تازہ ترین

سرما کی دستک اور بجلی گُل

 بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا،محکمہ بجلی کے عزائم بھانپتے ہوئے کشمیرعظمیٰ نے صارفین کو پیشگی خبردار کیا تھاکہ آنے والے دنوں میں بجلی کا بحران اپنی انتہا کو پہنچے گااور آج وہی ہورہا ہے۔جوں جوں سردی بڑھنے لگی ،بجلی شیڈول میں غیر اعلانیہ کٹوتی بھی بڑھتی گئی۔شمال و جنوب میں بجلی کی ہاہار کار کو دیکھتے ہوئے جب ارباب اختیار کی جانب سے محکمہ بجلی کو کٹوتی شیڈول پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایت تو دی گئی تھی لیکن شاہی دربار سرینگر میں بند ہوتے ہی وادی کو اندھیروں کے سپرد کرنے کا بندوبست کیاجارہا ہے ۔ مصدقہ اخباری اطلاعات کے مطابق محکمہ بجلی ایک کٹوتی شیڈول ترتیب دے رہا ہے جس کے مطابق وادی کے غیر میٹر یافتہ علاقوں میں روزانہ9گھنٹوں کی کٹوتی ہوگی جس کا مطلب یہ ہے کہ غیر میٹر یافتہ علاقوں میں ہفتے میں63گھنٹے بجلی شیڈول کے مطابق غائب رہے گی تاہم غیر اعلانیہ کٹوتی اس کے علاوہ ہے اور دیہی ع

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت

فرانس میں اہانت آمیز خاکوں کے ذریعہ شان ِ رسالت ؐ میں کی گئی گستاخی کے خلاف دنیا بھر میں مسلمانوں کا احتجاج جاری ہے۔ جموں و کشمیر میں بھی جمعہ سے ہی توہین آمیز فلم کیخلاف برہمی پائی جارہی ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہے جب اسلام اور اسلامی مقدسات کی شان میں امریکہ اور مغرب میں اس طرح کی اہانت آمیز فلم کارٹون و دیگر مواد شائع کئے گئے ہیں۔گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد امریکہ اور اسلام دشمن طاقتوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دو محاذیعنی ثقافتی اور فوجی محاذ کھول دئے ہیں۔ ثقافتی محاذ کے تحت کبھی سرکار رسالت مآبؐکے سلسلے میں توہین آمیز کارٹون بنایا جاتا ہے تو کبھی اہانت آمیز فلم تیار کرکے اسلام اور مسلمانوں کو پوری دنیا میں دہشت گرد کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے اور جنگی محاذ پر اس نے عرب و عجم میں دسیوں لاکھ مسلمانوں کا خون بہا دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مغربی دنیا میں آخر مسلمانوں

قومی شاہراہ کی مسدودیت

 کل یعنی منگل کو جموں سرینگر قومی شاہراہ پر پھر پانچ گھنٹوں تک ٹریفک کی نقل وحمل مسدود رہی ۔گوکہ بعد میں بڑی مشکل سے ٹریفک بحال کیاگیا لیکن دیر رات تک ٹریفک کچھوے کی چال چلتا رہا جس کی وجہ سے مسافروں کو منزلوں تک پہنچنے میں بے پناہ مصائب سے دوچار ہونا پڑا۔ویسے بھی اب کشمیر کی شہ رگ کہلائی جانے والی جموں سرینگر قومی شاہراہ کی مسدودیت نہ صرف عام سی بات بن چکی ہے جبکہ ٹریفک جام کا سلسلہ بھی روز کا معمول بن چکا ہے اور اب جموں سے سرینگر یا سرینگر سے جموں کا سفر 6سے8گھنٹوں کے بجائے اوسطاً 12سے15گھنٹوں میں طے ہونامعمول بن چکا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب یہ شاہراہ سردیوں میں کئی کئی ہفتوں تک بند رہتی تھی تاہم بہار آتے ہی شاہراہ پر سفر خوشگوار بن جاتا تھا تاہم اب صورتحال یہ ہے کہ اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود یہ شاہراہ مسافروںکیلئے وبال جان بن چکی ہے ۔ شاہراہ پر سفر کرنے والے مسافروں کی یہ ع

عارضی ملازمین اور سرکار

 جموںوکشمیر میں مختلف محکموں میں تعینات عارضی ملازمین گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے ہڑتال پر ہیں جس کی وجہ سے بیشتر محکموں کا کام کاج متاثر ہوچکا ہے ۔کیجول لیبروں کی جاریہ ہڑتال کی وجہ سے پینے کے صاف پانی کی سپلائی برح طرح متاثر ہوچکی ہے اور بیک وقت دونوں دارالحکومتی شہروں سے پانی کی عدم دستیابی کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں ہے جب یہ عارضی ملازمین ہڑتال پر چلے گئے ہیں بلکہ اب تک یہ ملازمین کئی دفعہ اپنے مطالبات منوانے کیلئے احتجاج کا راستہ اختیار کرچکے ہیںاور ہر بار سرکار کی یقین دہانیوں پر ہڑتال ختم کرکے کام پر لوٹ آئے تاہم مسائل جوں کے توں ہیں اور یقین دہانیاں زبانی جمع خرچ سے آگے نہ بڑھ سکیں۔ اس بات سے قطعی انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ حکومت کے مسائل ہیں اور مالی پوزیشن پتلی ہے ۔یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ جموںوکشمیر کے بجٹ کا بیشتر حصہ ملازمین کی تنخواہوں پر صرف

! خُدا کے لئے اب تو سنبھل جائیے

ایک ایسے وقت جب کورونا وائرس کی وباء سے دنیا میں طبی نظام تقریباً مفلوج ہوچکا ہے اور اس ناگہانی آفت کے سامنے انسانی بے بسی ا س قدر انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ اب لاشوںکا شمار رکھنا بھی مشکل ہورہا ہے ،یہ پریشان کن انکشاف ہوا ہے کہ دنیا میں نسل انسانی کو تباہ و برباد کرنے کیلئے عالمی دفاعی بجٹ مسلسل بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ۔سال رفتہ میں دفاعی ساز و سامان کی خریداری میںگزشتہ دہائی کا سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا ہے اور اس صرفہ میں بیک وقت3.6فیصد اضافہ ہوا ہے ۔حیرانگی کی با ت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کو چھوڑیں ،اب تو ہمارا ملک بھارت بھی اس فہرست میں شامل ہوچکا ہے اور امریکہ وچین کے بعد بھارت دنیا کا تیسرا ایسا ملک بن چکا ہے جہاں دفاعی بجٹ میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ امریکہ میں 2018کے مقابلے میں3.6فیصد اضافہ کے ساتھ دفاعی بجٹ (346,977ارب)1917بلین ڈالر تک پہنچ گیااور یہ 2010کے بعد سب سے زیادہ اضافہ

بجلی سیکٹرکی نجکاری کا فیصلہ

 جموںوکشمیر تب ریاست ہی تھی جب یہاں بجلی محکمہ کی نجکاری شروع کرکے باضابطہ طور نیم خود مختار کارپوریشنوںکاقیام عمل میں لاکر محکمہ بجلی کے ملازمین کو ان کارپوریشنوں کے ساتھ منسلک کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیاتھا۔گوکہ اس حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاج بھی ہوا تھا لیکن بات بن نہیں پائی تھی اور حکومت اس پالیسی پر تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہی ۔5اگست2019کو جب جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرکے اس ریاست کی تنزلی عمل لاکر اس کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دیاگیا تو لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ نے بھی سابق پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے نفاذ میں مزید سرعت لائی اور پھر ایک دفعہ ملازمین احتجاج کی راہ پر نکل پڑے لیکن ایک بار پھر ملازمین کو مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں لگا اور بجلی شعبہ کی نجکاری جاری رہی ۔ اس سارے عمل میں کورونا کا بحران شروع ہوا اور اب امید کی جارہی تھی کہ شاید یہ بحران ختم ہوک

لیفٹنٹ گورنر کی جمہور نوازی

  جموں و کشمیریونین ٹریٹری کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے سیکورٹی فورسز کو ہدایت دی ہے کہ وہ بے گناہوں کو نہ چھیڑو اور مجرموں کو نہ چھوڑو کے طریقہ کار کو اپنائیں۔بدھ کو پولیس یادگاری دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے بیک وقت سیکورٹی سے جڑے معاملات پر لب کشائی ۔انہوںنے جہاں مذہبی بنیاد پرستی پر مفصل بات کی وہیں سائبر سیکورٹی پر بھی مدلل گفتگو کی۔چونکہ تقریب پولیس کی تھی تو امن و قانون سے لیکر سیکورٹی کے معاملات پر بات کرنا غیر فطری نہیں تھا لیکن چند باتیں ہیں جن پر مزید بات کی جاسکتی ہے ۔ لیفٹنٹ گورنر کا یہ کہنا کہ بے گناہوں کو نہیں چھیڑا جانا چاہئے ،ایک مثبت پیغام ہے کیونکہ امن و قانون کی صورتحال سے نمٹنے کے دوران اکثر و بیشتر پولیس و سیکورٹی فورسز پر عام لوگوں کو ہراساں کرنے کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔اس بات سے انکار کی قطعی گنجائش نہیں ہے کہ جہاں پولیس جرائ

کووڈ 19اور عوامی لاپرواہی

 وزیراعظم نریندر مودی نے عوام سے کووڈ۔19رہنما ضوابط پر عمل پیرا رہنے کی پُر زور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپر واہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ وائرس ہمارے درمیان ابھی بھی موجود ہے اور ذرا سی لاپرواہی تہواروں کے سیزن پر بھاری پڑسکتی ہے۔کورونا وائرس کے پھیلائو سے اب تک قوم کے نام اپنے ساتویں خطاب میں امریکہ اور کئی یورپی ممالک کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہاںکافی حد تک کمی آنے کے بعد کورونا معاملات میں اچانک اچھال دیکھنے کو مل رہا ہے جو باعث تشویش ہے اور اس لئے ملکی شہریوں کو کورونا کا موثر علاج ملنے تک کسی بھی طور لاپرواہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔  وزیراعظم مودی دراصل اُس عوامی لاپرواہی کی جانب اشارہ کررہے تھے جس کا مظاہرہ آج کل پورے ملک میں عوامی سطح پر کیاجارہا ہے ۔فیس ماسکوں کا استعمال تقریباً ختم ہوچکا ہے ،جسمانی دوریوں کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھاجارہا ہے اور

این ای سی ٹی امتحانات اور کشمیر

 طبی تعلیم کے حصول کیلئے قومی سطح پر لئے گئے داخلہ امتحان کے حالیہ نتائج جموںوکشمیر کے لئے حوصلہ افزاء ہیں کیونکہ ان امتحانات میں ایک دفعہ پھر جموں وکشمیر کے طلباء نے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ یہ ثابت کردیا کہ نامساعد حالات کے باوجود یہاں کے طالب علم کیریئر کے حوالے سے انتہائی حساس ہیں اور وہ کسی بھی طور زندگی کے کسی بھی شعبہ میں پیچھے رہنے کیلئے تیار نہیںہیں۔NEETامتحان میں جن امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ،ان کا خوش ہونا فطری ہے اور جو امیدوار اس بار یہ امتحان پاس نہ کرسکے ،اُن کی افسردگی بھی فطری ہے تاہم ایسے امیدواروں کیلئے یہ سنہری موقعہ ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کریں اور دیکھیں کہ وہ کیوں کر پیچھے رہ گئے ہیں تاکہ اگلے امتحان کیلئے وہ بھرپور تیاری کرسکیں اور اُن خامیوںکا ازالہ سکیں جن کی وجہ سے اُنہیں اس بار ناکامی کا سامنا رہا۔کسی بھی امتحان میں ناکامی کیریئر کا خاتم

شعبۂ تعلیم مائل بہ تنزل کیوں؟

  کسی بھی قوم کے لئے تعلیم ایک ا یسا اہم ترین شعبہ ہے جوا س کی سماجی بیداری، معاشی خوشحالی اور ہمہ جہت ترقی کاپیمانہ طے کرتا ہے تاہم جموں و کشمیر میں بد قسمتی سے اس کی موجودہ صو رتحال انتہائی مایوس کن ہے جس کے مضر اثرات مستقبل میں انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ کہنے کو تو گزشتہ چند برسوں میں سکولوں اور کالجوں کی بھر مار کر دی گئی ہے اور بقول حکومت پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم کی سہولیات لوگوں کی دہلیز تک پہنچا دی گئی ہے لیکن اس کی حقیقی تصویر کیا ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جموںوکشمیرمیں فی الوقت شعبہ اعلیٰ تعلیم میں اسسٹنٹ لیکچرروں کی 1600سے زیادہ اور سکولوں کے اسا تذہ کی10ہزارسے زائد اسامیاں خالی پڑی ہیں۔حالیہ ایام میں نئے کھولے گئے کئی کالج ہنوز مستعار عمارتوں میں چل رہے ہیں ،سینکڑوں سکولوں کے پاس اپنی کوئی عمارت نہیں نیز ایسے سرکاری سکولوں کی تعداد بھی س

کشمیر میں ایمز کا قیام ہنوز ایک خواب

وادی میں آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا قیام ہنوز ایک خواب بنا ہوا ہے کیونکہ پانچ سال گزر جانے کے باوجود بھی تاحال اس وقاری ادارہ کا تعمیری کام شروع نہیں کیاجاسکا ہے ۔خیال رہے کہ سات نومبر2015کو وزیراعظم نریندر مودی نے اونتی پورہ میں ایمز کے قیام کا اعلان کیاتھااور مرکزی حکومت نے 1828کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے اس پروجیکٹ کو منظوری بھی دی تھی ۔اس طرز کا ایک انسٹی چیوٹ جموں کو بھی دیاگیاتھا جس کیلئے وجے پور سانبہ کا انتخاب عمل میں لایاگیاتھا اور وہاں تعمیری سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں تاہم افسوس کا مقام ہے کہ کشمیر میں اس انسٹی چیوٹ کے قیام کے سلسلہ میں مسلسل سرد مہری کا مظاہرہ کیاجارہا ہے اور کام ابھی ٹیندر نگ کے عمل سے بھی آگے نہیں بڑھ پارہا ہے۔ایمز کے قیام کیلئے اونتی پورہ میں تعمیراتی ایجنسی سینٹرل پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کو 1886کنال اراضی بھی دستیاب کرائی گئی تاہم حیرت ک

سماجی تانے بانے کا بکھرائو۔۔۔ آخر کیوں؟

 گوکہ 5اگست 2019کے بعد کشمیر کا سیاسی نقشہ بدل چکا ہے اور یونین ٹریٹری کی صورت میں عوامی حکومت کی عدم موجودگی میں لیفٹنٹ گورنر سرکارچلا رہے ہیں تاہم اس سیاسی بحث سے قطع نظر وادی میںکورونا وباء کے باوجود گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران سماجی سطح پر متعدد ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن سے اس سماج کے بتدریج بڑھتے ہوئے کھوکھلے پن کی تصدیق ہوجاتی ہے ۔ جس طرح صنف نازک کے ساتھ ہوئی زیادتیوں کی المناک کہانیاں اخبارات میں شائع ہورہی ہیں،انہوں نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ اخلاقی انحطاط طوفان کی تیزی کے ساتھ ہمارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔بے راہ روی ،بد اخلاقی ،بے ایمانی ،رشوت خوری اور کنبہ پروری نے لوگوں سے غلط اور صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اجتماعی حس نام کی چیز ہی جیسے عنقا ہوگئی ہے اور لوگوں کی اکثر یت اس تشویشناک صورتحال سے بالکل بے پرواہ ہے۔ایک وقت تھا جب یہ

انسداد ِ رشوت ستانی مہم

کورپشن کے خلاف جنگ میں اینٹی کورپشن بیورو نامی انسداد رشوت ستانی ادارہ کا قیام جب عمل میں لایاگیاتھا تویہ تاثر دیا جارہا تھا کہ اب رشوت خوروں کی خیر نہیں ہے ۔سابق گورنر ستیہ پال ملک بار بار کہہ رہے تھے کہ جموں وکشمیر میں کورپشن عام ہے اور اس ضمن میں وہ بارہا مثالیںبھی دیتے تھے ۔اینٹی کورپشن بیورو اُن کے دور میں ہی بنا۔انہوںنے تمام سرکاری افسران سے جائیداد کی تفصیلات جمع کرنے کو لازمی قرار دیا تھا تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ آمدنی سے زیادہ جائیداد کس کے پاس ہے ۔گوکہ وہ تفصیلات تقریباً جمع ہوچکی ہیں لیکن عمل ہنوز مفقود ہے ۔   گوکہ لیفٹنٹ گورنرکی نیت پر شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اُن کی اس پہل کو مستحسن ہی قرار دیا جاسکتا ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ محض چند ملازمین کے خلاف کارروائی کرکے حکومت کورپشن کا قلع قمع نہیں کرسکتی ہے ۔ارباب اختیار کو اس حقیقت کا ادراک و اعتراف ہون

سرحدی کشیدگی …آرپار عوام توپ کی رسد کیوں ؟

منقسم جموںوکشمیر میں لائن آف کنٹرول سے لیکر بین الاقوامی سرحد پر عملی طورجنگ جیسی صورتحال ہے ۔دونوں جانب سے آتشی گولہ باری تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق رواں ماہ کے دوران جنگ بندی کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں سرحد کے دونوں جانب کم ازکم10کے قریب اموات واقع ہوئی ہیں جبکہ ایک وسیع سرحدی آبادی جان کی امان پانے کیلئے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوچکی ہے۔جانکار حلقوں کے مطابق سرحدی گولہ باری کے اس نہ تھمنے والے سلسلہ کی وجہ سے درجنوں دیہات متاثر ہوچکے ہیں اور اشتعال انگیزی کا یہ عالم ہے کہ دونوں جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ 120 ایم ایم اور 180 ایم ایم مارٹر گولے بھی داغے جارہے ہیں ۔ ایک طرف امن اور مفاہمت کی باتیں کی جارہی ہیں تو دوسری جانب سرحدوں پر لگی توپیں آگ اگلنا بند نہیں کررہی ہیںاور کشمیر سے کٹھوعہ تک وقفہ وقفہ سے سرحدوں پر گولہ باری جاری ہے ۔صورتحال کی

محدود معیشی پیکیج نامکتفی

جموںوکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر حسب توقع کافی متحرک نظر آرہے ہیں۔منوج سنہا راج بھون میں کم جبکہ باہر زیادہ وقت گزار رہے ہیں اور اُس خلیج کو مسلسل پاٹنے کی کوشش کررہے ہیں جو عوام اور حکومت کے درمیان اب کافی عرصہ سے پائی جارہی ہے۔منوج سنہا چونکہ سیاسی پس منظر رکھتے ہیں اور زندگی کا بہت بڑا حصہ سیاسی میدان میں گزارا ہے تو اُن سے پہلے دن سے ہی یہ امید کی جارہی تھی کہ وہ کاغذی کیڑا بننے کی بجائے قضیہ زمین بر سر زمین والا اپروچ اختیار کریں گے۔ چنانچہ جب اُن کا تقرر ہوا تو اُس وقت بھی یہی بتایاجارہا تھا کہ مرکزی حکومت نے صرف اسی غرض سے جموںوکشمیر کا لیفٹنٹ گورنر بنا کر بھیجا کہ وہ عوامی رابطے استوار کریں اور جموںوکشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کا احیاء کرنے میں اپنا کردار نبھائیں کیونکہ سابق لیفٹنٹ گورنرنے کافی حد تک اپنے آپ کو راج بھون اور بیروکریسی کے ساتھ میٹنگوں تک ہی محدو کیا ہوا تھا۔ بہر حال

محکمہ صحت او ر کورپشن مافیا | علاج کرنیوالوں کا علاج کون کرے؟

 محکمہ صحت کے حوالے سے آئے روز جو ہوش ربا رپورٹ میڈیا کی توسط سے عام لوگوں تک پہنچ رہے ہیں،انہوں نے ذی حس عوام کی نیندیں ہی اچٹ دی ہیں کیونکہ عوام کے جان سے براہ راست تعلق رکھنے والے اس شعبہ کی جو حالت اخبارات کے ذریعے منکشف ہورہی ہے ،وہ انتہائی پریشان کن ہی نہیں بلکہ تشویشناک بھی ہے ۔ادویہ سکینڈل کوئی نئی بات نہیںہے بلکہ اب تو ہسپتالوں میں دستیاب سہولیات اور عملہ و ڈھانچہ کی قلت بھی درپیش ہے اور ایسے میں یہ ہسپتال محض نمائشی شفاخانے لگتے ہیںجہاں مریضوںکا خدا ہی حافظ ہے۔خرد برد اور بدانتظامی و مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے آئے روز جو نت نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں ،وہ اس بات کی جانب اشارہ کررہے ہیں کہ یہ کوئی انفرادی کورپشن کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک منظم دھندہ ہے جو برسوں سے اس محکمہ میں چلتا آرہا ہے اور اس کے تار نچلی سے لیکر اوپری سطح تک محکمہ کے منتظمین کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں

ہمارا کل حال کی بھول بھلیوں میں گُم کیوں؟

 گزشتہ دنوں ایک غیر سرکاری انجمن کی رپورٹ میںبچوں کے مسائل کی جو منظر کشی کی گئی ،وہ انتہائی بھیانک ہے اور یقینی طور پر وہ منظر کشی سماج کے ہر فرد کو اپنا محاسبہ کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔یہ کس قدر افسوسناک ہے کہ جن نازک ہاتھوں میں قلم اور کتابیں ہونی چاہئے تھیں ان میں کارخانوں کے اوزار تھما دیئے گئے ہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ جموںوکشمیرخاص طور پر وادی میں بچوں کو تعلیم حاصل کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ اقتصادی مسائل کی وجہ سے چھوٹے بچے کمانے کی مشینوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ان محققین کے مطابق اگر چہ جموںوکشمیر کی سطح پر سرکاری طور صرف 4900بچے مزدوری کی چکی میںپسے جا رہے ہیں تاہم غیر سرکاری سطح پر ان کی تعداد تین لاکھ کے قریب ہوسکتی ہے۔یہ اعدادوشمار انتہائی پریشان کن ہیں کیونکہ بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور یہی روزگار کی تلاش میں اپنا بچپن کھودیں تو سماجی ڈھانچہ تہہ و بالا ہون

صنف نازک زیر عتاب کیوں؟

 گزشتہ روز یعنی بدھ کو صدر ہسپتال سرینگر کے برن وارڈ میں سوپور کی ایک خاتون خانہ آگ سے جھلسنے کی وجہ سے لگے زخموںکی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھی ۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ کشمیر میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات اب روز کا معمول بن چکے ہیں۔ایک تازہ ترین اخباری رپورٹ کے مطابق سرینگر کے صدر ہسپتال میں ہفتے میں اوسطاً ایک خاتون کو داخل کیاجاتا ہے جو گھریلو تشدد کی نذر ہوئی ہوتی ہے۔ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بیشتر خواتین گھریلو تشدد کی وجہ سے تنگ آکر اپنے آپ کو آگ سے جھلسا دیتی ہیں اور اس وقت بھی ہسپتال کے برن وارڈ میں تین خواتین جھلس جانے کی وجہ سے موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ماہرین سماجیات کی جانب سے حال میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق کشمیر میں40فیصد سے زائد خواتین گھریلو تشدد کی شکار ہیں۔سروے کے مطابق گھریلو تشدد کے بیشتر معاملات میں وجوہات جہیز، سسرال و

کووڈ ۔19… احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں

  کورونا وائرس کے تازہ معاملات میں کافی حد تک کمی آئی ہے اور مسلسل نئے معاملات میں کمی آرہی ہے جو بادی النظر میں ایک خوش آئند رجحان ہے تاہم ماہرین کمی کے اس رجحان پر اتنے خوش نہیں ہیں اور اُن کاماننا ہے کہ اگر جارحانہ ٹیسٹنگ کی جائے تو معاملات پھر بڑھ سکتے ہیں کیونکہ اُن کا استدلال ہے کہ کورونا وائرس سوسائٹی میں کافی گہرائی تک سرایت کرچکا ہے ۔  بلا شبہ نہ صرف تجارتی و کاروباری سرگرمیاں کافی حد تک بحال ہوچکی ہیں بلکہ ٹرانسپورٹ بھی اب تقریباً معمول کے مطابق چلنے لگا ہے اور یوں کم و بیش سماج کے سبھی طبقوں سے وابستہ افراد کو دو وقت کی روٹی کمانے کا موقعہ مل رہا ہے تاہم یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ بھلے ہی بندشوں میں نرمی کی جارہی ہو لیکن کورونا کہیں گیا نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے ساتھ ہی موجود ہے اور مسلسل ہمارا تعاقب کررہا ہے۔گزشتہ دنوں ایک نیوز پورٹل کی وساطت سے ڈاکٹر

جموں وکشمیر میں انٹرنیٹ بحالی

 جموںوکشمیر میں موبائل انٹرنیٹ کی مکمل بحالی ہنوز ایک خواب بنا ہوا ہے ۔گوکہ گاندربل اور ادہم پور اضلاع میں 4۔جی موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا دعویٰ کیاگیا ہے تاہم ان دواضلاع کے لوگوں کی بھی شکایت ہے کہ کہنے کو تو 4۔جی انٹرنیٹ چل رہاہے لیکن اس کی رفتار قطعی 4۔جی نہیں ہے بلکہ یہ 2۔جی سے ذرا بہتر ہے ۔باقی اضلاع میں مسلسل 2۔جی انٹرنیٹ سروس ہی چل رہی ہے اور ایک کے بعد ایک حکم نامہ جاری کرکے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ فی الحال اس یونین ٹریٹری میں موبائل انٹرنیٹ کی مکمل بحالی حکومت کے زیر غور نہیں ہے ۔اور تو اور ،اب تو مرکزی حکومت نے سست رفتار موبائل انٹرنیٹ کو لائق کار قرار دیا ہے کیونکہ گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں وزارت داخلہ کی جانب سے بتایا گیا کہ 2۔جی  انٹرنیٹ کے سہارے جموںوکشمیر کا آن لائن تعلیمی نظام بخوبی چل رہا ہے اور 4۔جی انٹرنیٹ کی زیادہ ضرورت نہیں ہے ۔ &nb

تازہ ترین