تازہ ترین

سڑک حادثات … انسانی جانوں کا ضیاع کب رُکے گا؟

 سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جموں سرینگر قومی شاہراہ پر گزشتہ ایک دہائی کے دوران 8ہزار سڑک حادثات رونما ہوئے ہیں جن میں1750انسانی جانیں تلف ہوئی ہیںجبکہ12,131لوگ ان حادثات میں زخمی ہوچکے ہیں۔یہ اعداد وشمار اپنے آپ میں بتارہے ہیں کہ جموں وکشمیر میں ٹریفک کنٹرول کا نظام اپنی ابتری کی انتہاء کو پہنچ چکاہے۔ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب کسی نہ کسی علاقے سے سڑک حادثات میں انسانی زندگیوں کے اتلاف کی خبریں موصول نہ ہوتی ہوں۔اس طرح کی اموات اب معمول اور معمولات کا حصہ بنتا جارہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اخبارات میں بھی حادثاتی اموات کی خبریں سرسری طور شائع کی جاتی ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ سڑک حادثات صرف ہمارے یہاں ہی رونما ہورہے ہیں۔ سڑک حادثات دنیا کے ہر خطے میں رونما ہوتے ہیں اور ان میں انسانی جانوں کا اتلاف بھی ہوجاتا ہے لیکن پریشان کن بات یہ ہے کہ جموںوکشمیر میں تسلسل کے ساتھ ہر دن حادثاتی اموات ک

صنعتی سیکٹر کے تئیں حکومتی سنجیدگی خوش آئند

 لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی سربراہی میں 22جنوری کو منعقدہ انتظامی کونسل کی میٹنگ میں جموں اینڈ کشمیر انڈسٹریل لینڈ الاٹمنٹ پالیسی 2021-30 کو منظوری دی گئی جس کے تحت جموں اور کشمیر میں یکساں صنعتی ترقی کو فروغ دینے کیلئے ایک منظم صنعتی لینڈ بنک کے قیام کو بھی منظوری ملی۔ نئی پالیسی کے تحت صنعتی علاقوں کیلئے مختلف معاملات کو مدِ نظر رکھ کر بلاک اور میونسپل سطح پر زون مقرر کئے جائیں گے ۔ پالیسی کے تحت 30 دنوں کے اندر صنعتوں کیلئے اراضی کی الاٹمنٹ سے متعلق درخواستوں کی جانچ پڑتال اور اُن کا جائزہ لینے کیلئے صوبائی سطح کی پروجیکٹ اپرائیزل اور ایولویشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی ۔ چوٹی کی سطح کی لینڈ الاٹمنٹ کمیٹی ، ہائی لیول لینڈ الاٹمنٹ کمیٹی اور صوبائی سطح کی لینڈ الاٹمنٹ کمیٹی 45دنوں کے اندربالترتیب200 کروڑ ، 50 سے 200 کروڑ اور 50 کروڑ روپے کی مالیت کے پروجیکٹوں کیلئے دی گئی درخواست

دفاعِ ارد و کی اشد ضرورت ہے !

  ارود برصغیر ہند وپاک کی واحد زبان ہے جودرۂ خیبر سے چاٹگام اور میانمار سے قلات تک مروج ہے ۔ عرب دنیا اور لندن ، امر یکہ اور پورپ میں بھی اس کے چرچے ہورہے ہیں ۔ یہ ہر معنی میں ایک مقبول عام مخلوط زبان ہے جس کی اپنی ا یک مخصوص شریں تہذیب ہے۔ اگرچہ اس زبان کے حروف تہجی سے لے کر جملوں کی بناوٹ ، تذکیر وتانیث اور واحد جمع تک اپنے منفرد اصول ہیں ، بایں ہمہ عربی ، فارسی اور پراکتوں نے اس کے کاکل سنوار نے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ عربی زبان کی خوشبوئیں  براستہ سندھ گجرات اس عوامی زبان میں جذب ہوئیں اور فارسی کی لذتوں کے باوصف شمالی ہند تک پھیل کر اردو کے دامن ِارتقاء وسیع ترکر گئیں۔ یہ دونوں زبانیں اس نئی نویلی بولی کو گنگا جمنا کے دوآبے میں لے گئیں توایک نئی شاندار لسانی تہذیب کا جنم ہو ا ۔ آگے دلی مسلم حکمرانوں کی قلمرو میں آگئی تو اردو عربی ، فارسی اور پراکرتی بولیوں کے ح

متاثرین ِآفات

 روئے زمین پر جدید دور میں سب سے اہم ادارہ ، در حقیقت تمام اداروں کی ماں ، ہمہ گیر معنوں میں ریاست ہی ہے۔ اس میں اجتماعیت کے تمام افعال کا احاطہ کیا گیا ہے اور جدید دور کے بین الاقوامی نظام کی بنیاد بنتی ہے۔ ریاست کا ایک اہم کام معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان توازن برقرار رکھنا اور دستیاب وسائل کو منصفانہ اور مؤثر انداز میں تقسیم کرنا ہے۔ جوریاست یہ کام کرتی ہے وہ کامیاب کہلاتی ہے اور جویہ کام کرنے میں ناکام رہتی ہے ،وہ لوگوں کی نظروں میں جواز کھو دیتی ہے۔ ایک ہی کام کی قدرتی اور منطقی توسیع ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو کسی وجہ سے مالی یا دوسرے بحران میں الجھے ہوئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا کی ریاستیں معاشرے کے ان طبقوں کے لئے پیکیجوں اورسکیموں کا اعلان کرتی ہیں جنہیں انسا ن کی لائی ہوئی یا قدرتی تباہی کا سامنا کرنا پڑاہو۔ ایسے تمام حالات میں ،چاہئے وہ زلزلہ ہو ، سیلاب ہو یا آ

بٹھنڈا۔سرینگر گیس پائپ لائن منصوبہ

  گزشتہ دنوں گریٹر کشمیر کے صفحہ اول پر بٹھنڈا سرینگر گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق ایک خبر شائع ہوئی تھی جس میں ایک اس رپورٹ کی مسلسل تاخیر کا احوال پیش کیاگیا تھا۔جون2011میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بٹھنڈا پنجاب سے جموں کے راستے سرینگر تک328 کلو میٹر گیس پائپ لائن کے اہم پروجیکٹ کی منظوری دی تھی جسے تین سال میں مکمل کرنے کا اعلان کیاگیا تھا۔پانچ ہزار کروڑ روپے مالیت کے اس پروجیکٹ کو جولائی 2011میں ہی شروع کیاگیااورجولائی2014تاریخ تکمیل مقرر کی گئی تھی تاہم10برس بیت جانے کے بعد آج صورتحال یہ ہے کہ اس پروجیکٹ کا عملی آغاز ہونا باقی ہے ۔ یہ پروجیکٹ اس لئے انتہائی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ یہ متبادل توانائی کامؤثر ذریعہ بن سکتا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ مقررہ مدت کے اندر اندر اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی اور اس کے بعد اس پروجیکٹ پر پیش رفت کے حوالے سے جائزہ میٹنگیں

ماہرِ امراض خواتین معالجین کی قلت

نیشنل ہیلتھ مشن یاقومی صحت مشن کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مجموعی طور دیہی علاقوںمیں طبی سہولیات بہتر بنانے کے علاوہ خصوصی طور پر زچگی کے دوران نوزائیدوں کی شرح اموات میں کمی لانے کیلئے ادارہ جاتی زچگی کو فروغ دیا جائے ۔گوکہ اس مشن کے نتیجہ میں ہسپتالوں میں ہونے والے زچگی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے تاہم دیہی علاقوں کے طبی مراکز میں آج بھی ماہر امراض خواتین کی شدید قلت پائی جارہی ہے اور اس پر طرہ یہ کہ ماہر ڈاکٹروںکی عدم موجودگی میں محض ووٹ بنک سیاست کے تحت گزشتہ کچھ برسوں کیلئے ایک کے بعد زچگی مراکز کھولے گئے۔دستیاب اعدادوشمار کے مطابق دیہی کشمیر کے تقریباً ساٹھ ہسپتالوں میںمحض 44ماہر امراض خواتین تعینات ہیں جبکہ انڈین پبلک ہیلتھ سٹینڈارڈ کی جانب سے وضع کردہ ضوابط کے مطابق ہر ضلع ہسپتال میں کم از کم دو جبکہ ہرکمیو نٹی ہیلتھ سنٹر یا سب ضلع ہسپتال میں ایک ماہرامراض خواتین تعینات ہونا چاہئے ۔

وبائی بحران میں عبرت کاسامان!

 گوکہ کورونا وائرس کی ویکسین آنے سے عالم انسانیت نے کسی حد تک راحت کی سانس لی ہے تاہم اس وائرس نے جس طرح دنیا کو صدی کی بدترین اقتصادی مندی سے دوچارکردیا ہے،اُس سے ابھر نے میں ابھی بھی سالہا سال لگ سکتے ہیں ۔آرگنائزیشن آف اکنامک کواپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ سمیت متعدد عالمی مالیاتی اداروںکے تازہ ترین تخمینوںکے مطابق اب تک سینکڑوں ملین لوگ روزگار سے محروم ہوچکے ہیں اور اگر وباء کی تیسری لہر نہ آئی تو امسال عالمی معیشت کے شرح نمو میں6فیصد کمی آئے گی اور اگلے سال اس میں کچھ حد تک بہتری آئے گی اور2.8فیصد کا اضافہ ہوسکتا ہے لیکن اگرتیسری لہر آئی تو عالمی معیشت میں8فیصد تک کمی ہوگی جو صورتحال کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے کافی ہے۔ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیوتریس نے حالات کی جو مایوس کن منظر کشی کی ہے ،وہ دل کو پسیج کر رکھ دینی والی ہے۔ اُن کا کہناتھا کہ آج بھی 820ملین لوگ

بی ایس این ایل…

  آج سے16سال قبل وادی میں جب بی ایس این ایل کی موبائل فون سروس شروع ہوئی تھی، تو عام لوگوں کو یہ گمان گزرا تھا کہ وہ ترسیل و ابلاغ کے حوالے سے ایک بڑی جست لگا کر قدامت کی سرحدوں کو پھاند رہے ہیں،لیکن روزِ اول سے ہی ثابت ہوگیا کہ بھارت سنچار نگم لمیٹڈ کی سروس محدود ہونے کے ساتھ ساتھ صارفین کی ضروریات اور جذبات کے معاملے میں نہ صرف تہی دامن واقع ہوا ہے،بلکہ بے حسی کے پنگوڑے جھولنے میں مصروف ہے۔ پہلے پہل بنیادی ڈھانچے کی کمی کو وقت کے ساتھ ساتھ پورا کرنے کی بی ایس این ایل کی یقین دہانیوں پر صارفین بھی صدق دلی کے ساتھ اعتبار کر رہے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ یقین دہانیاں بھونڈا مذاق ثابت ہوئیں، کیونکہ سروس میں کسی قسم کی بہتری پیدا ہونے کی بجائے بگاڑ میں مزید اضافہ ہوگا۔ اگرچہ اس وقت وادی کے سیل فون مارکیٹ میں مزید کئی کمپنیاں بھی موجود ہیں جن میں سے کچھ نے دھوم مچا رکھی ہے ۔

ماحولیاتی آلودگی اور انسانی مداخلت! | جاگ جائیں اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے

ماحولیات کے بچائو کے لئے مسلسل آوازیں اٹھائی جارہی ہیں۔گزشتہ ہفتے ہی وزیراعظم نریندرمودی نے فضاء میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم کرنے کے سلسلے میں بھارت کے عزم کا اعادہ کیا او رکہا کہ بھارت عالمی برادری کے ساتھ مل کر ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کی ہر پہل کا ساتھ دے گا عالمی سطح پر مسلسل جنگلات کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرکے ماحول میں اس کی اہمیت باور کرائی جارہی ہے۔گزشتہ دنوںایک ویب نار کے ذریعے کشمیر کے سرکردہ ماہرین ماحولیات نے اس سنگین مسئلہ پر سیر حاصل گفتگو کی اور جموںوکشمیر میں ماحولیات کو درپیش خطرات پر مفصل روشنی ڈالی۔ زمین پر خشکی کا ایک تہائی حصہ جنگلات پر مشتمل ہے اور 1.6بلین لوگوں کا انحصار جنگلات پر ہے۔ انسان کرہ ارض پر ڈیڈھ کروڑ انواع میں سے ایک ہے۔ انسان دنیا کے ان جانداروں میں سرفہرست ہے جن کی تعداد اس سیارے پر بڑھ رہی ہے۔ اکثر جانوروں اور پودوں کی آبادی

کشمیری زبان کا فروغ

  نئی تعلیمی پالیسی 2020 کی سفارشات کے مطابق کشمیری زبان و ادب کو فروغ دینے کیلئے کشمیر یونیورسٹی میں جلد ہی اکیڈیمی آف کشمیری لنگویج قائم کی جائے گی۔رئیس جامعہ کشمیرپروفیسر طلعت احمد کے مطابق اکیڈیمی کے قیام سے نہ صرف اضافی فنڈ دستیاب ہونگے بلکہ یہ مزید فیکلٹی عہدوں کے قیام کا باعث بنے گی ۔ پروفیسر طلعت نے کہا کہ یہ اکیڈیمی ترجمے کے بارے میں مختصر نصاب پیش کر سکتی ہے تاکہ کشمیری ادب ، فلسفہ اور ثقافت کا بھرپور خزانہ پوری دنیا تک پہنچ سکے۔یہ اعلان انتہائی امید افزاء ہے کیونکہ عملی طور پر سرکاری سطح پر کشمیری زبان کو دیس نکال دیا گیا ہے اور رسمی طور ہائی سکول سطح پر ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھائے جانے کے علاوہ اس کی ترویج کیلئے عملی طور کچھ نہیں کیاجارہاہے ۔کشمیری زبان کی زبوں حالی پر آج کل بہت سے لوگ ماتم کناں ہیں ۔کچھ حکومت کی عدم توجہی پر نالاں توکچھ اپنی غفلت پر خفالیکن حقیقت ی

نیاصنعتی پیکیج اُمید افزاء

 لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے گزشتہ دنوںجموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکز کے ذریعہ صنعتی شعبے میں صنعتی نمو ، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کیلئے 28400 کروڑ روپے مالیت کے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ پیکیج2021کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی کابینہ نے جموں وکشمیر کیلئے 28400کروڑ روپے مالیت کے صنعتی پیکیج کو6 جنوری کومنظور کیا اور اس کا مقصدمرکزی انتظام والے علاقے میں صنعتی سیکٹر کو فروغ دیکر ساڑھے4 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرنا ہے۔منوج سنہاکاکہناتھاکہ جموں وکشمیر میں یہ کثیرالمقاصدصنعتی پیکیج 17 سال تک یعنی 2037 تک لاگو رہے گا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ مرکز کے منظورکردہ صنعتی پیکیج کے تحت جموں وکشمیر میں 20ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نئے صنعتی پیکیج کے اعلان کے ساتھ ہی مرکزی حکومت نے ایک بار پھرصنعتی نمو ، خوشحالی اور روزگار کے بیج بونے کے لئے

بجلی کی فراہمی…ذمہ داریوں سے فرار بجا نہیں

 یوں تو سردیاں شروع ہوتے ہی موسم سرما کی آمد کا اعلان ہوتا ہے ۔وادی میں بھی اگر چہ سردیوں کی شدت ہی سرما کا آغاز مانا جاتا ہے لیکن یہاں چند اور ایسی چیزیں بھی ہیں جو سرما کی آمد کا اعلان کرتی ہیں ۔ان علامات میں بجلی کٹوتی شیڈول میں بے پناہ اضافہ اور پانی کی قلت سر فہرست ہیں ۔جونہی بجلی کی آنکھ مچولی عروج پر پہنچتی ہے تو لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ حکومت نے موسم سرما کا اعلان کردیا ہے۔امسال بھی حسب روایت اس شیڈول پر خاموشی سے عمل شروع کیا گیا لیکن اس سے قبل بجلی کی سپلائی پوزیشن انتہائی ناگفتہ بہہ بن جائے ،حکومت نے ذمہ داریوں سے دامن جھاڑنے کیلئے رسم ِ دنیا نبھانے کی خاطر لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ صبح اور شام کے اوقات میں بجلی کا منصفانہ استعمال کریں تاکہ لوڈ شیڈنگ کی کم سے کم ضرورت پڑے۔ سرکار کا ماننا ہے کہ اگر صارفین اپنے ایگریمنٹ کے مطابق بجلی کا استعمال کریں گے تو بجلی کٹوتی ک

کشمیر میں ایمز کا قیام … مسلسل تاخیر کیوں؟

 وادی میں آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا قیام ہنوز ایک خواب بنا ہوا ہے کیونکہ پانچ سال گزر جانے کے باوجود بھی تاحال اس وقاری ادارہ کا تعمیری کام شروع نہیں کیاجاسکا ہے ۔خیال رہے کہ سات نومبر2015کو وزیراعظم نریندر مودی نے اونتی پورہ میں ایمز کے قیام کا اعلان کیاتھااور مرکزی حکومت نے 1828کروڑ روپے کے تخمینہ کی لاگت سے اس پروجیکٹ کو منظوری بھی دی تھی ۔اس طرز کا ایک انسٹی چیوٹ جموں کو بھی دیاگیاتھا جس کیلئے وجے پور سانبہ کا انتخاب عمل میں لایاگیاتھا اور وہاں تعمیری سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں تاہم افسوس کا مقام ہے کہ کشمیر میں اس انسٹی چیوٹ کے قیام کے سلسلہ میں سرد مہری کا مظاہرہ کیاجارہا ہے اور ابھی ٹیندر نگ کے عمل سے بھی آگے نہیں بڑھ پارہا ہے۔ایمز کے قیام کیلئے اونتی پورہ میں تعمیراتی ایجنسی سینٹرل پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کو 1886کنال اراضی بھی دستیاب کرائی گئی تاہم حیرت کا

موبائل انٹرنیٹ … اب اور کتنا انتظار ؟

  جموںوکشمیر حکومت  کے محکمہ داخلہ نے8جنوری کی رات کو جاری کئے گئے اپنے ایک حکم نامہ میں اس یونین ٹریٹری میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کی معطلی میں مزید توسیع کرکے اس کو22جنوری تک بڑھادیا ہے۔پرنسپل سیکریٹری محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اس حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو اس بات کے خدشات ہیں کہ پاکستان کی جانب سے افراتفری کی کوششوں میں اضافہ کرنے کے علاوہ عسکری صفوںمیں نوجوانوں کی بھرتی اوردراندازی کی کوششیںبھی ہونگی۔پرنسپل سیکریٹری محکمہ داخلہ کے مطابق جنگجویانہ سرگرمیاں جاری ہیں،ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پر حالیہ دراندازی کی کوششیں اور اسلحہ کی برآمدگی اس کا ثبوت ہے، لہٰذا ناگزیر ہے کہ موبائل انٹرنیٹ سروس کی رفتار پر بندشیں جاری رکھی جائیں۔  انٹرنیٹ رفتار پر قدغن کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے اکثر وبیشتر ایسے جواز پیش کئے جارہے ہیں ،جو غی

سڑکوں کی تعمیر…منصوبہ بندی اور تال میل کا فقدان کیوں؟

جدید دور میں سڑکوں اور شاہرائوں کو ترقی کی شہ رگ کہا جارہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک خصوصی پروگرام کے تحت مرکزی حکومت نے ملک کے تمام دیہات کوسڑکوں سے جوڑنے کا بھیڑا اٹھا رکھا ہے اور اس ضمن میں ملک کی دیگر ریاستوں سمیت جموں و کشمیر میں بھی بڑے پیمانے پر نئی سڑکیں تعمیر کی جارہی ہیں تاہم پہلے سے ہی موجود سڑکوں کا حال بے حال ہے ۔ سرینگر اور جموں شہروں کی بیشتر سڑکیں ویران ہوچکی ہیں اور معمولی بارشوں و برف باری کے بعد یہ سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرتی ہیں ۔آخر کیا وجہ ہے کہ ایک سال کے اندر اندر ہی سڑکوں کی حالت اتنی خستہ ہوگئی حالانکہ گزشتہ برس سے 30/30کروڑ روپے کی لاگت سے جموں اور سرینگر شہر کی  بیشترسڑکوں کو میکڈیمائز کیا گیاتھا۔سڑکوں کی اس خستہ حالت کیلئے گوکہ غیر معیاری مٹیریل کے استعمال کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے لیکن صرف غیر معیاری مٹیریل کا استعمال ہی اکیلے اس صورتحال کیلئے ذمہ

محکمہ بجلی … نجکاری کی جانب سفر جاری؟

 محکمہ بجلی کو غیر متمرکز کرنے کے سرکاری فیصلہ کے خلاف بجلی ملازمین اور عوامی حلقوں میں مسلسل اضطراب پایا جارہا ہے اور اس عمل کو محکمہ بجلی کی نجکاری کے منصوبے سے تعبیر کیاجارہا ہے ۔گوکہ محکمہ بجلی کے نزدیک یہ ایک قانونی ضرورت ہے اور اس کے نتیجہ میں صارفین سے آمدن کی وصولی میں آسانی پیدا ہوگی تاہم جانکار حلقوں کے نزدیک یہ محکمہ کو نجی ہاتھوں میں دینے کی کوشش ہے اور اس کا واحد مقصدشدید ترین خسارے سے دوچار محکمہ بجلی کو خسارے سے نکال کر منافع کی راہ پر ڈالنا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جموں وکشمیر الیکٹرسٹی ایکٹ 2010کے تحت محکمہ کی غیر متمرکزیت لازمی بن چکی تھی کیونکہ اس قانون کی روسے محکمہ کو تین الگ الگ حصوں تقسیم کرنا تھا جن میں پیداواری ،ترسیلی اور تقسیمی شعبہ جات شامل ہیں ۔اس ضمن میں پیداواری شعبہ کو پہلے ہی محکمہ سے الگ کرکے ایک کارپوریشن کی شکل دی گئی ہے اور اس کے بعد ترسیلی

سماج کا تانا بانا بکھر کیوں رہا ہے !

  گوکہ 5اگست 2019کے بعد کشمیر کا سیاسی نقشہ بدل چکا ہے اور یونین ٹریٹری کی صورت میں عوامی حکومت کی عدم موجودگی میں لیفٹنٹ گورنر سرکارچلا رہے ہیں تاہم اس سیاسی بحث سے قطع نظر وادی میںکورونا وباء کے باوجود گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران سماجی سطح پر ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن کی وجہ سے اس سماج کے کھوکھلے ہونے کی تصدیق ہوجاتی ہے ۔ جس طرح صنف نازک کے ساتھ ہوئی زیادتیوں کی المناک کہانیاں اخبارات میں شائع ہورہی ہیں،انہوں نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ اخلاقی انحطاط طوفان کی تیزی کے ساتھ ہمارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔بے راہ روی ،بد اخلاقی ،بے ایمانی ،رشوت خوری اور کنبہ پروری نے لوگوں سے غلط اور صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اجتماعی حس نام کی چیز ہی جیسے عنقا ہوگئی ہے اور لوگوں کی اکثر یت اس تشویشناک صورتحال سے بالکل بے پرواہ ہے۔ ایک وقت تھا جب یہی قوم اپن

برفباری اورمکرّر تجربہ

 رواں موسم کی اب تک کی سب سے بڑی برفباری کی وجہ سے وادی میں ایک بار پھر نظام ِزندگی تقریباً تھم کررہ گیااور آخری اطلاعات ملنے تک اس برف باری کی وجہ سے وادی کے یمین و یسار میں تباہی مچ گئی ہے ۔وادی کا بیرونی دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ مسلسل مسدو د ہے کیونکہ جہاںجموں سرینگر قومی شاہراہ مسلسل بند پڑی ہوئی ہے وہیں سرینگر ایئرپورٹ پر مسلسل تیسرے روز نہ کوئی پرواز لینڈ کرسکی اور نہ ہی کوئی پروا زاُڑان بھرسکی۔بھاری برف باری کی وجہ سے معمولات ٹھپ ہیں اور گوکہ انتظامیہ اپنی طرف سے عوام کو ہر ممکن راحت پہنچانے کی کوشش کررہی ہے تاہم مسلسل برف باری حکومتی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔اتنے بڑے پیمانے پر برف با ری کے باوجود بھی یہ امر اطمینان بخش ہے کہ انتظامی مشینری نے تقریباًسبھی اہم شاہرائوں کو کھلا رکھا ہے اور بجلی کا نظام بھی کسی حد تک سالم ہی ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ دیہی علاقوں میں بجلی ک

کورونا : ویکسین آنے تک احتیاط ہی علاج ہے

 دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر شروع ہوچکی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ یہ لہر پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کورونا معاملات میں ایک بار پھر اضافہ کو دیکھتے ہوئے نئے سرے سے جزوی اور مکمل لاک ڈائون کا نفاذ عمل میں لایاجارہا ہے جس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ عالمی معیشت میں مزید تنزلی آسکتی ہے کیونکہ کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیوں میں مزید ٹھہرائو فطری ہے ۔ہمارے یہاں صورتحال اگر چہ قدرے بہتر ہے تاہم کورونا کی دوسری سٹرین سے متاثرہ ایسے افراد سامنے آرہے ہیں جو یورپ یا برطانیہ سے حالیہ ایام میں واپس وطن لوٹ چکے تھے ۔اس بات سے بھی انکار نہیںہے کہ یہاں ابھی کورونا کی پہلی لہر رفتہ رفتہ تھم رہی ہے اور کورونا معاملا ت میں بتدریج کمی واقع ہورہی ہے تاہم معیشت کا پہیہ ابھی بھی پوری طرح بحال نہیں ہوچکا ہے اور اقتصادی سرگرمیاں بدستور متاثر ہ

بَم و بارُود سے کبھی توبہ تو کیجئے

 ایک ایسے وقت جب پوری دنیا کورونا وائرس کی وباء سے جوجھ رہی ہے اور اس کو قابو کرنے کے جتن کررہی ہے،ہمارے یہاں دشمنیاں ختم ہونے کا نام لے رہی ہیں۔منقسم جموںوکشمیر کی سرحدیں مسلسل آگ اُگل رہی ہیں۔خود وادی کشمیر کے اندر بھی مسلح تصادم آرائیوں کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔جمعہ کو ہی راجوری کے نوشہرہ سیکٹرمیںگولہ باری کے دوران ایک فوجی ماراگیا جبکہ کل ہی جموںصوبہ کے کئی سیکٹر وں میں آتشیں گولہ باری چل رہی تھی جس کے نتیجہ میںکئی مکانوںکو نقصان پہنچنے کے علاوہ چند ایک لوگ زخمی بھی ہوگئے ہیں۔ کل ملا کر صورتحال یہ ہے کہ جموںوکشمیر کے باسیوں کو شاید ہی ایسا کوئی دن نصیب ہوتا ہے جب وہ پیر پسار کر سو سکیں۔ موجودہ جاں گسل حالات میں یہ دردناک صورتحال مزیدسنگین بن چکی ہے کیونکہ ایک طرف کورونا ہے تو دوسری جانب بھارت اور پاکستان کی دشمنی، جو اب جموںوکشمیر کے عوام کیلئے وبال جان