ہمارا اجتماعی رویہ اس قدر افسوسناک کیوں؟

 قومیں اپنے اجتماعی رویے سے پہچانی جاتی ہیں۔ کسی قوم کے اجتماعی رویے میں تہذیب اور بلند اخلاقیات اُس وقت منعکس ہوتی ہیں جب شرحِ خواندگی بلندیوں کو چھو رہی ہو اور اساتذہ کی اخلاقیات بھی اعلی درجے کی ہوں۔ بدقسمتی سے تاحال ہمارے یہاں یہ دونوں ہی روبہ زوال ہیں جس کی وجہ سے ہمارے اجتماعی رویے شرمناک حد تک خراب ہیں۔آج کے اسِ کرونائی عہد میں بھی جب جب لاک ڈاون اٹھایا جاتا ہے تو کیا ہم مصروف بازاروں میں بھیڑ بھار کرنے سے پرہیز کرتے ہیں؟ لائن بنا کر مسافر بس میں سوار ہوتے ہیں؟جہاں کہیں بھی پبلک بیت الخلا (ٹوائلٹس )ہیں،کیا ان کی صفائی اطمینان بخش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں؟کرونا کی وبائی بیماری سے بچنے کے لئے احتیاتی تدابیر پر عمل کرتے ہیں؟ اس وقت بھی گھروں میں کھانا ضائع نہیں کرتے ہیں؟ استاد اورامام کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہیں؟ چلتی گاڑی سے سڑک پر کوڑا نہیں پھینکتے ہیں؟ بجلی کی چوری ن

خوشی ہو کیوں کر عید کی !

 عیدالاضحی کی آمد آمد ہے ۔آج یوم عرفہ ہے اور ساری مسلم آبادی عید کی تیاریوں میں مصروف ہے ۔عمومی طور پر عید مسلمانوں کیلئے خوشی کا تہوار ہے لیکن جس ماحول میں عید کشمیر پر سایہ فگن ہورہی ہے ،وہ ماحول کوئی خوشی بھرا ماحول نہیں ہے۔ لوگ کربناک حالات سے دوچار ہیں، آہوں اور سسکیوں کی آواز یں ہمارے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ کورونا وائرس کی وباء سے دنیا کا نظام تہہ وبالا ہوچکا ہے ۔دنیا سمیت کشمیر لاک ڈائون کی پوزیشن میں ہے ۔لوگ نان شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں ۔سینکڑوں کی تعداد میں معصوم نوجوان زندانوں کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔سینکڑوں مائیں آج بھی دریچوں سے باہرٹکٹکی لگائے جھانک رہی ہیں کہ شاید ان کا لخت جگر عید کی خوشی میں شامل ہونے کے لئے ضرور آئے گا۔گھروں کے ٹوٹے درودیوار،ٹوٹے کھڑکیاں،تباہ شدہ املاک املاک اور اربوں روپے کی مالی قربانی زبان حال سے ہمارے ضمیرکوجھنجوڑ رہی ہے۔ ان جان گسل حال

عید الاضحی کی تیاریاں اورعوام

  عید ا لاضحی کی تقریب سعید کی آمد آمد ہے ۔کورونا کی عالم گیر وبا کے بیچ اگر چہ کافی حد تک اس عید کی خوشیاں ماند پڑچکی ہیں اور عوام میں وہ جوش و خروش نظر نہیں آرہا ہے جو روایتی طور عید کے ان ایام میں دیکھاجاتا تھا تاہم پھر بھی گزشتہ دو ایک روز سے بازاروں میں عید خریداری کے حوالے سے خاصارش پایا جارہا ہے ۔چونکہ عید مسلمانوں کا سب سے بڑا تہوار ہے تو اس پر خریداری کی ممانعت نہیں کی جاسکتی ہے اور لوگوں کو عید کی تیاریاں کرنے کا بھرپور حق ہے تاہم گزشتہ دو روز کے دوران جس طرح دیکھاگیا کہ سماجی دوریوںکا اس عمل میں کوئی پاس ولحاظ نہیں رکھاجارہا ہے ،وہ قطعاً دانشمندانہ فعل قرار نہیں دیاجاسکتا ہے ۔بلا شبہ آپ خریداری کریں لیکن یہ خریداری کرتے وقت آپ یہ بھی یاد رکھیں کہ وائرس آپ کے ارد گرد موجود ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کی کوششوںمیں آپ اپنی خوشیوںکو ہی محدو

کووڈ کہیں گیا نہیں… احتیاط جاری رکھیں!

 جموںوکشمیر کے بیشتر حصوں کووڈ لاک ڈائون تقریباً ختم ختم ہوچکا ہے اور اب صرف جزوی بندشیں جاری ہیں ۔بلا شبہ اس حکومتی اقدام سے لوگوںکو راحت ملی کیونکہ نہ صرف تجارتی و کاروباری سرگرمیاں کافی حدتک بحال ہو گئیں بلکہ ٹرانسپورٹ بھی کافی حد تک چل رہاہے اور یوں کم و بیش سماج کے سبھی طبقوں سے وابستہ افراد کو دو وقت کی روٹی کمانے کا موقعہ ملنے لگا ہے تاہم یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ بھلے ہی بندشوں میں نرمی کی جارہی ہو لیکن کورونا کہیں گیا نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے ساتھ ہی موجود ہے اور مسلسل ہمارا تعاقب کررہا ہے اور اب مسلسل تیسری لہر کی باتیں کی جارہی ہیں جبکہ یورپی ممالک اور مغرب میں بھی ایک خطرناک وائرس سٹرین کے آنے کی باتیں کی جارہی ہیں جس سے بیس سال کی عمر تک کے بچے بری طرح متاثر ہورہے ہیں  یہ انتباہ انتہائی پریشان کن ہے اور یقینی طور پر جہاں حکومت کیلئے نوشتہ دیوار ہونا چ

ٹریفک کا حال بے حال

 شہرسرینگر سمیت پوری وادی میں ٹریفک نظام کی بدحالی ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ ٹریفک نظام کی تباہی اور بربادی کے مسائل وہی ہیں ، جو کئی سال پہلے تھے لیکن ان مسائل کو مکمل طور حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ سڑکوں کی تنگ دامانی، گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ، عوام کی جانب سے قوانین و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں، محکمہ ٹریفک میںا نفراسٹرکچر اور افرادی قوت کی قلت جیسے مسائل کو حل کرنے کی جانب جب تک توجہ نہیں دی جاتی ، ٹریفک ہفتے تو کیا ’ ٹریفک سال ‘ منانے سے بھی کچھ نہیں بدلے گا بلکہ مسائل ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بڑھتے جائیں گے۔ پہلے تو ٹریفک جامنگ کا مسئلہ صرف شہر کے بالائی علاقوں تک محدود تھا ، اب ہائی ویز پر تمام قصبہ جات میں ٹریفک جامنگ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ بدقسمتی سے حکومتی سطح پر اس مسئلے کے تئیں اتنی سنجیدگی سے توجہ

بھوک کورونا سے بھی بڑی وباء

 جن لوگوں کو دن میں دو وقت کا کھانا نصیب ہوجاتا ہے ، وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں کہ اس کرہ ارض پر موجود لاکھوں افرادایسے بھی ہیں جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے اور وہ بھوک سے مر جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جو لوگ نمود و نمائش پر فخر محسوس کرتے ہیں اورخود نمائی اور اپنے آپ کو بڑا آدمی ظاہر کرنے کی کوشش میں پیسہ ضائع کرتے ہیں،اُنہیں اپنے اس وطیرہ پر شرم آنی چاہئے۔وہ اپنی دولت کی نمائش نہیں کررہے ہوتے ہیں بلکہ وہ دراصل اُن اموا ت پر جشن منارہے ہوتے ہیںجو بھوک اور افلاس کی وجہ سے رونما ہوتی ہیں۔کووڈ وبائی دور میں بھوک اور افلاس کا یہ بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔ وہ لوگ جو اس وبائی بحران سے پہلے اچھی زندگی گزار رہے تھے ، اب وہ دو وقت کی روٹی حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔دنیا میں لاکھوں خاندان ایسے ہیں جن کا روزگاراس وبائی بحران کی وجہ سے ختم ہوچکا ہے ، اور ان میں ایک اچھی خاصی

برساتی پانی سے شہرپھر پانی پانی ہوگئے!

  جموںوکشمیر میں گزشتہ رات سے ہوئی بارشوں نے ایک بار پھردارالحکومتی شہروں سرینگر اور جموںمیں ناقص ڈرینج سسٹم کی قلعی کھول کررکھ دی ہے کیونکہ محض چند گھنٹوں کی بارش سے دونوں شہرپانی پانی ہو گیا۔بارشوں کے پانی سے نہ صرف سڑکیں اور گلی کوچے زیر آپ آگئے بلکہ جموںشہرسرینگر کے سیول لائنز اور بالائی حصے میں متعدد علاقوں میں پانی رہائشی مکانات اور تجارتی مراکز میں داخل ہو گیا۔ہر سو پانی جمع ہونے کے نتیجہ میں صورتحال اس قدر سنگین بن چکی تھی کہ کئی علاقوں میں عبور و مرور ناممکن بن چکا تھا۔ہر بار کی طرح اب کی بار بھی انتظامیہ کے اہلکاروں اور انجینئروں کو’’حالت جنگ میں خندق کھودنے ‘‘کے مصداق کئی مقامات پر ڈی واٹرنگ پمپ نصب کرتے ہوئے دیکھا گیا تاکہ ان شہروں کو پانی پانی ہوتے دیکھ کر خود پانی پانی ہونے سے بچ سکیں اور لوگوں کو یہ تاثر دیں کہ ’’قدرت‘&lsq

سڑک حادثات کا سلسلہ کب تھمے گا؟

 محکمہ ٹریفک کے مطابق گذشتہ 4برسوں میں جموںوکشمیرکے مختلف علاقوں میں سڑک حادثات کے دوران 4ہزارسے زائد شہری لقمہ اجل بن گئے ہیں ۔ دیگر شاہرائوں کے ساتھ ساتھ سرینگرجموںقومی شاہراہ پر تواتر کے ساتھ رونما ہونے والے خونین حادثات نے ایک بار پھراس شاہراہ کی تعمیرو و تجدید کیلئے ایک موثر اور تخلیقی منصوبے کے تحت اقدامات کرنے کی ضرورت کا احساس اجاگر کیا ہے۔ دنیا بھر میں شاہرائوں کو ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایک اہم ترین شاہراہ جو اس خطے کو باقی دنیا سے جوڑنے کا واحدزیر استعمال زمین ذریعہ بھی ہے، دردناک اموات کی علامت بن کررہ گئی ہے۔یہ حادثے اور اس میں ہوئی اموات دراصل دہائیوں سے اس موت کی شاہراہ پر ہونے والے لاتعداد حادثات اور ہزاروں اموات کا تسلسل ہے۔المیہ بھی یہی ہے کہ مسلسل حادثات اور اموات کے باوجود اب تک کسی بھی حکومت نے سرینگر۔ جموںقومی شاہراہ کی تجدید نو

پانی نایاب…لوگوں کی پیاس بجھے تو کیسے؟

  گرمی میں شدت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ شہر سرینگر کے پائین اور بالائی علاقوں میں پانی کی قلت سے ہاہار کار مچنے لگی ہے۔ایک طرف آبپاشی کی چھوٹی بڑی نہروں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح کافی حد تک بڑھ چکی ہے ،دوسری جانب جس طرح پینے کے پانی کی قلت کا مسئلہ پیدا ہوا ہے ،وہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ محکمہ آب رسانی میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے۔ اگرچہ شہر سرینگر اور بیشتر قصبہ جات میں کافی عرصہ سے پانی کی سپلائی میں کٹوتی کا سلسلہ جاری ہے اور صرف صبح و شام کے اوقات میں چند گھنٹوں کیلئے پانی فراہم کیا جاتا رہا ہے، مگر ادھر کچھ عرصہ سے یہ سلسلہ بھی قائم نہیں رہ پایا اور پانی کی سپلائی کئی کئی دن تک منقطع کر دی جاتی ہے۔ پائین شہر کے کئی علاقوںمیں پانی کی قلت سے لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیا جبکہ بالائی شہر کے عمر کالونی لا ل نگر چھانہ پورہ اور باغ مہتاب کی کئی کالونیوں کے علاوہ برزلہ سے بھ

سڑکوں کی تعمیر و تجدیدبے ہنگم نہ ہو!

 ہر سال حکومت ترقیاتی سرگرمیوں کے لئے کچھ اہداف طے کرتی ہے۔ ان میں ، معمول کی سرگرمیوں میں سے ایک نئی سڑکیں بنانا ، تباہ شدہ سڑکوں کی مرمت اور سڑک کی سطح کو بلیک ٹاپ کرنا ہے۔ اس سال بھی حکومت نے سڑکوں کی ایک مخصوص لمبائی کو بلیک ٹاپ کرنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا ہے اورویسے بھی ہماری سڑکوں پر موسم کی تاثیرکو دیکھتے ہوئے جموں و کشمیر میں ہمیشہ اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے ہم نے دیکھا ہے کہ ترقی کے اس شعبے میں کام بہت سست رفتاری ہوا۔اگر یوں کہاجائے کہ وادیٔ کشمیر میں سڑکوں کو بلیک ٹاپ کرنا موسمی سرگرمی ہے تو بیجا نہ ہوگاکیونکہ یہ کام سردیوں کے مہینوں میں نہیں کیا جاسکتا ، جس کا مطلب ہے کہ اگر زیادہ نہیں تو تقریباً نصف سال تک ایسی کوئی سرگرمی انجام نہیں دی جاسکتی ہے۔ لہٰذا ہمارے پاس یہ کام کرنے کے لئے صرف کچھ مہینوں کا وقت ہی ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ کام کی رفتاراگر زیادہ

ناجائز تجاوزات کیخلاف مہم

 گزشتہ کچھ عرصہ سے جموں شہر کے مضافات میں ایک مخصوص طبقہ سے وابستہ آبادی کے مکانات یہ کہہ کر مسمار کردئے جارہے ہیں کہ وہ جنگلاتی اراضی پر تعمیر کئے گئے ہیں۔انہدامی مہم کے تازہ واقعات اپنی نوعیت کا نہ کوئی پہلا واقعات تھے اور نہ آخری ہونگے۔یہ مہم اب گزشتہ چند برس سے جاری رہے اور شاید آگے بھی جاری رہے گی ۔سرکاری و جنگلاتی اراضی پر ناجائز قابضین کو یقینی طور پر بے دخل کیاجانا چاہئے اور اس میں کسی قسم کا امتیاز نہیں برتنا چاہئے ۔سرکاری یا جنگلاتی اراضی اقلیتی کسی بھی طبقہ نے ہڑپ کر لی ہو، قانون کی نظروں میں سبھی قصور وار ہیں اور اس کی سزا ایسے قابضین کو ضرور ملنی چاہئے تاہم جہاں سرکاری مشینری جنگلاتی و سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ چھڑانے میں اتنی منہمک ہیں وہیں سرکار کو اوقاف اراضی پر برسہا برس سے جاری غیر قانونی قبضہ سے آنکھیں نہیں چرانی چاہئیں۔ ارباب بست و کشاد کو معلوم ہوگا کہ پ

کورونا آفت کا سب سے بڑاسبق

 کوئی بھی آفت متاثرہ علاقے اور لوگوں کو ویسا نہیں چھوڑتی جیسے وہ اس آفت سے پہلے ہوتے ہیں اور کورونا آفت جیسی ناگہانی آفت نے یقینی طور پر کسی مخصوص علاقہ کو نہیں بلکہ ساری دنیا کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا ہے ۔اس آفت سے جو گہرے گھائو لگے ہیں ،اُن کو بھرنے اور ایک نئی شروعات کرنے میں بہت زیادہ وقت اور کوششیں درکار ہیں تاہم وہ اتنا آسان نہیں ہوگا اور اس میں بہت سارا وقت لگے گا کیونکہ کووڈ وباء کی وجہ سے عالم انسانیت نفسیاتی ،مالی اور سماجی اعتبار سے بالکل ہل چکی ہے ۔ ہر سطح پر ٹوٹ پھوٹ کے اثرات جلد ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ یقینا خود سے قطعی نہیں ہونگے۔ ہمیں بنی نوع انسان کو کورونا وباء کی وجہ سے پیدا ہونے ان شدید ترین بحرانوں سے نکالنے کے لئے ادارہ جاتی کوششوں کی ضرورت ہوگی ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایک بار معیشت کے پہیے حرکت کرنا شروع کردیں گے تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ اگرچہ یہ ایک ط

کووڈ اَن لاک…احتیاط میں ہی عافیت !

 جموں کشمیر میں حکام نے مزید 6 اضلاع میں ہفتہ وارکورونا کرفیو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ریاسی میں اسے دوبارہ نافذ کردیا گیا ہے۔ابھی تک مرکزی زیر انتظام خطے میں 20 میں سے 13اضلاع میں ہفتہ وار بندشیں کو ہٹایا گیا ہے۔جن 6اضلاع سے بندشیں ہٹائی گئیں ہیں ان میں پونچھ، راجوری، اننت ناگ، بارہمولہ، بڈگام اور پلوامہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کل کے حکم نامہ میںشاپنگ مالوں اور ریستورانوں کو بھی راحت دی گئی ہے جو اپنی سرگرمیاں پچاس فیصد صارفین کے ساتھ بحال کرسکتے ہیں۔مجموعی طور پر دیکھاجائے تو جموںوکشمیر میں حالات بتدریج معمول پر آرہے ہیں ۔جوں جوں کورونا معاملات میں کمی آرہی ہے ،لاک ڈائون کا سلسلہ بھی نرم ہوتا جارہا ہے۔پہلے مرحلہ میں جہاں مکمل لاک ڈائون کو جزوی کیاگیا ۔اس کے بعد دوسرے مرحلہ میں جمعہ کی شام تا پیر کی صبح تک ہفتہ وار کرفیو کا سلسلہ شروع کیاگیالیکن جب کورونا حالات میںمزید بہتری دی

بھارت۔ پاک تعلقات میں بہتری

  فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروانے نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدوں پر فائر بندی کے بعد جموںوکشمیر میںصورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور گزشتہ کئی ماہ سے لائن آف کنٹرول پر مکمل طور پر امن ہے۔قابل ذکر ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے مقصد سے اچانک اور اہم اقدام کے تحت ہندوستان اور پاکستانی فوج نے 25 فروری کوکنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدہ کا اعادہ کیاتھا۔یکم جولائی کونئی دہلی میںایک تھنک ٹینک کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل نروانے نے کہا کہ چونکہ سرحدوں پرجنگ بندی ہے لہٰذا اب مزید دراندازی نہیں ہورہی ہے اور چونکہ نئی کوئی دراندازی نہیں ہے تو وادی میں موجودملی ٹنٹوں کی تعداد بھی کم ہوئی ہے اور ملی ٹنٹوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے تشدد کے واقعات کی تعداد میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔فوجی سربراہ کا یہ بھی کہناتھا کہ چونکہ تشدد کے تمام پیمانوں میں گراوٹ آچکی ہے تو اس سے ثابت ہوت

عوا م دوست حکومت ہی بہتر نظا م حکومت

 جموںوکشمیر یوٹی میں’’ بہتر حکمرانی کے طریقہ کار کے اطلاق ‘‘پر دو روزہ علاقائی کانفرنس سرینگر میں ’ بہتر نظام حکومت: کشمیرا علامیہ ‘ قرار داد کی منظور ی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔اِختتامی تقریب کی صدارت لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر نے کی  اورانہوں نے ’ بہتر نظام حکومت : کشمیرا علامیہ ‘ بھی جاری کیا۔اس اعلامیہ کے مطابق مرکزی حکومت کے متعلقہ محکمے جموںوکشمیر حکومت کے ساتھ قومی بہتر حکمرانی عشاریہ کے طرز پر جموںوکشمیر میں ضلعی سطح پر بہتر حکمرانی انڈیکس کی تیاری میں اشتراک کریں گے جبکہ حکمرانی کے طریقہ کار میںجموںوکشمیر کے 2ہزار سرکاری افسران کی صلاحیت سازی کیلئے جموںوکشمیر یوٹی اور مرکزی حکومت تعاون کرنے کے مکلف ہونگے جبکہ اس کے علاوہ امسال اور اگلے سال جموںوکشمیر میں بہتر حکمرانی کے موضوع پر مزید دو علاقائی اور قومی

دربار مو کی روایت کا خاتمہ بالخیر!

  جموں و کشمیر انتظامیہ نے گزشتہ روزدربار مو ملازموں کو سرکاری رہائش گاہیں خالی کرنے کی ہدایات دیں۔ان ملازمین سے کہا گیا ہے کہ وہ یونین ٹریٹری کی دونوں دارالحکومتوں سری نگر اور جموں میں تین ہفتوں کے اندر اندر سرکاری رہائش گاہوں کو خالی کریں۔انتظامیہ کا فیصلہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے دربار مو کی قدیم روایت کو ختم کرنے کے اعلان کے کچھ دن بعد لیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے 20 جون کو اعلان کیا تھا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ اب مکمل طور پر ای آفس کے ذریعے کام کاج سنبھال رہی ہے اور اس طرح ششماہی دوبار مو روایت کا خاتمہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا تھاکہ دربار مو کے خاتمے سے انتظامیہ کو سالانہ دو سو کروڑ روپے بچ جائیں گے جن کو سماج کے پسماندہ طبقے کی فلاح وبہبود پر صرف کیا جائے گا۔یوںاب یونین ٹریٹری کی دونوں دارلحکومتوں سرینگر اور جموں میں سیکریٹریٹ سال بھر چلتا رہے گا۔ قریب150برس سے جاری دربار

کورونا وباء اور تعلیمی بحران

 کورونا وائرس ایک ناگہانی بلا کی صورت میںدنیا پر مسلط ہے۔ دنیا کا کوئی ملک اس بلائے ناگہانی کا سامنا کرنا تو کجا اس سے بچائوکا متحمل نہیں ہے۔مسلسل دوسرے سال کورونا کے پھیلائو کا سب سے بڑا خطرہ سکولوں اوراعلیٰ تعلیمی اداروں پرمنڈلاتے دیکھ کر انہیں فوراً بند کردیا گیا جس کی وجہ سے روایتی طریقہ تعلیم اب اس سال بھی تقریباً چار ماہ سے تقریباً منقطع ہوچکا ہے ۔ جو غیر یقینی صورتحال پہلے تھی آج بھی جوں کی توں برقرار ہے۔ہم دنیا کے ایک ایسے حصے میں رہتے ہیں جہاں ہنگامی حالات کوئی نئی بات نہیں بلکہ اب تو ہم ان حالات کے اتنے عادی ضرور بن گئے ہیں کہ ان حالات میں بھی کسی نہ کسی طرح اپنے مسائل کا حل نکال ہی لیتے ہیں۔ تاہم اس بار صورتحال کچھ مختلف ہے کیونکہ یہ حالات ہمارے نظامِ تعلیم کیلئے آزمائش بن کر آئے ہیں ۔ایک وقت تھا جب معاشر ے میں روایتی تعلیم کو اہمیت دی جاتی تھی لیکن آج اس عالمی وبا

مضر صحت ملاوٹی غذاوؤں کی فروخت

 لاک ڈاون میں ڈھیل کے دوران بھی کشمیرکی بیشتر سڑکوں پرتلے آلو ، مٹھائیاں اور دیگر پکے ہوئے غذائی اجناس فروخت کرنے والے خوانچہ فروشوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگ اور جلدی میں سفر کرنے والے مسافروں کی ایک بڑی تعداد اپنی بھوک مٹانے کیلئے انہی خوانچہ فروشوں کے سامنے بیٹھ کر غذائی اجناس کھاتے ہیں۔جہاں سڑکوں اور بازاروں میں ایسی ہی چھاپڑیوں پر غذائی اجناس خرید کرکھانے والے عام لوگوں کی شکایت ہے کہ سڑکوںپر ملنے والے غذائی اجناس غیر معیاری اور ملاوٹی ہوتے ہیں وہیں بڑے نام رکھنے والے ریستورانوں اور بیکری دکانوں کا بھی حال اس سے کچھ مختلف نہیں ہے اور اب ڈبہ بند خوراک نے یہ تمیز ہی ختم کردی ہے ۔چھاپڑی فروشوں، دکانوں اور ریستورانوں میں لوگوں کو فروخت کئے جانے والے غذا کی وجہ سے صارفین دست ، بخار اور دیگر بیماریوں کے شکار ہوتے ہیںجبکہ Processed Foodبنانے والے ا

اخلاقی انحطاط: بے حسی اور خاموشی اس کا علاج نہیں

 اخلاقی انحطاط طوفان کی تیزی کے ساتھ ہمارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔بے راہ روی ،بد اخلاقی ،بے ایمانی ،رشوت خوری اور کنبہ پروری نے لوگوں سے غلط اور صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اجتماعی حس نام کی چیز ہی جیسے عنقا ہوگئی ہے اور لوگوں کی اکثر یت اس تشویشناک صورتحال سے بالکل بے پرواہ ہے۔ایک وقت تھا جب یہی قوم اپنی شائستگی ،اخلاق اور ایمانداری کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنی مثال آپ تھی، تو پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ ہمارے سماج کا تانا بانا اس حد تک بکھر گیا کہ اب ہماری انفرادی شناخت کو بھی خطرہ لاحق ہوا ہے ۔ اگر چہ اس سب کیلئے کئی ایک عوامل کارفرما ہیں تاہم عمومی طور پر نوجوان نسل کی بے حسی اور انتظامی غفلت شعاری کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیا جارہا ہے لیکن کیا واقعی ہماری نوجوان نسل اکیلی اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوگئی ہے ؟۔ مسئلہ کا اگر باریک بینی سے جا

خواتین پر گھریلوتشدد کے واقعات

  کرونا قہر کی تباہ کاریوں کے دورا ن بھی اخبارات کے توسط سے یہ خبریں منظر عام پر بدستور آرہی ہیںکہ وقفہ وقفہ کے بعدکوئی نہ کوئی خاتون گھریلو تشدد کی شکار ہورہی ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق سرینگر کے صدر ہسپتال میں ہفتے میں اوسطاً ایک خاتون کو داخل کیاجاتا ہے جو گھریلو تشدد کی نذر ہوئی ہوتی ہے۔ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بیشتر خواتین گھریلو تشدد کی وجہ سے تنگ آکر اپنے آپ کو آگ سے جھلسا دیتی ہیں اور اس وقت بھی ہسپتال کے برن وارڈ میں کئی خواتین جھلس جانے کی وجہ سے موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ماہرین سماجیات کی جانب سے حال میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق کشمیر میں40فیصد سے زائد خواتین گھریلو تشدد کی شکار ہیں۔سروے کے مطابق گھریلو تشدد کے بیشتر معاملات میں وجوہات جہیز ،سسرال والوں کی مداخلت ،غلط فہمی ،شوہر کی طرف سے زیادتیاں، بچیوں کو جنم دینا وغیرہ شامل ہیں۔سرکاری اعدادوشمار کے

تازہ ترین