹ شائع ہوئی تھی،وہ برمحل تھی کیونکہ یہاں گیلاس کا سیزن شروع ہوچکا ہے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں 13ہزار میٹرک ٹن گیلا س کی پیداوار ہوتی ہے لیکن جس طرح کا ماحول بناہوا ہے ،ایسا نہیںلگتا ہے کہ یہ فصل اپنی قیمت وصول کرسکے ۔جانکار حلقوںکے مطابق کشمیر کی گیلاس صنعت 1000کروڑ روپے مالیت کی ہے اور اگر لاک ڈائون کا سلسلہ ایسے ہی جاری رہا تو شاید یہ سارے کا سارا پیسہ ڈوب جائے گا۔کشمیر ی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ برآمدات پر منحصر اور درآمد

بڑے ہسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات

 یہ امر باعث اطمینان ہے کہ کورونا وائرس کی وباء پھیلنے کے بعد گزشتہ48روز سے بندگورنمنٹ میڈیکل کالج جموں اور اس سے منسلک ہسپتالوں میں او پی ڈی خدمات آج سے دوبارہ بحال ہونگیں۔ہم نے انہی سطور میں گزشتہ دنوں بھی اس سنگین مسئلہ کی جانب سے حکام کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی تھی ۔اب اگر حکام نے عوامی مشکلات کو دھیان میں رکھتے ہوئے جی ایم سی جموں سے منسلک ہسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات بحال کرنے کا فیصلہ لیا ہے تو اس کا یقینی طور پر خیر مقدم کیاجانا چاہئے کیونکہ یہ براہ راست انسانی زندگیوںکے ساتھ جڑا ہوا معاملہ ہے ۔ہم نے جموں اور سرینگر کے میڈیکل کالجوں سے منسلک بڑے ہسپتالوں میں اور اضلاع میں قائم میڈیکل کالجوںسے جڑے ہسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات بند کرنے کے نتیجہ میں حفظان صحت پر پڑنے والے مضر اثرات پر تفصیل سے بات کی تھی اور مثالیں دیکر یہ واضح کیا تھا کہ کورونا کے خلاف لڑتے لڑتے ہم عام مریض