کورونا وبا … اختراعی اقدامات کی ضرورت

جموںوکشمیر میں کورونا مریضوںکی تعداد میں یکایک تشویشناک اضافہ سے ہسپتالوں پرکافی بوجھ پڑ چکا ہے جس کے نتیجہ میں گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران نئے سامنے آنے والے ہزاروں مریضوں کوہسپتالوں میں داخلہ ملنا مشکل ثابت ہورہا ہے۔جموںوکشمیر حکومت کی پالیسی کے مطابق علاج کی ضروریات اور علامات کو خاطر میں لائے بغیر کورونا مریضوںکو ترجیحی بنیادوں پر اپنے آبائی اضلاع کے ہسپتال میں داخل رکھنا ہے۔ فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ کشمیر میں تقریباً تمام نامزد کووڈ ہسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیںاور وہاں مزید گنجائش نہیں رہی ہے۔امراض چھاتی کے ہسپتال میں صرف180بستروں کی گنجائش ہے اور وہاں کوئی بیڈ خالی نہیں ہے ۔اسی طرح 50بستروں کی گنجائش والاکشمیر نرسنگ ہوم ،جسے حال ہی میں کووڈ ہسپتال ڈکلیئر کیاگیاتھا ،میں بھی کوئی بیڈ خالی نہیں رہا ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت نئے مریضوں کے داخلہ کیلئے نئے امکانات تلاش کررہی ہے۔

تازہ ترین