اراضی قوانین کے خلاف پی ڈی پی وپنتھرز پارٹی کا احتجاج | آبادیاتی تبدیلی، ثقافتی کٹاؤ کے مقامی لوگوں میں خوف

جموں// پی ڈی پی اور جموں وکشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی نے بدھ کے روز جموں و کشمیر میں اراضی قوانین کے نفاذ کے خلاف الگ الگ مظاہرے کئے۔پی ڈی پی کے جنرل سکریٹری اور سابق ایم ایل سی سریندر چودھری کی سربراہی میںکارکنان گاندھی نگر دفتر کے باہر جمع ہوئے اور نئے اراضی قوانین کے خلاف نعرے لگائے اور اسے’کالا قانون‘قرار دیا۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ باہر والے جموں میں زمین خریدیں گے اور اس سے مقامی لوگوں کے لئے صورتحال مشکل ہوجائے گی۔ ریلی کی شکل میں مظاہرین نے گاڑیوں کی آمدورفت کو روکنے کے لئے مین روڈ کے ذریعہ ڈویژنل کمشنر کے دفتر کی طرف مارچ کیا تاہم پولیس نے انہیں روک لیا۔ احتجاج پرامن طور پر ختم ہوا۔اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے سریندر چوہدری نے کہا’’یہ ہماری الگ ثقافتی اور لسانی شناخت پر واضح حملہ ہے، جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مسمار کرنے کے بعد مقامی نوجوانوں کے روزگار

کیا گپکار بنگلے فروخت پرہیں؟ | زرعی قوانین کی مخالفت ناراض عناصر کر رہے ہیں: ڈاکٹر جتیندر

نئی دہلی//یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ جموں و کشمیر اراضی قوانین کی مخالفت ناراض عناصر کر رہے ہیں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ معاملہ ان لوگوں کے ذریعہ اٹھایا جارہا ہے جن کا ووٹ بینک خطرہ محسوس کررہا ہے۔قومی ٹی وی چینلز پر انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس نوٹیفکیشن کو خوش آئند اقدام قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ اس سے جموں و کشمیر کی معیشت کو تقویت ملے گی اور ساتھ ہی اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کے انتظامات نے بیرونی لوگوں کے لئے بھی ایک ذہنی رکاوٹ پیدا کردی جس سے سرمایہ کاری نہ ہوسکی ۔اس الزام کے جواب میں کہ’جموں وکشمیر فروخت پر ہے‘، ڈاکٹر  سنگھ نے کہا’’کیا باہر سے لوگ آکر جموں و کشمیر میں بنگلے اور جائیدادیں خریدیں گے اور گپکار روڈ کے رہائشیوں کے بنگلے باہر سے کسی کے قبضہ میں لئے جائیں گے&lsq

ایس آر او 202 کے تحت تقرر شدہ ملازمین

جموں// محکمہ عمومی انتظامی(جی اے ڈی) نے واضح کیا ہے کہ ایس آر او 202 کے تحت تقرر کردہ ملازمین سالانہ انکریمنٹ اور دیگر الاؤنسز کے مستحق نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ 2 سال کی مدت مکمل نہ کرلیں۔جی اے ڈی کے مطابق ’’یہ بات حکومت کے علم میں آئی ہے کہ ایسے ملازمین کے سلسلے میں تنخواہ طے کرنے اور سالانہ اضافے کی گرانٹ کے حوالے سے کوئی واضح وضاحت نہیں ‘‘۔شقوں کے حوالے سے جی اے ڈی نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر خصوصی بھرتی (ترمیمی) قواعد 2020 میں یکم جولائی 2020 سے پہلے کی جانے والی ترامیم کے نتیجے میں’کوئی مالی فائدہ نہیں‘ہوا۔یکم جولائی 2020 سے پہلے ان قواعد کے تحت جو بھی فرد بھرتی ہوا ہے اس پر  8، 9 اور 10 کی دفعات ہوں گی جیسا کہ جموں و کشمیر خصوصی بھرتی (ترمیمی) قواعد 2020 میں یکم جولائی 2020 سے پہلے ترمیم کی گئی ہے۔جی اے ڈی کے مطابق’’ایسے افراد

تازہ ترین